انا کی جنگ تھی جھکنے کا تو سوال نہ تھا

حنیف خالد — مئی 12، 2016 7:49 صبح
انا کی جنگ تھی جھکنے کا تو سوال نہ تھا
وگرنہ ان کو منانا کوئی محال نہ تھا
میں ٹوٹ ٹوٹ کے بکھرا ، بکھر کے سمٹا ہوں
یہ تیرا عشق تھا میرا کوئی کمال نہ تھا
خزائیں پہلے بھی آتی تھیں اس چمن میں مگر
جو اب کی بار ہوا ہے کبھی یہ حال نہ تھا
یہ فیصلے ہیں مقدر کے اب گلہ کیسا
مرے نصیب میں شاید ترا وصال نہ تھا
میں جا رہا ہوں تو روٹھا وہ لوٹ آیا ہے
جسے حنیف مدتوں مرا خیال نہ تھا
الف عین — مئی 12، 2016 9:23 صبح
مقطع کا دوسرا مصرع بحر سے خارج ہے۔ باقی درست ہے۔
محمد تابش صدیقی — مئی 12، 2016 9:33 صبح
مقطع کا دوسرا مصرع بحر سے خارج ہے۔ باقی درست ہے۔
غالباً "مرا" کو "مدتوں" سے پہلے لانے سے بحر میں آ جائے گا؟
محمد خلیل الرحمٰن — مئی 12، 2016 11:01 صبح
غالباً "مرا" کو "مدتوں" سے پہلے لانے سے بحر میں آ جائے گا؟
متفق۔ شاید ٹائیپو ہے
عباد اللہ — مئی 12، 2016 7:52 شام
بہت خوب ہے
حنیف خالد — مئی 14، 2016 8:23 صبح
پسند کرنے کا تمام اساتذہ و احباب کا بہت بہت شکریہ۔
یقینا سر کتابت کی غلطی کی وجہ سے مصرع بحر سے خارج ہو گیا
اصل مصرع یوں ہے " جسے حنیف مرا مدتوں خیال نہ تھا " ۔۔
شاہد شاہنواز — مئی 14، 2016 1:40 شام
اچھی غزل ہے حنیف ۔۔۔۔ مصرع بحر سے خارج تھا ، وہ مجھے نظر نہ آیا کیونکہ میں نے روانی میں ہی اسے "جسے حنیف مرا مدتوں خیال نہ تھا" پڑھا تھا۔
شاہد شاہنواز — مئی 14، 2016 1:43 شام
۔۔۔۔خوبصورت ۔۔۔۔
حنیف خالد — مئی 18، 2016 4:13 صبح
بہت بہت نوازش۔۔۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%D9%86%D8%A7-%DA%A9%DB%8C-%D8%AC%D9%86%DA%AF-%D8%AA%DA%BE%DB%8C-%D8%AC%DA%BE%DA%A9%D9%86%DB%92-%DA%A9%D8%A7-%D8%AA%D9%88-%D8%B3%D9%88%D8%A7%D9%84-%D9%86%DB%81-%D8%AA%DA%BE%D8%A7.89862/