الوداعی نظم (گریجوایٹ ہونے پر کالج سے رخصت ہوتے ہوئے)

مریم افتخار — اپریل 17، 2017 6:35 شام
کالج میں ہمارے اعزاز میں رکھی جانے والی الوداعی تقریب میں پڑھنے کے لیے یہ تُک بندی کی ہے، اصلاح فرما کر ثوابِ دارین حاصل کریں۔
مریم افتخار — اپریل 17، 2017 6:38 شام
سُرخ اشکوں کی سیاہی سے ہوئے ہیں تحریر
تختئ وقت پہ جاں سوز مناظر بن کر
پھر وہی صبح کہ لائی ہے پیامِ ہجرت
اب کے جینا ہے ہمیں تیرے مہاجر بن کر
تُجھ کو چھوڑا تو ترا شہر بھی ہم چھوڑ چلے
تیرے دامن کے سِوا اور یاں رکھا کیا ہے؟
تیرے دم سے ہے یہاں علم کا مے خانہ آباد
جس نے پی ہی نہیں اُس نے بھلا چکّھا کیا ہے؟
تُو نے دیکھا ہے مِری آنکھ کا بہتا پانی
قہقہے جذب ہیں میرے تری دیواروں میں
میں وہ گُل ہوں جو تری مٹّی میں پروان چڑھا
پُھول مُجھ سا نہ مِلے گا تُجھے گُلزاروں میں
خاک مکتب کی مرے مجھ کو جہاں سے ہے عزیز
اس کو ہی چھان کے پایا ہے جو بھی پایا ہے
اِس کی ہر اینٹ میں شامل ہیں مرے بھی ذرّات
میری پُونجی ہے یہی اور یہی سرمایہ ہے
مریم افتخار — اپریل 17، 2017 6:41 شام
الف عین ظہیراحمدظہیر
راحیل فاروق سید عاطف علی عاطف ملک
La Alma محمد وارث محمد ریحان قریشی ابن سعید
محمد تابش صدیقی — اپریل 17، 2017 6:43 شام
بہت عمدہ نظم.
ایک لمحہ کو پریشانی ہوئی کہ مریم بہن الوداعی نظم کیوں لکھ رہی ہیں. :)
مریم افتخار — اپریل 17، 2017 6:44 شام
بہت عمدہ نظم.
ایک لمحہ کو پریشانی ہوئی کہ مریم بہن الوداعی نظم کیوں لکھ رہی ہیں. :)
اسی لیے نظم پوسٹ کرنے سے چند منٹ پہلے ہی نوٹ لکھ دیا تھا۔ :)
عاطف ملک — اپریل 17، 2017 6:50 شام
سُرخ اشکوں کی سیاہی سے ہوئے ہیں تحریر
تختئ وقت پہ جاں سوز مناظر بن کر
پھر وہی صبح کہ لائی ہے پیامِ ہجرت
اب کے جینا ہے ہمیں تیرے مہاجر بن کر
تُجھ کو چھوڑا تو ترا شہر بھی ہم چھوڑ چلے
تیرے دامن کے سِوا اور یاں رکھا کیا ہے؟
تیرے دم سے ہے یہاں علم کا مے خانہ آباد
جس نے پی ہی نہیں اُس نے بھلا چکّھا کیا ہے؟
تُو نے دیکھا ہے مِری آنکھ کا بہتا پانی
قہقہے جذب ہیں میرے تری دیواروں میں
میں وہ گُل ہوں جو تری مٹّی میں پروان چڑھا
پُھول مُجھ سا نہ مِلے گا تُجھے گُلزاروں میں
خاک مکتب کی مرے مجھ کو جہاں سے ہے عزیز
اس کو ہی چھان کے پایا ہے جو بھی پایا ہے
اِس کی ہر اینٹ میں شامل ہیں مرے بھی ذرّات
میری پُونجی ہے یہی اور یہی سرمایہ ہے
ہائے اللہ بہت پیاری ہے۔۔۔۔ماشا اللہ :in-love::in-love::in-love:
میں نے تو فضول سی لکھی تھی۔:LOL:
بہت عمدہ نظم.
