اُفق اُفق سجا کرےنگر نگرپھرا کرے

ابن رضا — اکتوبر 11، 2013 10:21 صبح
گزارش برائے اصلاح بحضور جناب
الف عین محمد یعقوب آسی سید عاطف علی مزمل شیخ بسمل مہدی نقوی حجاز محمد اسامہ سَرسَری و دیگر اربابِ سخن
وفا کرےجفا کرے، رَوش جو وہ روا کرے
جہاں رہےسکھی رہےخدا کرےخدا کرے
کہا سُنا اگر کبھی ذرا اُسےبُرا لگے
بُرا بھلاکہا کرےخفا نہیں ہُوا کرے
اُفق اُفق سجا کرےنگر نگرپھرا کرے
جہاں کہیں رہا کرےکبھی تو آملا کرے
قدم قدم رہے اُسےبہار کاہی سامنا
الگ تھلک خفا خفا،خِزاں سدا رہا کرے
سکوں ملےہزار بار اِضطراب ِدل سے بھی
کرم کی اِک نگاہ جوکبھی ہمیں عطا کرے
نگاہ میں جودیکھ لےسوال کچھ ا ُٹھے ہوئے
اِ دھر اُدھراگر مگر، جواز یوں گھڑا کرے
نواز کر جو وصل کومٹا دِےسارےفاصلے
ہِےایک یہِ ہی آرزو خدا نہ پھرجُدا کرے
وفا کِی پاسداری کی لگا کے آگ سینے میں
ہے سا نحہ یہ عشق کا،کہ رات دن جلا کرے
اُمید کاچراغ گر،کبھی جو تھرتھرا اُٹھے
نظر نظرجلا کرےنظر نظربجھا کرے
نصیب میں رضا ترےوصال تونہیں مگر
یقین یہ ضرور ہےخدا ہی معجزا کرے
ہے برسبیلِ تذکرہ یہ بات یونہی چھیڑ دی
اگر اُسےبُرا لگےمعاف یہ خطا کرے
محمد اسامہ سَرسَری — اکتوبر 11، 2013 10:50 صبح
واہ جناب واہ۔۔۔۔ کیا خوب غزل کہی ہے۔۔۔۔
مطلع کے پہلے مصرع میں وزن کے لحاظ سے نظر ثانی فرمالیں۔
ابن رضا — اکتوبر 11، 2013 11:02 صبح
واہ جناب واہ۔۔۔ ۔ کیا خوب غزل کہی ہے۔۔۔ ۔
مطلع کے پہلے مصرع میں وزن کے لحاظ سے نظر ثانی فرمالیں۔
جی شکریہ محترم ٹائیپو کوتاہی ہے دراصل مصرع یوں ہے۔ میں تدوین بھی کر دیتا ہوں
وفا کرےجفا کرے، رَوش جو وہ روا کرے

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%D9%8F%D9%81%D9%82-%D8%A7%D9%8F%D9%81%D9%82-%D8%B3%D8%AC%D8%A7-%DA%A9%D8%B1%DB%92%D9%86%DA%AF%D8%B1-%D9%86%DA%AF%D8%B1%D9%BE%DA%BE%D8%B1%D8%A7-%DA%A9%D8%B1%DB%92.68388/