اندھیرے تھے مگر ایسے نہیں تھے (مفاعیلن مفاعیلن فعولن)

نوید ناظم — اگست 25، 2017 2:40 شام
اندھیرے تھے مگر ایسے نہیں تھے
کہ سورج سے کبھی جھگڑے نہیں تھے
ہمیں صحرا نے گھیرا ہر طرف سے
ابھی پانی سے بھی نکلے نہیں تھے
مِرا دل آپ کا رستہ نہیں تھا؟
یہاں سے آپ کیا گزرے نہیں تھے؟
پھر آنکھوں سے ہمیں لینا پڑا کام
یہ بادل تو کبھی برسے نہیں تھے
مجھے اندر ہی اندر کھا گئے ہیں
جو آنسو آنکھ سے ٹپکے نہیں تھے
ہمیں یہ دشت پھر بھی گھر لگا تھا
نہیں تھیں کھڑکیاں، کمرے نہیں تھے
بہت مہنگی تھیں تعبیریں تبھی تو
یہ میرے خواب بھی بِکتے نہیں تھے
نوید ناظم — اگست 25، 2017 2:42 شام
محترم سر الف عین
دیگر اساتذہءِ کرام
سید ذیشان حیدر — اگست 25، 2017 2:45 شام
بہت خوب ناظم بھائی
الف عین — اگست 26، 2017 8:45 صبح
درست ہے غزل ماشاء اللہ۔
نوید ناظم — اگست 27، 2017 7:58 شام
درست ہے غزل ماشاء اللہ۔
بہت شکریہ سر!
نوید ناظم — اگست 27، 2017 7:58 شام
بہت خوب ناظم بھائی
نوازش!

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%D9%86%D8%AF%DA%BE%DB%8C%D8%B1%DB%92-%D8%AA%DA%BE%DB%92-%D9%85%DA%AF%D8%B1-%D8%A7%DB%8C%D8%B3%DB%92-%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA-%D8%AA%DA%BE%DB%92-%D9%85%D9%81%D8%A7%D8%B9%DB%8C%D9%84%D9%86-%D9%85%D9%81%D8%A7%D8%B9%DB%8C%D9%84%D9%86-%D9%81%D8%B9%D9%88%D9%84%D9%86.98059/