اصلاح کے لیے ایک غزل پیش خدمت ہے۔

Abbas Swabian — مئی 24، 2017 6:13 شام
بے بسی میں جو حال ہوتا ہے
ہائے جینا محال ہوتا ہے
خوشی کے سال دوڑتے ہیں پر
دکھ کا لمحہ بھی سال ہوتا ہے
قدر کرتے نہیں کسی کی جو
ان سے ملنا وبال ہوتا ہے
حال کب ایک سا ہمیشہ ہے
سب پہ لازم زوال ہوتا ہے
لوگ جب رابطہ نہیں رکھتے
رب سے تب بھی بحال ہوتا ہے
وقت رکنے کی ہوتی ہے آرزو
تم سے جب بھی وصال ہوتا ہے
یوں تو عباس بے بسی میں ہی
شعر کہنا کمال ہوتا ہے
الف عین — مئی 25، 2017 6:37 صبح
خوشی کے سال والا خیال خوب ہے لیکن بیان اچھا نہیں۔
آرزو فاعلن ہونا چاہیے فعلن نہیں۔ یہ مصرع یوں بہتر ہو گا
چاہتا ہوں کہ وقت رک جائے
Abbas Swabian — مئی 25، 2017 7:12 صبح
خوشی کے سال والا خیال خوب ہے لیکن بیان اچھا نہیں۔
آرزو فاعلن ہونا چاہیے فعلن نہیں۔ یہ مصرع یوں بہتر ہو گا
چاہتا ہوں کہ وقت رک جائے
بہت شکریہ سر جی۔
باقی اشعار ٹھیک ہیں؟
اور خوشی کے سال والا شعر کیسا ہونا چاہیے سر
الف عین — مئی 26، 2017 4:25 صبح
سال خوشیوں کے بھاگتے ہیں مگر
دکھ کا اک پل بھی سال ہوتا ہے

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD-%DA%A9%DB%92-%D9%84%DB%8C%DB%92-%D8%A7%DB%8C%DA%A9-%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D9%BE%DB%8C%D8%B4-%D8%AE%D8%AF%D9%85%D8%AA-%DB%81%DB%92%DB%94.96710/