اصلاح کے لیے غزل پیش ہے

من — جولائی 12، 2016 7:12 شام
غم جاناں کی صورت میں کوئی ذندان رکھا ہے
مری بنجر نگاہوں میں چھپا طوفان رکھا ہے
پھٹی یادوں کی تصویریں ہیں کچھ ماضی کے پردے ہیں
جلا ڈالو یہ گھر بوسیدہ سا کچھ سامان رکھا ہے
جدای کی گھٹن محسوس ہوتی ہے مگر جاناں
ہوا کے واسطے ہم نے در امکان رکھا ہے
جو تحفے میں دیے غم اپ نے ہم کو دم رخصت
انہی کا نام ہم نے اب متاع جان رکھا ہے
کہا تھا لوٹ کر واپس میں اؤں تو سجا رکھنا
ابھی تک اپکی خاطر یہ گھر ویران رکھا ہے
محمد تابش صدیقی — جولائی 12، 2016 7:18 شام
اس مصرع میں کچھ گڑبڑ محسوس ہو رہی ہے.
جلا ڈالو یہ گھر بوسیدہ سا کچھ سامان رکھا ہے
من — جولائی 12، 2016 7:20 شام
اس مصرع میں کچھ گڑبڑ محسوس ہو رہی ہے.
جی بوسیدہ پہ کچھ سکتہ ہے وزن ہل رہا ہے
من — جولائی 12، 2016 7:26 شام
اس مصرع میں کچھ گڑبڑ محسوس ہو رہی ہے.
کیا کچھ تصحیح ہو سکتی ہے؟
حسن محمود جماعتی — جولائی 12، 2016 7:33 شام
جلا ڈالو یہ گھر بوسیدہ سا کچھ سامان رکھا ہے
جلا ڈالو یہ گھر، بوسیدہ کچھ سامان رکھا ہے
وقفہ کوما سے دیں اور سا نکال کر دیکھیں باقی تو اساتذہ ہی بتائیں گے، وزن بحر اور تقطیع کے حوالے سے
من — جولائی 12، 2016 7:45 شام
جلا ڈالو یہ گھر، بوسیدہ کچھ سامان رکھا ہے
وقفہ کوما سے دیں اور سا نکال کر دیکھیں باقی تو اساتذہ ہی بتائیں گے، وزن بحر اور تقطیع کے حوالے سے
جزاک اللہ بہت بہت شکریہ
La Alma — جولائی 12، 2016 9:10 شام
اچھی ہے ...
"پھٹی یادوں کی تصویریں ہیں کچھ ماضی کے پردے ہیں "
اس مصرع کو آپ دوبارہ دیکھ لیں . تاثر یوں ملتا ہے کہ جیسے یادیں پھٹی ہوئی ہیں .یہاں پر شاید پھٹی تصویریں مقصود ہیں .
حسن محمود جماعتی — جولائی 12، 2016 9:12 شام
اچھی ہے ...
"پھٹی یادوں کی تصویریں ہیں کچھ ماضی کے پردے ہیں "
اس مصرع کو آپ دوبارہ دیکھ لیں . تاثر یوں ملتا ہے کہ جیسے یادیں پھٹی ہوئی ہیں .یہاں پر شاید پھٹی تصویریں مقصود ہیں .
یادوں کی تصویریں پٹھی ہوئی ہیں۔۔۔
من — جولائی 13، 2016 7:20 صبح
یادوں کی تصویریں پٹھی ہوئی ہیں۔۔۔
پھٹی تصویریں ہیں ماضی کی کچھ دیمک زدہ یادیں
جلا ڈالو یہ گھر بوسیدہ'کچھ سامان رکھا ہے
کچھ اس طرح کیا؟ کیا یہ درست ہے؟
حسن محمود جماعتی — جولائی 13، 2016 7:25 صبح
پھٹی تصویریں ہیں ماضی کی کچھ دیمک زدہ یادیں
جلا ڈالو یہ گھر بوسیدہ'کچھ سامان رکھا ہے
کچھ اس طرح کیا؟ کیا یہ درست ہے؟
عزیز من! ہم فقط قاری ہیں اور پڑھنے جو آسان لگے اس حساب سے کچھ عرض کیا تھا۔ اصلاح کیلئے الف عین محترم، محمد ریحان قریشی بھائی ہی کچھ کہیں تو بہت بہتر ہے کہ یہی اساتذہ فن ہیں۔
پھٹی تصویریں ماضی کی، ہیں کچھ دیمک زدہ یادیں۔۔۔۔
الف عین — جولائی 13، 2016 7:39 صبح
درست کی گئی ہے اصلاح۔ البہ میں ایک خامی کی طرف اور نشان دہی کر دوں۔ جو اتنی اہم نہیں۔ وہ یہ کہ ’زندان‘ کو مکمل باندھنا اچھا نہیں لگتا۔
حسن محمود جماعتی — جولائی 13، 2016 7:46 صبح
درست کی گئی ہے اصلاح۔ البہ میں ایک خامی کی طرف اور نشان دہی کر دوں۔ جو اتنی اہم نہیں۔ وہ یہ کہ ’زندان‘ کو مکمل باندھنا اچھا نہیں لگتا۔
سر اصلاح نہیں کی گئی ویسے صلاح ماری گئی ہیں آپ کی غیر موجودگی میں۔ اس گستاخی پر معذرت خواہ ہیں۔ باقی آپ اپنی رائے دے دیں تو نو آموز کے دل کی تسلی ہوجائے گی۔
حسن محمود جماعتی — جولائی 13، 2016 7:46 صبح
درست کی گئی ہے اصلاح۔ البہ میں ایک خامی کی طرف اور نشان دہی کر دوں۔ جو اتنی اہم نہیں۔ وہ یہ کہ ’زندان‘ کو مکمل باندھنا اچھا نہیں لگتا۔
سر مجھے ایسا کیوں لگ رہا ہے کہ آپ شدید احتیاط برت رہے ہیں؟؟ یہ وہی معاملہ تو نہیں؟؟
من — جولائی 13، 2016 8:19 صبح
سر مجھے ایسا کیوں لگ رہا ہے کہ آپ شدید احتیاط برت رہے ہیں؟؟ یہ وہی معاملہ تو نہیں؟؟
کوی احطیاط نا برتیں پلیز
حسن محمود جماعتی — جولائی 13، 2016 9:10 صبح
محمد ریحان قریشی ہنسو مت۔ اور انہیں صلاح دو پلیزز۔
محمد ریحان قریشی — جولائی 13، 2016 9:28 صبح
اصلاح میں کیا دوں کہ ایک عرصے سے مجھ سے ایک کام کا شعر سرزد نہیں ہوا۔ پھر بھی سیکھنے کی غرض سے کچھ عرض کر دیتا ہوں۔
جو تحفے میں دیے غم اپ نے ہم کو دم رخصت
یہ شاید یوں ہے
جو تحفے ہیں دیے غم آپ نے ہم کو دم رخصت
غم نے کیا تحفے دیے ہیں؟ اور غم کو آپ کہنا تھوڑا عجیب لگ رہا ہے۔

