اصلاح کے لئے ۔۔۔۔۔۔۔۔ کل اور آج

loneliness4ever — مئی 3، 2015 11:13 صبح
السلام علیکم
امید ہے اہل علم فقیر پر عنایت فرمائیں گے


میں اور تو

یعنی کہ
کل اور آج
مطلب
بوڑھا اور جوان

فعْلن فَعِلن فعْلن فعْلن
جو بھول گئے وہ قصہ ہوں
میں یاد نگر میں رہتا ہوں
تُو وقت کا بہتا دھارا ہے
میں وقت کا گزرا حصہ ہوں
تُو حال کا جھوٹا قصہ ہے
میں آج بھی سچا سپنا ہوں
تُو آج کا سب سے اچھا ہے
میں آج بھی تجھ سے اچھا ہوں
تُو سب سے جدا ہے قطروں سا
میں آج بھی بہتا دریا ہوں
تُو کل پہ زماں جو ہنستا ہے
میں آج پہ تیرے روتا ہوں
تُو آج کا چڑھتا سورج ہے
میں کب سے فلک کا حصہ ہوں

س ن مخمور​
ادب دوست — مئی 3، 2015 11:35 صبح
جو بھول گئے وہ قصہ ہوں
میں یاد نگر میں رہتا ہوں
تُو وقت کا بہتا دھارا ہے
میں وقت کا گزرا حصہ ہوں
تُو حال کا جھوٹا قصہ ہے
میں آج بھی سچا سپنا ہوں
فاروق احمد بھٹی — مئی 3، 2015 1:13 شام
کیا کہنے مخمور بھائی عمدہ نظم ۔ اب اصلاحی نظر تو اساتذہ ہی فرما سکتے ہیں۔
الف عین — مئی 4، 2015 11:52 صبح
باقی تو درست ہے، ان کو دیکھو ایک بار پھر
تُو آج کا سب سے اچھا ہے
میں آج بھی تجھ سے اچھا ہوں
۔۔جو بات کہنا چاہتے ہو، وہ مکمل ادا نہیں ہوئی۔
تُو سب سے جدا ہے قطروں سا
میں آج بھی بہتا دریا ہوں
÷÷کیا مراد یہ ہے کہ آج کے نوجواان ایک دوسرے سے مل کر نہیں رہتے؟ یہ بھی عجز بیان کا شکار ہے،
تُو کل پہ زماں جو ہنستا ہے
میں آج پہ تیرے روتا ہوں
÷÷واضح نہیں ہوا۔ زماں جو‘ کی جگہ ’زمانہ‘ لایا جا سکے تو بہتر ہو۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD-%DA%A9%DB%92-%D9%84%D8%A6%DB%92-%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94-%DA%A9%D9%84-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%A2%D8%AC.81718/