ایک لمحہ کو پریشانی ہوئی کہ مریم بہن الوداعی نظم کیوں لکھ رہی ہیں. :)
مجھے بھی عنوان دیکھ کر پریشانی ہوئی۔۔۔۔۔یونیورسٹی کا لفظ بھی لکھ دیتیں بھلا عنوان میں۔۔۔۔ایسے ہی ڈرا دیا۔
مریم افتخار — اپریل 17، 2017 6:53 شام
میں نے تو فضول سی لکھی تھی۔
ہمیں بھی دِکھائی جائے!!!!:rolleyes:
عاطف ملک — اپریل 17، 2017 6:57 شام
آپ نے اپنے بھائی کو ذمی داری سونپ تو دی۔
اگرچہ میں اس قابل نہیں مگر "حقِ برادرانہ" استعمال کرتے ہوئے دو باتیں عرض کرتا ہوں۔
تُجھ کو چھوڑا تو ترا شہر بھی ہم چھوڑ چلے
تیرے دامن کے سِوا اور یاں رکھا کیا ہے؟
تیرے دم سے ہے یہاں علم کا مے خانہ آباد
جس نے پی ہی نہیں اس نے بھلا چکھا کیا ہے
اس میں بہتری کی گنجائش نکل سکتی ہے میری ناقص فہم کے مطابق لیکن کیسے،یہ ذہن میں نہیں آرہا :-(
اس کو ہی چھان کے پایا ہے جو بھی پایا ہے
اس کو ہی چھان کے پایا ہے جو میں نے پایا
یا پھر
"اس کو چھانا ہے تو پایا ہے جو میں نے پایا"
میری پُونجی ہے یہی اور یہی سرمایہ ہے
مری پونجی ہے یہی اور یہی "سرمایہ"
کیسا رہے گا؟؟؟
مجھے تو Catchy لگ رہا ہے۔
اللہ آپ کو شاد و آباد رکھے۔
میری غزل کا ربط:
برائے اصلاح: اب مجھے تم سے دور جانا ہے
La Alma — اپریل 17، 2017 7:31 شام
تُو نے دیکھا ہے مِری آنکھ کا بہتا پانی
قہقہے جذب ہیں میرے تری دیواروں میں
میں وہ گُل ہوں جو تری مٹّی میں پروان چڑھا
پُھول مُجھ سا نہ مِلے گا تُجھے گُلزاروں میں
خاک مکتب کی مرے مجھ کو جہاں سے ہے عزیز
اس کو ہی چھان کے پایا ہے جو بھی پایا ہے
اِس کی ہر اینٹ میں شامل ہیں مرے بھی ذرّات
میری پُونجی ہے یہی اور یہی سرمایہ ہے
خوب لکھا ہے مریم !
چونکہ آپ نے مشورہ طلب کیا ہے تو اس ضمن میں یہ کہوں گی کہ اگر آپ نظم کی تمہید میں درج بالا سطور نہ لکھتیں تو ابتدائی بند اور دوسرے بند کے پہلے شعر تک یہ اندازہ لگانا مشکل تھا کے اس شعری تخلیق کا پس منظر کیا ہے .آیا محبوب سے جدائی کا ذکر ہے یا کسی اور واقعہ کا بیان ہے .
آخری دو بند موضوع اور اس سی جڑی کیفیت کے اظہار کے لحاظ سے نہایت عمدہ ہیں . ویل ڈن
عابد علی خاکسار — اپریل 18، 2017 5:07 صبح
بہت خوب ۔۔سچے جذبوں کا منظوم اظہار ھے
الف عین — اپریل 18، 2017 5:40 صبح
بس آخری بند کا وہی مصرع مجھے کچھ بھی کچھ کھٹکا۔ لیکن میں نے سوچا کہ ’جُ بی‘ کی جگہ ’جُ کچ‘ زیادہ درست ہو گا۔
مکمل بند یوں ہو تو
خاک مکتب کی مرے مجھ کو جہاں سے ہے عزیز
اس کو ہی چھان کے پایا ہے جو کچھ پایا ہے
اِس کی ہر اینٹ میں شامل ہیں مرے بھی ذرّات
بس یہی پُونجی ہے میری،یہی سرمایہ ہے
محمد عدنان اکبری نقیبی — اپریل 18، 2017 1:13 شام
خوبصورت تک بندی ہے۔ماشاءاللہ۔اجازت ہے پڑھ ڈالیے گا۔
سین خے — اپریل 19، 2017 5:42 شام
بہت خوب مریم! :) اور گریجوئیشن کی بہت بہت مبارکباد!
