افق پر خون سے ضبطِ فغاں لکھا ہوا ہے

عباد اللہ — ستمبر 13، 2016 10:29 صبح
نشاطِ فیضِ غم سارا یہاں لکھا ہوا ہے
ہماری عید میں خود کا زیاں لکھا ہوا ہے
یہ جبرِ ماجرا دیکھو سرِ لوحِ مقدر
چمکتا ایک حرفِ رائیگاں لکھا ہوا ہے
ہمارا گریۂ محرومیِ اہلِ وطن حیف
افق پر خون سے ضبطِ فغاں لکھا ہوا ہے
ابھی اک سکھ کا موسم بھی ہمارا منتظر ہے
مگر کس حال میں جانے کہاں لکھا ہوا ہے
عباد اللہ
فاخر رضا — ستمبر 13، 2016 11:02 صبح
بر محل اور بر موقع. ماشاءاللہ
لاریب مرزا — ستمبر 13، 2016 12:45 شام
خوب!!
الف عین — ستمبر 13، 2016 1:54 شام
درست اور خوب
عاطف ملک — ستمبر 13، 2016 4:16 شام
ماشا اللہ!
بہت خوب!
صفی حیدر — ستمبر 13، 2016 4:57 شام
بھی اک سکھ کا موسم بھی ہمارا منتظر ہے
مگر کس حال میں جانے کہاں لکھا ہوا ہے
بہت خوب .......
محمد وارث — ستمبر 13، 2016 6:47 شام
واہ بہت خوب جناب، لاجواب۔
عباد اللہ — ستمبر 14، 2016 8:25 صبح
بر محل اور بر موقع. ماشاءاللہ
تشکر
عباد اللہ — ستمبر 14، 2016 8:26 صبح
آداب
ماشا اللہ!
بہت خوب!
بہت شکریہ
نوازش
عباد اللہ — ستمبر 14، 2016 8:26 صبح
بہت شکریہ سر
عباد اللہ — ستمبر 14، 2016 8:26 صبح
واہ بہت خوب جناب، لاجواب۔
شکریہ سر
ظہیراحمدظہیر — ستمبر 15، 2016 11:21 شام
بہت خوب!
فرقان احمد — ستمبر 19، 2016 8:58 صبح
واہ واہ! کیا کہنے! بہت خوب!
سید اسد معروف — ستمبر 19، 2016 10:46 صبح
لاجواب۔ کیا کہنے!

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%D9%81%D9%82-%D9%BE%D8%B1-%D8%AE%D9%88%D9%86-%D8%B3%DB%92-%D8%B6%D8%A8%D8%B7%D9%90-%D9%81%D8%BA%D8%A7%DA%BA-%D9%84%DA%A9%DA%BE%D8%A7-%DB%81%D9%88%D8%A7-%DB%81%DB%92.91903/