اصلاح کی گزارش۔ غزل

منذر رضا — جولائی 27، 2019 7:08 صبح
السلام علیکم، اساتذہ سے اصلاح کی درخواست ہے
الف عین
سید عاطف علی
محمد خلیل الرحمٰن
ترے جمال کی آتش میں جل رہے ہیں ہم
غذائے سوزِ نہانی پہ پل رہے ہیں ہم
ہمیں تو چاند کی مانند یاں چمکنا تھا
مگر یہ کیا کہ سرِ شام ڈھل رہے ہیں ہم
ترے فراق میں حالت ہماری ایسی یے
کہ دل کو ہاتھ میں لے کر مسل رہے ہیں ہم
نگاہِ مست سے پھر ہم کو مست کر ساقی!
کہ دھیرے دھیرے نشے سے سنبھل رہے ہیں ہم
سپردگی کی یہ منزل ہمیں مبارک ہو
کہ آج اپنی انا کو کچل رہے ہیں ہم
بوقتِ مرگ یہ حالت ہماری دیکھ ذرا
غذائے زیست کے لقمے اگل رہے ہیں ہم
شکریہ!
الف عین — جولائی 27، 2019 7:18 صبح
اچھی غزل ہے
بس دو اشعار کے بارے میں کچھ کہوں گا
ہمیں تو چاند کی مانند یاں چمکنا تھا
مگر یہ کیا کہ سرِ شام ڈھل رہے ہیں ہم
یاں واں متروک ہیں آج کل اور رواں بھی نہیں
ہمیں تو چاند کی صورت یہاں....
کر دو
سپردگی کی یہ منزل ہمیں مبارک ہو
کہ آج اپنی انا کو کچل رہے ہیں ہم
... مبارک کیوں ہو؟ اس کی وضاحت نہیں
منذر رضا — جولائی 27، 2019 7:26 صبح
شکریہ الف عین صاحب۔
انا والا شعر اگر یوں کر دیا جائے
کسی کے عشق میں ہوش و حواس کھو چکے ہیں
کہ آج اپنی انا کو کچل رہے ہیں ہم
یہ ٹھیک ہے؟
الف عین — جولائی 28، 2019 6:19 صبح
ہوش و حواس کھونے کا ربط بھی انا کچلنے سے سمجھ میں نہیں آتا

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD-%DA%A9%DB%8C-%DA%AF%D8%B2%D8%A7%D8%B1%D8%B4%DB%94-%D8%BA%D8%B2%D9%84.107817/