اس کے علاوہ ایک مشورہ ہے کہ اس بحر میں عجز بیان سے بچنے کے لیے فارسی تراکیب کا زیادہ استعمال کرنا چاہیے۔
من — جولائی 13، 2016 9:29 صبح
پھٹی تصویریں ماضی کی ہیں کچھ دیمک زدہ یادیں
جلا دو گھر یہ بوسیدہ سا کچھ سامان رکھا ہے
یہ شعر اب کچھ ایسے ہے؟؟
محمد تابش صدیقی — جولائی 13، 2016 9:31 صبح
جو تحفے ہیں دیے غم آپ نے ہم کو دم رخصت
غم نے کیا تحفے دیے ہیں؟ اور غم کو آپ کہنا تھوڑا عجیب لگ رہا ہے۔
اس کو اگر ایسے پڑھیں تو سمجھ آئے گا۔ :)
جو تحفے ہیں دیے غم، آپ نے ہم کو دم رخصت
یہاں غم نے تحفے نہیں دیے، بلکہ مخاطب نے غم تحفے میں دیے ہیں۔
من — جولائی 13، 2016 9:31 صبح
اصلاح میں کیا دوں کہ ایک عرصے سے مجھ سے ایک کام کا شعر سرزد نہیں ہوا۔ پھر بھی سیکھنے کی غرض سے کچھ عرض کر دیتا ہوں۔
جو تحفے میں دیے غم اپ نے ہم کو دم رخصت
یہ شاید یوں ہے
جو تحفے ہیں دیے غم آپ نے ہم کو دم رخصت
غم نے کیا تحفے دیے ہیں؟ اور غم کو آپ کہنا تھوڑا عجیب لگ رہا ہے۔

اس کے علاوہ ایک مشورہ ہے کہ اس بحر میں عجز بیان سے بچنے کے لیے فارسی تراکیب کا زیادہ استعمال کرنا چاہیے۔
جو تحفے میں ملے غم؛ آپ سے ہم کو دم رخصت
انہی کا نام اب ہم نے متاع جان رکھا ہے
محمد ریحان قریشی — جولائی 13، 2016 9:33 صبح
اس کو اگر ایسے پڑھیں تو سمجھ آئے گا۔ :)
جو تحفے ہیں دیے غم، آپ نے ہم کو دم رخصت
یہاں غم نے تحفے نہیں دیے، بلکہ مخاطب نے غم تحفے میں دیے ہیں۔
غم کے کا محل نہیں ہے؟
خیر انھوں نے درست کر لیا ہے۔
صفحات: 1 2

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD-%DA%A9%DB%92-%D9%84%DB%8C%DB%92-%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D9%BE%DB%8C%D8%B4-%DB%81%DB%92.90925/