انسانیت

Khan arifa noor — فروری 18، 2018 4:58 شام
کھڑی کنارے سسک رہی ہے
ہم سب سے یہ پوچھ رہی ہے
کیا تم مجھ کو ڈھونڈ رہے ہو
نفرت کے ایوانوں میں
خاروں میں اور جنگل میں
تپتے ہوے صحراؤں میں
ریتیلے میدانوں میں
تم تو رستہ بھول گئے ہو
سمت مخالف چلے گئے ہو
آؤ میں تم کو بتلاؤں
کہاں ملوں گی یہ سمجھاؤں
پیار کی ٹھنڈی چھاؤں میں
پھولوں کے باغیچوں میں
بھینی بھینی باد سحر میں
موتی جیسی شبنم میں
پتہ مرا تم جان گئے ہو
رستوں کو پہچان گئے ہو
اب کچھ اپنا حال بتاؤں
درد دل میں تمہیں سنا
ؤں
ٹوٹ پھوٹ کر بکھر گئی ہوں
رو رو کر بے حال ہوئی ہوں
زخم بھی مجھ کو تم نے دئیے ہیں
دل پہ مرے سو وار کئے ہیں
اتنی سی گذارش ہے تم سے
مٹنے مت دو اس دنیا سے
میں جو مٹی، اس دنیا میں خون خرابہ ہی ہو گا
بھائی بھائی کو مارے گا دشمن اپنا ہی ہو گا
امید سے تم کو دیکھ رہی ہے
''انسانیت'' دم توڑ رہی ہے

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%D9%86%D8%B3%D8%A7%D9%86%DB%8C%D8%AA.100210/