اکمل زیدی — اپریل 21، 2017 5:55 صبح
بہت اچھی لکھی ۔ ۔ ۔ بس میری بھی اک منمنہاٹ کہ اسمیں چڑھا کو چڑھی کر دیں مگر شاید گل کے مذکر کی وجہ سے آپ نے چڑھا کردیا ، ، ،
میں وہ گُل ہوں جو تری مٹّی میں پروان چڑھا
ظہیراحمدظہیر — مئی 4، 2017 1:23 صبح
واہ واہ! بہت خوبصورت !! کیا اچھی نظم ہے مریم! بہت بہت داد !
اور گریجویشن پر بھی بہت مبارکباد! اللہ تعالٰی آپ پر کامیابی و کامرانی کے دروازے ہمیشہ کھلے رکھے اور ہر سفر آسان بنائے! آمین ۔
مریم افتخار — جون 18، 2018 2:19 صبح
ہماری دوستوں کا ادبی رجحان ملاحظہ ہو کہ کل میری سب سکول کی ساتھیوں کی گیٹ ٹو گیدر تھی، مجھے اپنی کوئی شاعری سنانے کے لیے اصرار سے کہا گیا اور مجھے مندرجہ بالا نظم کے علاوہ اپنی کوئی نظم/غزل زبانی یاد نہیں تو آخر کار یہ سناتے ہی بنی. جب میں سنا رہی تھی تو سب اتنے انہماک سے سن رہے تھے کہ مجھے غلط فہمی ہوئی کہ سب کو سمجھ آ رہی ہے اور جب میں نے نظم ختم کی تو آخر میں ہر طرف سے "اوسم، اوسم" کی آوازیں انے لگیں. :LOL:
عبدالقیوم چوہدری — جون 18، 2018 2:32 صبح
ہماری دوستوں کا ادبی رجحان ملاحظہ ہو کہ کل میری سب سکول کی ساتھیوں کی گیٹ ٹو گیدر تھی، مجھے اپنی کوئی شاعری سنانے کے لیے اصرار سے کہا گیا اور مجھے مندرجہ بالا نظم کے علاوہ اپنی کوئی نظم/غزل زبانی یاد نہیں تو آخر کار یہ سناتے ہی بنی. جب میں سنا رہی تھی تو سب اتنے انہماک سے سن رہے تھے کہ مجھے غلط فہمی ہوئی کہ سب کو سمجھ آ رہی ہے اور جب میں نے نظم ختم کی تو آخر میں ہر طرف سے "اوسم، اوسم" کی آوازیں انے لگیں. :LOL:
بس۔۔۔۔۔ اس سے ثابت ہوا کہ ضروری نہیں سب شاعر ہوں یا شاعری کو سمجھتے ہوں، بندے سمجھدار بھی ہو سکتے ہیں۔
:tongueout:
عبدالقیوم چوہدری — جون 18، 2018 2:35 صبح
ویسے۔۔۔ سچ بتاؤں۔۔۔۔ آپ کی نظم تو فیض صاحب یا محسن نقوی کی شاعری سا رنگ لیے ہوئے ہے۔ اعلٰی
عرفان سعید — جون 18، 2018 4:28 صبح
بہت خوبصورت نظم!
اللہ آپ کو مزید ترقیاں عطا فرمائے!
سحرش سحر — جون 18، 2018 4:53 صبح
واہ......... مریم!
گریجویشن کی مبارکباد قبول ہو ۔
صفحات: 1 2

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%D9%84%D9%88%D8%AF%D8%A7%D8%B9%DB%8C-%D9%86%D8%B8%D9%85-%DA%AF%D8%B1%DB%8C%D8%AC%D9%88%D8%A7%DB%8C%D9%B9-%DB%81%D9%88%D9%86%DB%92-%D9%BE%D8%B1-%DA%A9%D8%A7%D9%84%D8%AC-%D8%B3%DB%92-%D8%B1%D8%AE%D8%B5%D8%AA-%DB%81%D9%88%D8%AA%DB%92-%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%92.95868/