اناڑی شاعر کی تصیح فرما دیں۔۔۔۔۔۔ناتجربہ کار شاعر

طاہر — دسمبر 20، 2008 1:52 شام
خاکسار کی اس کوشش کو اساتذہ کرام اگر کوئی سیدھی راہ دکھلادیں تو عنایت ہوگی۔۔۔
قافلہِ امید کو میرَ کارواں نہ ملا
دل کے صحرا کو گُلستاں نہ ملا
تیری طلب میں آئے تھے یہاں
تو وہاں نہ ملا تو یہاں نہ ملا
جب سے نکلے تیرے کوچہ بہار سے
دھوپ میں کہیں سائباں نہ ملا
میری راہوں میں بھی پھول بچھاتا
شہرِ غم میں ایسا کوئی انساں نہ ملا
زہرِبے اعتنائی رگ و جاں میں اتر گیا
یہ ایک غم جو ہمیں کہاں کہاں نہ ملا
اپنے ہی شہر میں بھٹکتے رہے عمر بھر
کبھی زمیں نہ ملی کبھی آسماں نہ ملا
طاہر
محمد نعمان — دسمبر 20، 2008 3:06 شام
اساتذہ کرام کے آنے تک میں بھی خاموشی اختیار کرتا ہوں۔
پھر کچھ کہوں گا
الف عین — دسمبر 21، 2008 2:23 شام
اساتذہ کرام تو شکریے کا بٹن دبا کر چلے گئے۔ (وارث اپنی ذات میں انجمن ہیں اور اس لحاظ سے اساتذہ ہیں)۔ بہرحال اس کو بعد میں دیکھتا ہوں۔
محمد وارث — دسمبر 21، 2008 6:37 شام
اعجاز صاحب محبت ہے آپ کی بندہ پرور، وگرنہ میں تو شرمندہ سا ہو گیا آپ کا جملہ پڑھ کر، اور جہاں تک بات نشتر زنی کی ہے تو آپ بخوبی جانتے ہی ہیں کہ "پچیدہ کیسز" ہمیشہ ماہر ترین سرجن یعنی آپ کو ہی دیکھنے پڑتے ہیں :)
محمد نعمان — دسمبر 22، 2008 3:56 صبح
اساتذہ کرام تو شکریے کا بٹن دبا کر چلے گئے۔ (وارث اپنی ذات میں انجمن ہیں اور اس لحاظ سے اساتذہ ہیں)۔ بہرحال اس کو بعد میں دیکھتا ہوں۔
اعجاز صاحب اساتذہ کا جہاں ذکر ہوا تو وارث بھائی کے ساتھ آپ کا بھی نام آ گیا اور اساتذہ جمع کا سیغہ ہے یعنی ایک سے زیادہ۔۔۔۔۔مطلب آپ بھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔:!:
الف عین — دسمبر 22، 2008 3:49 شام
وارث کو اپنی ذات میں انجمن میں لکھا تھا نا میں نے۔۔۔ دانستہ یہ غلطی کی تھی اسلئے اساتذہ لکھا تھا۔
علی ذاکر — دسمبر 22، 2008 5:34 شام
اسلام و علیکم:
بہت خوب
طاہر — دسمبر 25، 2008 12:55 شام
حضور بندہ پروری ہےآپ کی آپ نے خاکسار کو اس قابل تو سمجھا کہ یہاں تشریف لائے بہت ممنون ہوں آپ کا۔
طاہر — دسمبر 25، 2008 12:58 شام
اساتذہ کرام تو شکریے کا بٹن دبا کر چلے گئے۔ (وارث اپنی ذات میں انجمن ہیں اور اس لحاظ سے اساتذہ ہیں)۔ بہرحال اس کو بعد میں دیکھتا ہوں۔

حضور خاکسار کے ذہن میں تو آپ کا خیال تھا یا محمد وارث صاحب کا ۔ابھی خاکسار اور حضرات سے تو بالکل بھی نا واقف ہے۔مگر آپ جناب اور وارث صاحب میرے ذہن میں تھے اسی لیے اساتذہ کا صیغہ استعمال کیا تھا
طاہر — دسمبر 25، 2008 1:02 شام
اعجاز صاحب اساتذہ کا جہاں ذکر ہوا تو وارث بھائی کے ساتھ آپ کا بھی نام آ گیا اور اساتذہ جمع کا سیغہ ہے یعنی ایک سے زیادہ۔۔۔۔۔مطلب آپ بھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔:!:

نعمان بھائی ہم تو ہمیشہ سے استادِ گرامی محترمی اعجاز صاحب اور قابلِ قدر محترم محمد وارث صاحب کو استاد کا درجہ دیتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔دونوں حضرات اپنی اپنی ذات میں اساتذہ ہیں۔۔۔۔
طاہر — دسمبر 25، 2008 1:07 شام
اعجاز صاحب محبت ہے آپ کی بندہ پرور، وگرنہ میں تو شرمندہ سا ہو گیا آپ کا جملہ پڑھ کر، اور جہاں تک بات نشتر زنی کی ہے تو آپ بخوبی جانتے ہی ہیں کہ "پچیدہ کیسز" ہمیشہ ماہر ترین سرجن یعنی آپ کو ہی دیکھنے پڑتے ہیں :)

