جانتا ہوں کہ ہم سفر نہیں تم
پھر بھی کوشش تو چھوڑنے سے رہا
طول دینے سے اس فسانے کو
جتنا ممکن ہے جتنا ہو پایا
دل کو امید اب بھی ہے تم سے
حوصلے بھی نہیں تھکے ہارے
آنکھ میں اب بھی پانی ہے باقی
کہہ سکوں الوداع یہ مشکل ہے
تیز چلتی رہی یہ سرد ہوا
کھڑے رہنا ہے ان ہواؤ میں
ان گرجتی ہوئی گھٹاؤ میں
دل سے کیسے تمہیں بلاؤ میں
واپسی کا خیال مشکل ہے
حد سے بڑھ کرو گی جب مایوس
پھر ہی شاید خیال آئے مجھے
پیچھے مڑنے کا سوچ لوں شاید
پر یہ ممکن نہیں ہے میرے دوست
دل کی اچھی ہو جانتا ہوں میں
مجھے مایوس کیا کروگی تم
تھوڑنا دل تمہارے بس میں نہیں
چور ہو ، چور ہی رہوگی بس
میرے دل کو چرانے والی چور
پھر بھی کوشش تو چھوڑنے سے رہا
طول دینے سے اس فسانے کو
جتنا ممکن ہے جتنا ہو پایا
دل کو امید اب بھی ہے تم سے
حوصلے بھی نہیں تھکے ہارے
آنکھ میں اب بھی پانی ہے باقی
کہہ سکوں الوداع یہ مشکل ہے
تیز چلتی رہی یہ سرد ہوا
کھڑے رہنا ہے ان ہواؤ میں
ان گرجتی ہوئی گھٹاؤ میں
دل سے کیسے تمہیں بلاؤ میں
واپسی کا خیال مشکل ہے
حد سے بڑھ کرو گی جب مایوس
پھر ہی شاید خیال آئے مجھے
پیچھے مڑنے کا سوچ لوں شاید
پر یہ ممکن نہیں ہے میرے دوست
دل کی اچھی ہو جانتا ہوں میں
مجھے مایوس کیا کروگی تم
تھوڑنا دل تمہارے بس میں نہیں
چور ہو ، چور ہی رہوگی بس
میرے دل کو چرانے والی چور