اضافت کی زیر اور ہمزہ کا دردِسر

متلاشی — نومبر 21، 2015 11:22 صبح
السلام علیکم !
معززینِ شعرا و ادیبانِ محفل سے ایک مسئلہ کے بارے میں آراء درکار ہیں
مسئلہ یہ ہے کہ مثال کے طور پر ایک جگہ اقبال نے غالب کے بارے میں کہا شمع یہ سودائی دلسوزی پروانہ ہے ۔۔۔ اس کی درست املا کیا ہو گی ؟؟؟ سودائیِ دلسوزیِ یا سودائی دلسوزیٔ، یا سودائیِ دلسوزیِٔ، یا کچھ اور ؟؟؟؟یعنی سودائی کی یا کے نیچے زیر اور دلسوزی کی ی پر ہمزہ آئے گا زیر۔۔۔ یہ زیر اور ہمزہ کا چکر بہت کنفیوز کر رہا ہے ۔۔۔ اس بارے میں کچھ رہنمائی کریں کہ کہاں اضافت کی زیر لگتی ہے اور کہاں ہمزہ آتا ہے ۔۔۔ اور کیا ان دونوں میں کوئی فرق ہے یا نہیں ؟؟؟؟؟
اسی طرح بے تابیِ الفت ۔۔۔ زیر آئے گی یا ہمزہ ؟؟؟
یا دونوں بھی آ سکتے ہیں یعنی بے تابیِٔ الفت
اسی طرح زندگیٔ جاوداں درست ہو گا یا زندگیِ جاوداں
اسی طرح سلسلۂ کوہسار ؟؟؟؟ یا سلسلہِ کوہسار؟؟
ہمدردی ٔ انساں ، لیلیٔ ذوق ، قمریِ شمشاد؟؟؟ تنگیٔ دریا، سرخیٔ افسانہ وغیرہ
ہمسائیگیٔ شمس و قمر؟؟؟
مہدیِ مجروح؟؟؟ خاموشیٔ ازل ۔۔۔ وغیرہ ان کے بارے میں تفصیل سے بتائیں ۔۔۔ کہ ہمزہ اور اضافت کا اصول کیا ہے ؟؟؟؟؟
متلاشی — نومبر 21، 2015 11:23 صبح
الف عین محمد اسامہ سَرسَری محمد وارث محمد یعقوب آسی مزمل شیخ بسمل ابن رضا
محمد یعقوب آسی — نومبر 21، 2015 1:54 شام
محمد یعقوب آسی — نومبر 21، 2015 2:00 شام
اس طرح کے دردِ سر کا واحد علاج ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مطالعہ اور مطالعہ اور مطالعہ مکرر ۔۔۔
املاء نامہ کے تحت سفارشات موجود ہیں، یہیں کہیں تلاش کر لیجئے، مل جانی چاہئیں۔
محمد یعقوب آسی — نومبر 21، 2015 2:02 شام
ترکیب کی صورت یہ ہو گی: مہدئ موعود، وادئ فاران، بازئ دِل؛ وغیرہ
یہاں بھی ۔۔۔۔۔۔۔۔ مہدئی، وادئی اور بازئی سے گریز!
الف عین — نومبر 21، 2015 6:12 شام
یہاں ایک اختلافی نوٹ دے دوں۔ میری ذاتی رائے یہ ہے کہ اوپر لگنے والی چھوٹی ہمزہ نہ کوئی حرف ہے نہ اعراب۔ اس سے بچنا میری ترجیحات میں شامل ہو گیا ہے۔ اس لئے میں ذاتی طور پر محض زیر ِ اضافت پسند کرتا ہوں۔ بے تابیِ دل یا مہدیِ موعود۔ حالانکہ دیوانِ غالب کی تدوین کے زمانے میں میرا نظریہ بھی آسی بھائی والا تھا!!
محمد یعقوب آسی — نومبر 22، 2015 5:35 صبح
یہاں ایک اختلافی نوٹ دے دوں۔ میری ذاتی رائے یہ ہے کہ اوپر لگنے والی چھوٹی ہمزہ نہ کوئی حرف ہے نہ اعراب۔ اس سے بچنا میری ترجیحات میں شامل ہو گیا ہے۔ اس لئے میں ذاتی طور پر محض زیر ِ اضافت پسند کرتا ہوں۔ بے تابیِ دل یا مہدیِ موعود۔ حالانکہ دیوانِ غالب کی تدوین کے زمانے میں میرا نظریہ بھی آسی بھائی والا تھا!!

