اصلاحِ سخن :جس کو رنج والم نے گھیرا ہے

خورشید نیر — ستمبر 3، 2019 4:29 شام
اساتذۂ اکرام سے اصلاح کی گزارش ھے
بخش دے گا جسے وہ چاہے گا
جس کو چاہے گا وہ عذاب کرے
جس کو رنج و الم نے گھیرا ہے
خواہشوں سے وہ اجتناب کرے
خود بھی اپنا حساب کر لینا
اس سے پہلے کہ وہ حساب کرے
حق و باطل ہو چکا ہے عیاں
جسے چاہے تو انتخاب کرے
زندگی ایک امتحان ہے دوست
رب تجھے اس میں کامیاب کرے
علم کہتے ہیں اس کو جو نیرؔ
پیدا ہستی میں انقلاب کرے
ارشد چوہدری — ستمبر 3، 2019 7:28 شام
بہت خوبصورت خیالات ہیں۔ تکنیکی لحاظ سے اساتذہ چیک کر لیں گے
عظیم — ستمبر 4، 2019 6:58 صبح
بخش دے گا جسے وہ چاہے گا
جس کو چاہے گا وہ عذاب کرے
۔۔۔۔'جسے وہ' میں روانی کی کمی لگ رہی ہ۔
بخش دے گا وہ جس کو چاہے گا
میرا خیال ہے کہ بہتر ہو گا
اور دوسرے میں صرف 'کرے' نہیں 'کرے گا' کی ضرورت محسوس ہو رہی ہے۔
مکمل شعرمیرا خیال ہے کہ یوں درست ہو گا
بخش دیتا ہے جس کو چاہتا ہے
چاہے جس کو بھی وہ عذاب کرے
جس کو رنج و الم نے گھیرا ہے
خواہشوں سے وہ اجتناب کرے
۔۔اچھا شعر ہے
خود بھی اپنا حساب کر لینا
اس سے پہلے کہ وہ حساب کرے
۔۔۔بہت خوب ہے، دوسرے میں 'اس سے' میں تنافر دور کرنے کے لیے
قبل اس کے کہ وہ حساب کرے
کیا جا سکتا ہے مگر اس میں بھی 'کے کہ' تنافر محسوس ہو رہا ہے
حق و باطل ہو چکا ہے عیاں
جسے چاہے تو انتخاب کرے
۔۔۔پہلے میں شاید 'تو' ٹائپ نہیں ہوا۔ مجھے لگتا ہے کہ 'یوں' ہونا چاہیے
مثلاً حق و باطل یوں ہو چکا ہے عیاں
اور دوسرا مصرع بھی
جس کا چاہے تو انتخاب کرے
ہو تو بہت خوب ہے
زندگی ایک امتحان ہے دوست
رب تجھے اس میں کامیاب کرے
۔۔واہ!
علم کہتے ہیں اس کو جو نیرؔ
پیدا ہستی میں انقلاب کرے
۔۔۔بہت اچھا لگا یہ شعر بھی
خورشید نیر — ستمبر 4، 2019 8:24 صبح
شکریہ عظیم صاحب مشورے کیلئے
محمد خلیل الرحمٰن — ستمبر 4، 2019 8:29 صبح
بخش دے گا جسے وہ چاہے گا
جس کو چاہے گا وہ عذاب کرے
۔۔۔۔'جسے وہ' میں روانی کی کمی لگ رہی ہ۔
بخش دے گا وہ جس کو چاہے گا
میرا خیال ہے کہ بہتر ہو گا
اور دوسرے میں صرف 'کرے' نہیں 'کرے گا' کی ضرورت محسوس ہو رہی ہے۔
مکمل شعرمیرا خیال ہے کہ یوں درست ہو گا
بخش دیتا ہے جس کو چاہتا ہے
چاہے جس کو بھی وہ عذاب کرے

توجہ فرمائیے! عذاب کرنا درست محاورہ نہیں ہے ۔
خورشید نیر — ستمبر 4، 2019 8:47 صبح
تبدیلیوں کے بعد دوبارہ پیشِ خدمت ہے
خود بھی اپنا حساب کر لینا
اس کے پہلے کہ وہ حساب کرے
حق و باطل یوں ہو چکا ہے عیاں
جس کو چاہے تو انتخاب کرے
جس کو رنج و الم نے گھیرا ہے
خواہشوں سے وہ اجتناب کرے
زندگی ایک امتحان ہے دوست
رب تجھے اس میں کامیاب کرے
علم کہتے ہیں اس کو جو نیرؔ
پیدا ہستی میں انقلاب کرے
عظیم — ستمبر 4، 2019 12:37 شام
خود بھی اپنا حساب کر لینا
اس کے پہلے کہ وہ حساب کرے
۔۔'اس کے' عجیب لگ رہا ہے، میں بھی سوچتا ہوں آپ بھی دیکھیں ، شاید کسی طرح یہی مطلب ادا ہو جائے
حق و باطل یوں ہو چکا ہے عیاں
جس کو چاہے تو انتخاب کرے
۔۔یہ درست ہو گیا ہے
جس کو رنج و الم نے گھیرا ہے
خواہشوں سے وہ اجتناب کرے
۔۔۔اس شعر کی جگہ بدل دیں، پچھلے شعر کے دوسرے مصرع میں اور اس میں 'جس' کی تکرار اچھی نہیں لگ رہی
زندگی ایک امتحان ہے دوست
رب تجھے اس میں کامیاب کرے
علم کہتے ہیں اس کو جو نیرؔ
پیدا ہستی میں انقلاب کرے
۔۔یہ تو ماشاء اللہ پہلے ہی درست تھے
الف عین — ستمبر 4، 2019 3:21 شام
جس 'کو' عذاب دینا درست ہے،
جس 'پر' عذاب کرے درست ہو سکتا ہے
عظیم — ستمبر 4، 2019 3:35 شام
حق و باطل یوں ہو چکا ہے عیاں
جس کو چاہے تو انتخاب کرے
۔۔یہ درست ہو گیا ہے
اس شعر کے دوسرے مصرع کے بارے میں بھی میرا خیال تھا کہ 'جس کا چاہے تو انتخاب کرے' بہتر ہو گا۔ اگر 'جس کو چاہے تو انتخاب کرے' رکھنا ہے تو پہلے مصرع میں 'یوں' کی جگہ 'تو' بہتر ہو گا
خورشید نیر — ستمبر 4، 2019 7:07 شام
سر شکریہ اپ کا مشورہ دینے کے لیے مجھے امید ہے اپ آگے بھی اپنے مشوروں سے نوازتے رہیں گے

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD%D9%90-%D8%B3%D8%AE%D9%86-%D8%AC%D8%B3-%DA%A9%D9%88-%D8%B1%D9%86%D8%AC-%D9%88%D8%A7%D9%84%D9%85-%D9%86%DB%92-%DA%AF%DA%BE%DB%8C%D8%B1%D8%A7-%DB%81%DB%92.108295/