الف عین صاحب میری غزل دیکھئے نا

مومن فرحین — اگست 20، 2020 12:49 شام
السلام عليكم
میں نے غزل لکھنے کی کوشش کی ہے آپ سے تصحیح چاہتی ہوں ۔
امید ہے اپنے قیمتی وقت میں کچھ وقت دیں گے ۔
دلکشی سادگی دلربا زندگی
تجھ کو کیا نام دوں میں بتا زندگی
دے کے ہر بار مجھ کو صدا چھپ گئی
ہائے کیسی ہے تیری ادا زندگی
دل لبھائے کبھی دل دکھائے کبھی
تو ہی نشتر ہے تو ہی دوا زندگی
جاتا ہے کونسا راستہ اس گلی
کچھ بتا تو ہی اس کا پتا زندگی
ہم نے کیا کیا نا اس کے اٹھائے ہیں ناز
پھر بھی اب تک ہے ہم سے خفا زندگی
رات پچھلے پہر کیسی آہٹ تھی یہ
کیا تیرے قدموں کی تھی صدا زندگی
اس کی باتوں میں تیری جھلک ہے عیاں
اس کے لفظوں کو تو نے سنا زندگی ؟
چاہتیں ، الفتیں ، دل لگی ہیں سبھی
تجھ کو بہلانے کا آسرا زندگی
ایسے دلبر پہ دل کیوں نہ آئے فرح
جس پہ ہوتی رہی ہے فدا زندگی
نور وجدان — اگست 20، 2020 12:55 شام
دلکشی سادگی دلربا زندگی
اک مشورہ
دلکش، سادہ یہ صفات لکھیں تو بہتر ہوگا، دلکشی تو خیال ہے اور زندگی بھی ۔۔۔
مومن فرحین — اگست 20، 2020 12:56 شام
اوہ شکریہ بجا فرمایا آپ نے ۔۔۔
مومن فرحین — اگست 20، 2020 1:36 شام
روشنی تیرگی ملگجا زندگی
تجھ کو کیا نام دوں میں بتا زندگی
اب دیکھیں
شمشاد — اگست 20، 2020 2:05 شام
بہت خوب کلام ہے فرحین۔ اللہ کرے زورِ کلک اور زیادہ۔
الف عین
اعجاز بھائی آپ کی رائے درکار ہے۔
محمد احسن سمیع راحلؔ — اگست 21، 2020 9:23 صبح
روشنی تیرگی ملگجا زندگی
تجھ کو کیا نام دوں میں بتا زندگی
اب دیکھیں
زندگی مونث ہے، اس لئے اس کو ملگجی کہنا چاہیے۔
مومن فرحین — اگست 21، 2020 10:04 صبح
زندگی مونث ہے، اس لئے اس کو ملگجی کہنا چاہیے۔
یہاں پر تینوں بھی اسم کے طور پر استعمال کیا ہے ۔ اور ملگجی شاید صفت کے طور پر کہیں گے ۔ ایسا میرا خیال ہے
نور وجدان — اگست 21، 2020 10:16 صبح
بہت خوب
دے کے ہر بار مجھ کو صدا چھپ گئی
ہائے کیسی ہے تیری ادا زندگی

