تمام اُساتزہ کرام کو سلامَ عاجزانہ قبول ہو،
میں نے کوشش کی کہ کچھ لکھا جائے میںنے لکھا،
اب آپ سب نے بتانا ہے کہ کےا خامی ہے کہاں پہ،
مجھے وزن اور بہر کا کچھ پتہ نہیں یہ بھی آپ نے ہی سمجھانا ہے امید کرتا ہوں کہ آپ مجھے خوش آمدید کہیںگے اور دل و جاں سے میری اصلاح کریں گے ہمیں آتا تھا کیا سے کیا نظر کچھ روز پہلے تک
بہت آسان لگتا تھا سفر کچھ روز پہلے تک نہ تھا زہرِ جدائی کا اثر کچھ روز پہلے تک
نہ دِل میں درد نہ زخمِ جگر کچھ روز پہلے تک نہ ایسا ظلم تھا نہ یہ جبر کچھ روز ہہلے تک
بہت پر امن تھا میرا نگر کچھ روز پہلے تک وہ جس کی آنکھ میں زہرِ عداوت آج دیکھا ہے
وہی تو جان تھا میری مگر کچھ روز پہلے تک بہت ہی پر سکوں تھا میں ہنسی میںگمشدہ ہستی
نہ لہجا خشک نہ زیر و زبر کچھ روز پہلے تک نظر جس سے ملانا اُس کو گرویدہ بنا لینا
ھمیںآتا تھا ایسا بھی ہنر کچھ روز پہلے تک جہاںکی دھوپ سے عمران کو محفوظ رکھتے تھے
تمہاری یاد کے گہرے شجر کچھ روز پہلے تک
فرخ منظور — اگست 21، 2009 10:14 صبح
اردو محفل میں خوش آمدید عمران صاحب۔ بہت اچھی غزل ہے عمران صاحب۔ اوزان کے بارے میں تو اساتذہ ہی بہتر بتا سکیں گے لیکن آپ کی غزل میں املا کی چند غلطیاں ہیں۔ انہیں اگر درست کر لیں تو زیادہ خوبصورت لگے۔
مغزل — اگست 21، 2009 10:37 صبح
رسید حاضر ہے جناب ، عمران نیازی صاحب
الف عین — اگست 21، 2009 11:48 صبح
ایک ہی شعر میں تو کچھ غلطی ہے شاید۔ بلکہ مصرع میں
نہ لہجا خشک نہ زیر و زبر کچھ روز پہلے تک
ویسے ایک جگہ ’پہلے‘ میں بھی کچھ گڑبڑ ہے، لیکن ردیف کی وجہ سے سمجھ میں آتی ہے۔
عمران میاں۔ پہلے تو خوش آمدید کہا جائے یہاں۔
اس کے بعد یہ کہ بحر (بہر نہیں( سے یا عروض سے واقفیت ضروری نہیں، لیکن ایک چیز ہوتی ہے موزونیت۔ وہ آپ میں بدرجہ تمام موجود ہے۔ کہ دونوں غزلوں میں کہیں ساقط نہیں ہوئے ہیں اوزان۔
’نہ‘ کو بطور ’نا‘ یا "فع" استعمال کرنا مجھ جیسے ’ثقہ‘ شاعر جائز قرار نہیں دیتے، لیکن محفل کے ہی دوسرے اصل عروضی استاد اس کو جائز سمجھتے ہیں، اس لئے میں بھی اس سے در گزر کر رہا ہوں۔
البتہ ’جبر‘ میں ب بالسکون ہے یا جزم۔ بر وزن فعل، آپ نے متحرک باندھا ہے۔ یہ تلفظ غلط ہے۔
وہ جس کی آنکھ میں زہرِ عداوت آج دیکھا ہے
وہی تو جان تھا میری مگر کچھ روز پہلے تک
میں ’میری مگر‘ اچھا نہیں لگ رہا۔ قافئے کی مجبوری میں ’مگر‘ تو ضروری ہے، اس لئے ’جان تھا میری ‘ کو بدل دیں۔
شاہ حسین — اگست 21، 2009 12:09 شام
اردو محفل میں خوش آمدید جناب عمران صاحب ۔ بہت خوب جناب اچھی کاوش ہے
دوست — اگست 21، 2009 3:08 شام
واہ جی واہ بہت اچھی غزل اور وزن میں بھی۔ سبحان اللہ۔ مبارکباد قبول کیجیے اور محفل پر خوش آمدید۔