جناب محترمی وارث صاحب کیا یہ اس قدر ’’پیچیدہ کیس‘‘ ہے۔۔آپ نے تو خاکسار کو پریشان کردیا ہے :grin::grin:
لگتا ہے شاعری اپنے بس کا روگ نہیں۔۔۔۔:roll::roll::(:(:(
محمد نعمان — دسمبر 25، 2008 2:40 شام
جناب محترمی وارث صاحب کیا یہ اس قدر ’’پیچیدہ کیس‘‘ ہے۔۔آپ نے تو خاکسار کو پریشان کردیا ہے :grin::grin:
لگتا ہے شاعری اپنے بس کا روگ نہیں۔۔۔۔:roll::roll::(:(:(
کیا ہوا طاہر بھائی کیوں ابھی سے ہمت ہار گئے ہیں ابھی تو وارث بھائی نے کچھ فرمایا بھی نہیں
مغزل — دسمبر 26، 2008 8:41 صبح
طاہر صاحب ۔ اچھی کاوش ہے ، مشق جاری رکھیے ، بابا جانی اور وارث بھائی آتے ہی ہونگے
طاہر — دسمبر 27، 2008 7:30 صبح
کیا ہوا طاہر بھائی کیوں ابھی سے ہمت ہار گئے ہیں ابھی تو وارث بھائی نے کچھ فرمایا بھی نہیں

نہیں نعمان بھائی ۔۔۔۔۔گھبرانا کیسا۔جب اوکھلی میں سر دیا تو موصلوں کا کیا ڈر۔۔۔۔۔۔:grin::grin::grin:
طاہر — دسمبر 27، 2008 7:33 صبح
طاہر صاحب ۔ اچھی کاوش ہے ، مشق جاری رکھیے ، بابا جانی اور وارث بھائی آتے ہی ہونگے

’’دل کے بہلانے کو یہ خیال اچھا ہے’’۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تسلی و تشفی کے لیے بہت شکریہ مغل بھائی۔۔۔۔۔۔۔:grin::grin::grin::grin:
ب وقوف — دسمبر 27، 2008 1:29 شام
بالکل بے وزن بے سروپا شاعری ہے۔
کس حکیم نے مشورہ دیا ہے کہ شاعری کی طرف آؤ؟
مجھے تو یہ غزل ناقابل تصحیح لگتی ہے۔ شروع سے دوبارہ بناؤ۔
محمد نعمان — دسمبر 27، 2008 3:06 شام
بالکل بے وزن بے سروپا شاعری ہے۔
کس حکیم نے مشورہ دیا ہے کہ شاعری کی طرف آؤ؟
مجھے تو یہ غزل ناقابل تصحیح لگتی ہے۔ شروع سے دوبارہ بناؤ۔
بے وقوف صاحب آپکی مزاق کی عادت لگتی ہے مگر پھر بھی آپکو ایسا نہیں کہنا چاہئیے۔شاعری کوئی بچوں کا کھیل نہیں ہے۔طاہر صاحب نے کوشش کی ہے اور اچھی کوشش کی ہے۔مزید بہتری کی گنجائش ہمیشہ رہتی ہے۔اگر انہوں نے دل لگا کر اس فن کو سیکھنا چاہا تو ضرور ترقی کریں گے اور ویسے بھی شاعری سیکھنے کی چیز ہے مشق سے مزید نکھرتی ہے۔
محمد نعمان — دسمبر 27، 2008 3:09 شام
نہیں نعمان بھائی ۔۔۔۔۔گھبرانا کیسا۔جب اوکھلی میں سر دیا تو موصلوں کا کیا ڈر۔۔۔۔۔۔:grin::grin::grin:
بہت اچھے طاہر صاحب یہ ہوئی نا با۔
جواںمردی اور ہمت ہمیشہ کامیابی سے ہمکنار کرتے ہیں۔اپنا حوصلہ ہمیشہ بلند رکھیں۔
تندہی باد مخالف سے نہ گھبرا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔:cool:
طاہر — فروری 28، 2009 1:52 شام
برسوں سے کوئی آیا نہ گیا
مدت سےمکاں ویراں پڑا ہے
:praying::praying::praying:
محمد نعمان — فروری 28، 2009 2:43 شام
آپ خود مکان میں ہوںگے تو کوئی آئے گا نا۔۔۔خالی مکان میں کون آ کے کرے گا بھی کیا۔۔۔
آپ تو ایسے گئے کہ واپس آ کے شکریہ کا بٹن بھی نہ دبا دیا کہ ہمیں آپ کی موجودگی کا کچھ احساس ہو پاتا۔
صفحات: 1 2

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%D9%86%D8%A7%DA%91%DB%8C-%D8%B4%D8%A7%D8%B9%D8%B1-%DA%A9%DB%8C-%D8%AA%D8%B5%DB%8C%D8%AD-%D9%81%D8%B1%D9%85%D8%A7-%D8%AF%DB%8C%DA%BA%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%D9%86%D8%A7%D8%AA%D8%AC%D8%B1%D8%A8%DB%81-%DA%A9%D8%A7%D8%B1-%D8%B4%D8%A7%D8%B9%D8%B1.17506/