محمد حسین — ستمبر 27، 2013 6:37 شام
الجھنوں میں گِھر گئے کیوں؟راحت امکاں کیوں نہیں؟
دل خزاں آلود کیوں؟ قسمت بہاراں کیوں نہیں؟
جب پریشاں ہوں، پریشاں ہیں، پریشانی ہے کیا؟
نہ پریشاں ہوں، پریشاں ہیں، پریشاں کیوں نہیں؟
الف عین — ستمبر 28، 2013 3:29 صبح
پہلا شعر درست اور خوب ہے، لیکن وسرے شعر میں صرف کرتب بازی لگی ہے۔ معنی نہیں
محمد حسین — ستمبر 28، 2013 4:31 شام
پہلا شعر درست اور خوب ہے، لیکن وسرے شعر میں صرف کرتب بازی لگی ہے۔ معنی نہیں
دوسرے شعر کو میں نے جس مفہوم میں لکھا ہے وہ یہ ہے۔
"جب میں پریشان ہوتا ہوں تو وہ بھی پریشان ہوتے ہیں کہ اسے کیا پریشانی ہے، اور جب میں پریشان نہیں ہوتا تو پھر بھی وہ پریشان ہوتے ہیں کہ اسے کوئی پریشانی کیوں نہیں ہے۔ یعنی میں جس حال میں بھی ہوں ، خوش ہوں یا پریشان ، ہو پریشان ہی رہتے ہیں۔ "
شاید اس بات کو بہتر طور پر کہا جا سکتا ہو۔
الف عین — ستمبر 28، 2013 6:09 شام
نہیں بھئی، میں تمہاری وضاحت سے مطمئن نہیں۔ اس شعر سے یہ مفہوم کہاں برامد ہوتے ہیں۔
محمد حسین — اکتوبر 13، 2013 9:10 صبح
نہیں بھئی، میں تمہاری وضاحت سے مطمئن نہیں۔ اس شعر سے یہ مفہوم کہاں برامد ہوتے ہیں۔
اس کو صحیح کرنے کی کوشش کرتا ہوں