خرم شہزاد خرم — اگست 21، 2009 3:16 شام
عمران صاحب اب آپ ایک ایسی جگہ پر پہنچ آ چکے ہیں جہاں سے آپ کا جانے کو دل ہی نہیں کرے گا اور انشاءاللہ یہاں آپ کو بہت کچھ سیکھنے کو ملے گا استادِ محترم ایک حیران کن بات بتاوں جس کو پڑھ کر آپ ہو سکتے ہیں ہنسے ۔ یہ عمران صاحب مجھ نالائق سے اصلاح لیا کرتے تھے فون کر کے میں نے بہت دفعہ یہ راستہ دیکھایا لیں ہر دفعہ نہیں آ سکے اس دفعہ تو کان پکڑ کر لایا ہوں ۔
فاتح — اگست 21، 2009 3:25 شام
خوبصورت غزل ہے عمران نیازی صاحب۔ مبارک باد قبول کیجیے۔ اعجاز اختر (الف عین) صاحب کی نشان دہی کے بعد محض اس غزل کی بحر کے متعلق آپ کا سوال بچتا ہے سو عرض ہے کہ اس بحر کو "ہزج" کہا جاتا ہے یعنی رکن "مفاعیلن" کی تکرار اور چونکہ کُل ملا کر ایک شعر کے دونوں مصرعوں میں آٹھ مرتبہ یہ رکن استعمال ہوا ہے لہٰذا یہ بحر "مثمن" ہے۔ بحر ہزج مثمن
مُفَاعِیلُن - مُفَاعِیلُن - مُفَاعِیلُن - مُفَاعِیلُن
ہمے آتا - تَ کا سِ کا - نظر کچ رو - ز پہلے تک
ہمیں آتا تھا کیا سے کیا نظر کچھ روز پہلے تک
فاتح — اگست 21، 2009 4:09 شام
اعجاز صاحب! اگر "نہ" کو بطور سبب ثقیل استعمال کرنے پر آپ درگزر فرما رہے ہیں تب درج ذیل مصرع میں کیا خامی ہے؟
نہ لہجا خشک نہ زیر و زبر کچھ روز پہلے تک مُفَاعِیلُن - مُفَاعِیلُن - مُفَاعِیلُن - مُفَاعِیلُن
نَ لہجہ خُش - ک نا زیر و - زبر کُچ رو - ز پہلے تک
محمد وارث — اگست 21، 2009 4:23 شام
اردو محفل پر خوش آمدید عمران نیازی صاحب، خوشی ہوئی آپ کو یہاں دیکھ کر۔ غزل بہت اچھی ہے آپ کی، امید لکھتے رہیں گے اور یہاں پوسٹ کرتے رہیں گے
ایم اے راجا — اگست 21، 2009 4:24 شام
عمران صاحب السلام علیکم اور خوش آمدید آپ سے غائبانہ تعارف تو ہے " برگِ سخن" کے حوالہ سے، اچھی غزل ہے اللہ کرے زورِ قلم اور زیادہ۔
الف عین — اگست 21، 2009 6:34 شام
اوہو تو یہ ل ہ ج ہ تھا، میری سمجھ میں نہ آیا۔ میں نستعلیق فانٹ میں دیکھتا ہوں تو اس کو پڑھ نہ سکا۔ اس مصرع میں بھی کوئی گڑبڑ نہیں ہے پھر تو۔ البتہ شعر میں تب بھی ذرا ایک کسر ہے۔ زیر و زبر لہجہ نہیں ہوتا، آپ خود ہوتے ہیں۔ ویسے شعر اتنا اچھا بھی نہیں کہ محنت کی جائے۔ اس کو نکالا جا سکتا ہے۔
بہت بہت شکریہ بابا جانی ، فاتح بھائی ، ۔۔۔ خاصی تفصیل سے یہ مرحلہ طے ہوا، بہت شکریہ
عمران نیازی صاحب غزل پر ایک بار پھر مبارکباد قبول کیجے ، ۔۔ سدا سلامت رہیں صاحب ،
اللہ کرے زورِ قلم ، مشقِ سخن تیز ( خرم کی شاگردی سے توبہ بھی لگے ہاتھوں کرہی لیجے )
ہاہاہ ۔۔ دیکھا صاحب ،۔ ہنڈیا بیچ چوراہے پھوٹی ہے ،
ہمیں’’ استاد ‘‘ کے دشنام سے نوازنے والے نے آج خود چوغہ اتار دیا،
وہ کیا کہتے ہیں اس موقع پر یعنی کی ’’ دھت تیرے کی ‘‘ ۔،۔۔ ار ے نہیں، یادآیا،
ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ، ۔۔۔۔۔ بھئی خرم بڑے ‘‘ استاد ’’ آدمی ہو یار۔۔
اوہو تو یہ ل ہ ج ہ تھا، میری سمجھ میں نہ آیا۔ میں نستعلیق فانٹ میں دیکھتا ہوں تو اس کو پڑھ نہ سکا۔ اس مصرع میں بھی کوئی گڑبڑ نہیں ہے پھر تو۔ البتہ شعر میں تب بھی ذرا ایک کسر ہے۔ زیر و زبر لہجہ نہیں ہوتا، آپ خود ہوتے ہیں۔ ویسے شعر اتنا اچھا بھی نہیں کہ محنت کی جائے۔ اس کو نکالا جا سکتا ہے۔
اُستادِ محترم میںنے بھی وہی لکھنا چا ھا جو آپ کہہ رہے ہیں یعنی لہجہ خشک اور زیر و زبر میںخود لیکن میرے خیال میںمجھ سے کو ئی کمی رہ گئی ہے اسے علیہدہ کرنے میں،
تو جیسا آپ ارشاد فرمایئں میںاِس کو ضائع کر دیتا ہوں
بہت بہت شکریہ بابا جانی ، فاتح بھائی ، ۔۔۔ خاصی تفصیل سے یہ مرحلہ طے ہوا، بہت شکریہ
عمران نیازی صاحب غزل پر ایک بار پھر مبارکباد قبول کیجے ، ۔۔ سدا سلامت رہیں صاحب ،
اللہ کرے زورِ قلم ، مشقِ سخن تیز ( خرم کی شاگردی سے توبہ بھی لگے ہاتھوں کرہی لیجے )
ہاہاہ ۔۔ دیکھا صاحب ،۔ ہنڈیا بیچ چوراہے پھوٹی ہے ،
ہمیں’’ استاد ‘‘ کے دشنام سے نوازنے والے نے آج خود چوغہ اتار دیا،
وہ کیا کہتے ہیں اس موقع پر یعنی کی ’’ دھت تیرے کی ‘‘ ۔،۔۔ ار ے نہیں، یادآیا،
ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ، ۔۔۔۔۔ بھئی خرم بڑے ‘‘ استاد ’’ آدمی ہو یار۔۔
جس نے ایک لفظ بھی سکھایا وہ استاد تو ہے ہی تو میںکیسے خرم بھائی کی شاگردی سے توبہ کر سکتا ہوںجی ؟؟؟ اتنی قیمتی دُعا کے لیئے بہت بہت نوازش
واقعی اِس محفل میںشامل ہوتے ہی پتا چل گےا کہ میںنے وقعی کافی دیر بعد خرم بھائی کی بات مانی
بہت بہت شکریہ تمام اساتزہ محترم کا اور سب دوستوںکا بھی،
بہت ہی خوشی ہوئی آپ سب کے جوابات ، مشورے ، اصلاحات سے مستفید ہو کر،،،،،
جناب بہت شکریہ یاد رکھنے کے لیئے،
اور میںنے تو اپنا کام پوری ایمانداری سے مکمل کر ک محفوظ رکھا ہوا ہے
لیکن خرم بھائی کے پردیسی ہونے اور مصروفیت کی وجہ سے آپ کو دے سکا
تو جب بھی آپ کہیں میںآپ کو ارسال کر دوں گا
بہت بہت شکریہ بابا جانی ، فاتح بھائی ، ۔۔۔ خاصی تفصیل سے یہ مرحلہ طے ہوا، بہت شکریہ
عمران نیازی صاحب غزل پر ایک بار پھر مبارکباد قبول کیجے ، ۔۔ سدا سلامت رہیں صاحب ،
اللہ کرے زورِ قلم ، مشقِ سخن تیز ( خرم کی شاگردی سے توبہ بھی لگے ہاتھوں کرہی لیجے )
ہاہاہ ۔۔ دیکھا صاحب ،۔ ہنڈیا بیچ چوراہے پھوٹی ہے ،
ہمیں’’ استاد ‘‘ کے دشنام سے نوازنے والے نے آج خود چوغہ اتار دیا،
وہ کیا کہتے ہیں اس موقع پر یعنی کی ’’ دھت تیرے کی ‘‘ ۔،۔۔ ار ے نہیں، یادآیا،
ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ، ۔۔۔۔۔ بھئی خرم بڑے ‘‘ استاد ’’ آدمی ہو یار۔۔