آپ کا یہ نوٹ اختلافی تو بالکل نہیں ہے، محترمی اعجاز عبید صاحب۔ میں تو پہلے ہی عرض کر چکا کہ:
واضح رہے کہ اصولی طور پر زیرِ اضافت یہاں ی پر واقع ہوتی ہے، یعنی: ’’سودائیِ دل سوزیِ پروانہ‘‘ یہ املاء درست ہے۔
اور یہ بھی کہ:
تاہم ایک قدیم روایت چلی آتی ہے کہ ایسی ی پر جہاں زیر واقع ہو ہمزہ اضافی لکھتے ہیں اور زیر کی علامت ہمزہ پر منتقل ہو جاتی ہے، سو یہاں چھوٹا ہمزہ بناتے ہیں۔
اور جب لوگ عادی ہو جائیں تو پھر کوئی نہ کوئی راستہ نکالنے والی بات ہوتی ہے، مثلاً چھوٹا ہمزہ۔
آداب بجا لاتا ہوں، اور آپ جانتے ہیں کہ ہمیشہ دعاؤں کا طالب رہتا ہوں۔
محمد اسامہ سَرسَری — نومبر 24، 2015 2:32 شام
اگرچہ "املائے درست" ایک "شۓ عجیب" ہے ، تاہم "قابلِ احترم" "اساتذۂ کرام" کے "جواباتِ مفیدہ" سے بڑی حد تک "تشفیِ دل" ہوگئی ہے ، "خدائے پاک" انھیں "جزائے خیر" عطا فرمائے۔ :)
محمد تابش صدیقی — نومبر 24، 2015 2:48 شام
میں نے آجکل دادا مرحوم کے تمام غیر مطبوعہ کلام کو برقیانے کا سلسلہ شروع کیا ہوا ہے، مکمل کر کے پروف ریڈنگ کے لیے ابو کے حوالے کر دیا ہے۔
میں نے ئ کا استعمال زیادہ رکھا اور جہاں تلفظ تبدیل ہونے کا خدشہ ہوا، وہاں یِ استعمال کی۔
مگر اب اس لڑی کو تفصیل سے پڑھنے کے بعد تمام ئ کو یِ سے تبدیل کر دیا ہے۔
جزاک اللہ محترم متلاشی محمد یعقوب آسی الف عین صاحبان
الف عین — نومبر 24، 2015 5:12 شام
میں نے آجکل دادا مرحوم کے تمام غیر مطبوعہ کلام کو برقیانے کا سلسلہ شروع کیا ہوا ہے، مکمل کر کے پروف ریڈنگ کے لیے ابو کے حوالے کر دیا ہے۔
میں نے ئ کا استعمال زیادہ رکھا اور جہاں تلفظ تبدیل ہونے کا خدشہ ہوا، وہاں یِ استعمال کی۔
مگر اب اس لڑی کو تفصیل سے پڑھنے کے بعد تمام ئ کو یِ سے تبدیل کر دیا ہے۔
جزاک اللہ محترم متلاشی محمد یعقوب آسی الف عین صاحبان
اس ہیچمدان کو پروف ریڈنگ کے لئے بھی مواد بھیج دینا تھا، تاکہ بعد میں بزم اردو میں بھی شامل کی جا سکے
محمد تابش صدیقی — نومبر 24، 2015 5:20 شام
اس ہیچمدان کو پروف ریڈنگ کے لئے بھی مواد بھیج دینا تھا، تاکہ بعد میں بزم اردو میں بھی شامل کی جا سکے
ان شاء اللہ ایک دفعہ والدِ محترم کی نظر سے گزر جائے تو آپ کی خدمت میں پیش کرنے کا ہی خیال تھا۔
الف عین — نومبر 24، 2015 5:20 شام
محمد اسامہ سَرسَری نے ایک اور مرکب حرف یاد دلا دیا یعنی ہ کے اوپر ہمزہ۔ اب اسے لکھنے کے لئے اپنے ونڈوز اردو کی بورڈ پر منتقل ہوتا ہوں۔
حالانکہ میں اس کو قبول کرتا ہوں کہ ۂ کا واحد کیریکٹر اردو کا کوئی حرف نہیں ہوتا۔ اور اس کا استعمال محض اعراب کی طرح کیا جاتا ہے۔ لیکن یہ بھی درست ہے کہ جب یونی کوڈ میں یہ کیریکٹر دے ہی دیا گیا ہے تو اس کو آسانی کے لئے ضرور استعمال کیا جائے۔ چنانچہ ’نالۂ دل‘ اور ’دیدۂ تر‘ کو ہی ترجیح دیتا ہوں، بجائے نالہءدل، دیدہء تر، یا نالہءِ دل، دیدہءِ تر، یا نالۂ دل اور دیدۂ تر۔ آخر الذکر میں ’ہ‘ اور اوپر والی ہمزہ’۔ ٔ ۔‘ کا استعمال کیا گیا ہے
ذوالقرنین رضا اسیر — جنوری 4، 2024 5:32 صبح
اگرچہ "املائے درست" ایک "شۓ عجیب" ہے ، تاہم "قابلِ احترم" "اساتذۂ کرام" کے "جواباتِ مفیدہ" سے بڑی حد تک "تشفیِ دل" ہوگئی ہے ، "خدائے پاک" انھیں "جزائے خیر" عطا فرمائے۔ :)
املاء درست ہے یا املائے
علماء کرام ہے یا علمائے
شعراء کرام ہے یا شعرائے
جزاء خیر ہے یا جزائے
اسی طرح دیگر الفاظ جن کے آخر میں ہمزہ آتا ہے عموماً ان کے آخر میں اضافت کی صورت میں ےلگادی جاتی ہے
ایسا کرنا درست ہے یا صرف زیر اضافت ہی کافی ہے یا دونوں طرح درست ہے؟؟؟؟
الف عین — جنوری 4، 2024 10:03 صبح
میرا خیال ہے کہ اردو میں علمائے، جزائے لکھنےکو ترجیح دی جائے، بلکہ اردو میں جزا ہی لکھنا بہتر ہے، آخر میں ہمزہ کا اضافہ عربی کے لئے مخصوص سمجھا جائے

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%D8%B6%D8%A7%D9%81%D8%AA-%DA%A9%DB%8C-%D8%B2%DB%8C%D8%B1-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%DB%81%D9%85%D8%B2%DB%81-%DA%A9%D8%A7-%D8%AF%D8%B1%D8%AF%D9%90%D8%B3%D8%B1.86001/