ظفری — مارچ 1، 2013 1:54 صبح
اُمیدِ سحر ہے ابھی کوئی
تیرا منتظر ہے ابھی کوئی
تجھے لوٹ کے جانا ہے
تیرا گھر ہے ابھی کوئی
راحت منز ل پہ ملے گی
مشکل ڈگر ہے ابھی کوئی
کہانی بھی طول کھینچے گی
قصہ مختصر ہے ابھی کوئی
اس کا ہاتھ ترے ہاتھ میں
کیسا ڈر ہے ابھی کوئی
گُلوں کو کھلنا ہے ظفر
ہرا شجر ہے ابھی کوئی
ظفری — مارچ 1، 2013 2:13 صبح
شکریہ
زبیر مرزا بھائی۔۔۔۔۔ اور استادوں کی مشقت کے لیئے پیشگی معذرت ۔۔۔۔

نایاب — مارچ 1، 2013 2:25 صبح
بہت خوب محترم ظفری بھائی
کہانی بھی طول کھینچے گی
قصہ مختصر ہے ابھی کوئی
زبیر مرزا — مارچ 1، 2013 2:35 صبح
تجھے لوٹ کے جانا ہے
تیرا گھر ہے ابھی کوئی
بہت زبردست جناب - ویک اینڈ کوئی مزید اُداس کرنے والا کلام - چلیں اُداسی کی کاٹ اُداسی سے ہی سہی