اصلاح کے لیے مدد درکار ہے ------ سید جاوید اقبال

سید جاوید اقبال — فروری 11، 2010 7:52 صبح
مجھے ان دو عربی اشعار کے منظوم ترجمہ کی ضرورت ہے۔ اہل فن سے مدد کی درکار ہے۔
[arabic]
طلع البدر علینا
من ثنیات الوداع
وجب الشکر علینا
ما دعیٰ للہ داع​
[/arabic]
ایک مثال درج ذیل ہے اگر اسی کی اصلاح ہو سکتی ہو تو ٹھیک ورنہ دوسری شکل پیش فرمائیں۔
چودھویں کے چاند نے ہم پر طلوع
وداع کی وادیوں سے ہے کیا
واجب ہے ہم پہ کہ بجا لائیں شکر
جب تلک مانگنے والے مانگیں دعا
سید جاوید اقبال — فروری 12، 2010 6:07 صبح
اہل فن سے رہنمائی کی درخواست ہے۔ براہ مہربانی اس جانب توجہ فرمائیے۔
مغزل — فروری 12، 2010 6:59 صبح
چاند نکلا چودہویں‌کا
ہاں وداع کی گھاٹیوں سے
شکر ہے ہم پہ واجب
مانگیے جب تک دعائیں
یہ منظوم ترجمہ پہلے ہی موجود ہے اور نعت خوانی کی محفلوں میں پڑھا بھی جاتا ہے
آپ نے جو کوشش کی اچھی ہے مگر وزن کا معاملہ ہے جس کی ذیل میں وارث صاحب اور بابا جانی سے رجوع کرتے ہیں
والسلام
فاتح — فروری 12، 2010 7:08 صبح
چاند نکلا چودہویں‌کا
ہاں وداع کی گھاٹیوں سے
شکر ہے ہم پہ واجب
مانگیے جب تک دعائیں
یہ منظوم ترجمہ پہلے ہی موجود ہے اور نعت خوانی کی محفلوں میں پڑھا بھی جاتا ہے
آپ نے جو کوشش کی اچھی ہے مگر وزن کا معاملہ ہے جس کی ذیل میں وارث صاحب اور بابا جانی سے رجوع کرتے ہیں
والسلام
جو پہلے سے موجود ہے اس میں بھی وزن کا مسئلہ ہے۔ اس کے لیے بھی رجوع کیجیے۔
ایم اے راجا — فروری 12، 2010 7:41 صبح
جی ہاں کسی نے مجھے بتایا تھا کہ پہلے والے ترجمہ میں بھی وزن کا مسئلہ موجود ہے
مغزل — فروری 12، 2010 3:39 شام
فاتح بھیا یقیناً مسئلہ ہے ، کیوں کہ یہ کسی نعت خواں نے ہی ترجمہ کیا ہے ۔۔ یاد آیا۔۔ پروفیسر عبد الرؤف روفی نے
سید جاوید اقبال — فروری 13، 2010 5:32 صبح
جناب وارث صاحب اور اعجاز انکل سے تعاون کی درخواست ہے۔
محمود احمد غزنوی — فروری 13، 2010 8:48 صبح
ہو بہو لفظی ترجمہ منظوم کرنا تو مشکل ہی ہوتا ہے۔ تھڑے بہت تغیر کے ساتھ یہ ایک حقیر سی کاوش ہے۔ ۔ ۔
اک بدرِ کامل مصطفٰے
اُن گھاٹیوں سے ماورا
ہم پر ہوئے جلوہ نما۔ ۔
اک شکر اب واجب ہوا
مانگیں خدا سے اور کیا​
باسم — فروری 13، 2010 2:38 شام
شکر ہے ہم پہ واجب
شکر ہے ہم سب پہ واجب
کیا یوں درست ہوگا؟
مغزل — فروری 13، 2010 4:35 شام
ہم کہہ دیا تو سب کی بیساکھی کی ضرورت نہ رہی ۔ کلام میں زور دینے کے لیے کہا جاسکتا ہے مگر بھرتی کا لفظ ہوگا ۔
الف عین — فروری 14، 2010 3:21 صبح
ترجمے کے لئے عربی جاننے کی ضرورت ہے۔ اس لئے یہاں محض جھانکا تھا اب تک۔ ویسے محمود کا ترجمہ بحر میں تو ہے، لیکن اس میں وداع کا نام نہیں۔ اور گھاٹیوں کی جگہ وادیوں ہی رفکھا جائے، تو درست ہوگا۔
محمود احمد غزنوی — فروری 14، 2010 4:17 صبح
ثنیتہ الوداع کا ترجمہ وداع کے ٹیلے(چھوٹی پہاڑیاں) بنتا ہے وادی درست ترجمہ نہین۔ ٹیلوں کی جگہ میں نے گھاٹیوں کا لفظ استعمال کرلیا ہے۔
الف عین — فروری 14، 2010 6:07 شام
تب تو اور بھی غلط ہے، گھاٹیاں تنگ وادیوں کو کہتے ہیں، ٹیلوں کو نہیں۔
سید جاوید اقبال — فروری 15، 2010 4:02 صبح
بندے کو دراصل ایک درسی کتاب میں ان دو اشعار کا ترجمہ دینا تھا۔ کیوں کہ ذوق شعری تک کامل رسائی نہیں ہے اس لیے اہل فن سے تعاون کی درخواست کی تھی۔
محمود صاحب کا شکریہ، لیکن مصرع وار ترجمہ کی ضرورت تھی۔
بندے نے جو اشعار لکھے تھے اگر ان کے اوزان درست ہو جائیں تو وہ کتاب اور بچوں کے اعتبار سے زیادہ مناسب ہو گا۔
چودھویں کے چاند نے ہم پر طلوع
وداع کی وادیوں سے کیا
واجب ہے ہم پہ بجا لائیں شکر
جب تلک مانگنے والے مانگیں دعا
مغزل — فروری 27، 2010 11:16 صبح
صاحب یہ وارث صاحب کا شعبہ انہیں ذپ کرکے توجہ دلائیں ۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD-%DA%A9%DB%92-%D9%84%DB%8C%DB%92-%D9%85%D8%AF%D8%AF-%D8%AF%D8%B1%DA%A9%D8%A7%D8%B1-%DB%81%DB%92-%D8%B3%DB%8C%D8%AF-%D8%AC%D8%A7%D9%88%DB%8C%D8%AF-%D8%A7%D9%82%D8%A8%D8%A7%D9%84.28463/