رات پچھلے پہر کیسی آہٹ تھی یہ
کیا تیرے قدموں کی تھی صدا زندگی
الف عین — اگست 21، 2020 10:40 صبح
ماشاء اللہ خیالات تو اچھے ہیں، بس کچھ الفاظ یا ترتیب بدل دینے سے بہتر ہو سکتی ہے غزل۔ مطلع میں جو خیال لانا چاہتی ہو، اس کے لئے مطلع درست نہیں رہے گا، پہلے مصرعے میں مزید اسماء لا کر سادہ مصرع بنانا بہتر ہو گا میرے خیال میں۔
پوری غزل میں اکثر پہلے مصرع 'ی' پر ختم ہوتے ہیں، ان کو بھی بدل دو تو بہتر ہے، دو ایک مصرع ایسے ہوں تو حرج نہیں
کئی حروف گر رہے ہیں جن سے روانی متاثر ہو رہی ہے
جاتا ہے کونسا راستہ اس گلی.. جات ہے وزن میں آتا ہے
کیا تیرے قدموں کی تھی صدا زندگی.. قدموں کی وں کا اسقاط بھلا نہیں
تجھ کو بہلانے کا آسرا زندگی.. بہلانے کی ے
پہلے خود روائز کر دو بیٹا، پھر دیکھتا ہوں
مومن فرحین — اگست 21، 2020 10:47 صبح
بہت بہت شکریہ محترم ۔۔۔ میں غلطیوں کو درست کرنے کی کوشش کرتی ہوں۔
محمد احسن سمیع راحلؔ — اگست 21، 2020 12:50 شام
یہاں پر تینوں بھی اسم کے طور پر استعمال کیا ہے ۔ اور ملگجی شاید صفت کے طور پر کہیں گے ۔ ایسا میرا خیال ہے
لفظ ملگجا صفت ذاتی ہے، مجرد اسم کے طور پر استعمال نہیں ہوتا ... اس لئے میری ناچیز رائے میں تو اس پر موصوف الیہ کی جنس کا صیغہ ہی جاری ہوگا.
مومن فرحین — اگست 21، 2020 1:41 شام
لفظ ملگجا صفت ذاتی ہے، مجرد اسم کے طور پر استعمال نہیں ہوتا ... اس لئے میری ناچیز رائے میں تو اس پر موصوف الیہ کی جنس کا صیغہ ہی جاری ہوگا.
اوہ شکریہ رہنمائی کا میں دیکھتی ہوں تبدیلی کرتی ہوں ۔
سید عاطف علی — اگست 21، 2020 1:54 شام
واہ ! اچھی غزل کہی ہے ۔
مجھے تو پوری غزل کی اول شکل ہی اچھی لگی ۔ ہاں کچھ مصرعوں میں ترتیب الفاظ کی نشست بہتر کر سکتی ہے ۔ جیسے ۔
جاتا ہے کونسا راستہ اس گلی
اس گلی جائےگا کون سا راستہ (یہاں "جاتا ہے" کی نشست ٹھیک نہیں)
پھر بھی اب تک ہے ہم سے خفا زندگی
ہم سے اب تک ہے پھر بھی خفا زندگی (یہاں "ہم اور ہے" میں فاصلہ بہتر ہے )
کیا تیرے قدموں کی تھی صدا زندگی
تیرے قدموں کی تھی کیا صدا زندگی (یہاں قدموں کی نشست کمزور ہے)
مومن فرحین — اگست 21، 2020 2:12 شام
آپ نے تو کافی مدد کر دی ۔۔۔ بہت ساری جگہوں پر درست کر کے ۔
رات پچھلے پہر کیسی آہٹ تھی یہ
کیا تیرے قدموں کی تھی صدا زندگی
یہ والا شعر نکال دیتی ہوں ۔
نور وجدان — اگست 21، 2020 2:22 شام
آپ نے تو کافی مدد کر دی ۔۔۔ بہت ساری جگہوں پر درست کر کے ۔
رات پچھلے پہر کیسی آہٹ تھی یہ
کیا تیرے قدموں کی تھی صدا زندگی
یہ والا شعر نکال دیتی ہوں ۔
نہیں، اچھا شعر ہے. بہتر کرلیں اسے
مومن فرحین — اگست 21، 2020 2:23 شام
اچھا کرتی ہوں کوشش
ڈاکٹر عظیم سہارنپوری — اگست 23، 2020 5:28 شام
رات پچھلے پہر کیسی آہٹ ہوئی
تیرے قدموں کی تھی کیا صدا زندگی
مومن فرحین — اگست 23، 2020 5:36 شام
رات پچھلے پہر کیسی آہٹ ہوئی
تیرے قدموں کی تھی کیا صدا زندگی
اوہ بہت شکریہ جناب ۔۔۔۔ :act-up:
ڈاکٹر عظیم سہارنپوری — اگست 24، 2020 4:55 شام
ٹوٹی پھوٹی سی ایک غزل کل رات میں نے بھی کہی تھی پر معلوم نہیں یہاں اپنی غزل لکھنا بے ادبی تو نہیں جہاں کمی ہو اصلاح کی درخواست ہے
کتنی دلکش ہے یہ دل ربا زندگی
دکھ تو یہ ہے کہ ہے بے وفا زندگی
ایک ساعت میں دے دے دغا زندگی
تجھ سا دیکھا نہیں بے وفا زندگی
نیک لوگوں پہ یہ رب کا انعام ہے
عاصیوں کے لئے ہے سزا زندگی
زہر پینے کا جب سے ارادہ کیا
ہرقدم لے کے آئی دوا زندگی
یوں تو جینے کو جیتے ہیں اب بھی مگر
دل ہی جب ٹوٹ جائے تو کیا زندگی
میں نے سب کچھ اسی پر لٹایا عظیم
پھر بھی مجھ سے ہے اتنی خفا زندگی
ڈاکٹر عظیم سہارنپوری — اگست 24، 2020 5:02 شام
غزل میں سب سے نیچے والا شعر محترمہ مومن فرحین صاحبہ کے شعر سے ملتا جلتا ہو گیا روانی میں دھیان نہ دے سکا اس کے لئے معافی چاہتا ہوں
صفحات: 1 2

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%D9%84%D9%81-%D8%B9%DB%8C%D9%86-%D8%B5%D8%A7%D8%AD%D8%A8-%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%8C-%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%A6%DB%92-%D9%86%D8%A7.112899/