اصلاحِ غزل

صنم — اکتوبر 28، 2018 2:30 شام
میری پہلی غزل۔۔۔اصلاح فرما کر مشکور کریں
خفا ہونے کی عادت ہے یعنی
اس پہ کچھ ندامت ہے یعنی
تیرے بغیر میرا جی نہیں لگتا
مجھے تم سے محبت ہے یعنی
بے رُخی، اس قدر، کیا بات
اس کی وجہ غربت ہے یعنی
آج اُس نے میرا حال پوچھا ہے
آج دل کی عجیب حالت ہے یعنی
کیا کہا؟، زندگی بے معنی ہے
اچھا! محبت سے فرصت ہے یعنی
صنم,
ارشد چوہدری — اکتوبر 29، 2018 1:28 صبح
اچھے الفاظ ہیں مگر بحر کونسی ہے اور افاعیل کیا ہیں
الف عین — اکتوبر 29، 2018 4:06 صبح
محمد ریحان قریشی
محمد ریحان قریشی — اکتوبر 29، 2018 4:20 صبح
اشعار کسی معروف بحر میں نہیں.
الف عین — اکتوبر 29، 2018 4:40 صبح
ردیف کا آخری لفظ یعنی اکثر بھرتی کا لفظ لگتا ہے
خفا ہونے کی عادت ہے
یعنی مفاعیلن مفاعیلن کی بحر میں کوشش کریں
صنم — نومبر 3، 2018 5:58 شام
سب سے پہلے گزارش ہے کہ میں عروض و بحر سے ناواقف ہوں۔ اک ذرا سی کوشش کی ہے۔ اگر کوٸی اغلاط ہوں تو انھیں درست فرما دیجیے۔ بندی ممنون و مشکور ہے
تشکر
صنم — نومبر 3، 2018 6:00 شام
ردیف کا آخری لفظ یعنی اکثر بھرتی کا لفظ لگتا ہے
خفا ہونے کی عادت ہے
یعنی مفاعیلن مفاعیلن کی بحر میں کوشش کریں
درست فرما کر مشکور کریں
صنم — نومبر 3، 2018 6:01 شام
ش
اچھے الفاظ ہیں مگر بحر کونسی ہے اور افاعیل کیا ہیں
شکریہ
مگر مجھے ان سب چیزوں کی تمیز نہیں
آپ اگر کچھ اصلاح کر دیں تو بہت مہربانی
محمد خلیل الرحمٰن — نومبر 3، 2018 6:20 شام
خفا ہونے کی عادت ہے یعنی
اس پہ کچھ ندامت ہے یعنی
تیرے بغیر میرا جی نہیں لگتا
مجھے تم سے محبت ہے یعنی
بے رُخی، اس قدر، کیا بات
اس کی وجہ غربت ہے یعنی
آج اُس نے میرا حال پوچھا ہے
آج دل کی عجیب حالت ہے یعنی
کیا کہا؟، زندگی بے معنی ہے
اچھا! محبت سے فرصت ہے یعنی
صنم,
ہماری صلاح

خفا ہونے کی عادت ہے
کچھ اس پر بھی ندامت ہے
ترے بِن جی نہیں لگتا
مجھے تم سے محبت ہے
تری یہ بے رُخی کیوں ہے؟
کچھ اس کی وجہ غربت ہے
جب اس نے حال پوچھا ہے
عجب کچھ دل کی حالت ہے
کہا سب کچھ ہے بے معنی!
محبت سے بھی فرصت ہے​

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD%D9%90-%D8%BA%D8%B2%D9%84.103930/