محمد ثاقب — اکتوبر 30، 2013 7:07 صبح
آیا ہے مجھ کو گر پیامِ عشق تو برسوں بعد
ہوتی اگر وا ہے نیامِ عشق تو برسوں بعد
پھر وادئِ عشاق میں اب سرخئِ خوں چھائے گی
مقتل سجے گا، تیرگی مٹ جائے گی برسوں بعد
اب جو ترستے زندگی کو ہیں، نوالہ پاس نہیں
انسانیت بھی اُن کو ترسے گی مگر برسوں بعد
میرے فلسطیں پر جو چھائے بادلِ اغیار ہیں
چھٹ جائیں گے، لہرائے گا پرچم مرا برسوں بعد
زنجیرِباطل ہو گی باطل، اب پلٹ آئے گا حق
اِنصاف ہو گا پھر سرِ مقتول سے برسوں بعد
دلدادہ تھا جو دل سکوں کا دیکھ کر حالت تری
اے مسلمِ فانی ہوا ہے مضطرب برسوں بعد
باطل بڑھا ہے جب حرم کی آبرو سے کھیلنے
تب زاھقِ باطل پلٹ آیا ہے برسوں بعد
اگر کوئی استاد دیکھے تو برائے مہر بانی اِصلاح کر دے!
شکریہ!
ابن رضا — اکتوبر 30، 2013 7:23 صبح
آیا ہے مجھ کو گر پیامِ عشق تو برسوں بعد
ہوتی اگر وا ہے نیامِ عشق تو برسوں بعد
پھر وادئِ عشاق میں اب سرخئِ خوں چھائے گی
مقتل سجے گا، تیرگی مٹ جائے گی برسوں بعد
اب جو ترستے زندگی کو ہیں، نوالہ پاس نہیں
انسانیت بھی اُن کو ترسے گی مگر برسوں بعد
میرے فلسطیں پر جو چھائے بادلِ اغیار ہیں
چھٹ جائیں گے، لہرائے گا پرچم مرا برسوں بعد
زنجیرِباطل ہو گی باطل، اب پلٹ آئے گا حق
اِنصاف ہو گا پھر سرِ مقتول سے برسوں بعد
دلدادہ تھا جو دل سکوں کا دیکھ کر حالت تری
اے مسلمِ فانی ہوا ہے مضطرب برسوں بعد
باطل بڑھا ہے جب حرم کی آبرو سے کھیلنے
تب زاھقِ باطل پلٹ آیا ہے برسوں بعد
اگر کوئی استاد دیکھے تو برائے مہر بانی اِصلاح کر دے!
شکریہ!
اچھی سعی ہے، آپ نے شایدرجز مثمن سالم(
مستفعلن مستفعلن مستفعلن مستفعلن) آزمائی ہے مگر اسے نبھانا ابھی باقی ہے مزید یہ غزل غیر مقفی ہے برائے مہربانی غزل کو کوئی قافیہ عنایت کریں تو اساتذہ بھی اصلاح تجویز کر دیں گے۔
سید عاطف علی — اکتوبر 30، 2013 7:28 صبح
ایک مر تبہ اوزان پہ نظر ثانی کیجیے۔غالباً آپ "برسوں بعد" کی جگہ "برسوں کے بعد" کہنا چاہ رہے ہیں ۔ اوزان اور بحر کے بعد دیکھا جائے گا کہ کیا تجاویز مناسب ہیں۔۔اچھی کوشش ہےالبتّہ۔
محمد ثاقب — اکتوبر 31، 2013 5:55 صبح
ایک مر تبہ اوزان پہ نظر ثانی کیجیے۔غالباً آپ "برسوں بعد" کی جگہ "برسوں کے بعد" کہنا چاہ رہے ہیں ۔ اوزان اور بحر کے بعد دیکھا جائے گا کہ کیا تجاویز مناسب ہیں۔۔اچھی کوشش ہےالبتّہ۔
اچھی سعی ہے، آپ نے شایدرجز مثمن سالم(مستفعلن مستفعلن مستفعلن مستفعلن) آزمائی ہے مگر اسے نبھانا ابھی باقی ہے مزید یہ غزل غیر مقفی ہے برائے مہربانی غزل کو کوئی قافیہ عنایت کریں تو اساتذہ بھی اصلاح تجویز کر دیں گے۔
جی! بحر رجزہی
ایک مر تبہ اوزان پہ نظر ثانی کیجیے۔غالباً آپ "برسوں بعد" کی جگہ "برسوں کے بعد" کہنا چاہ رہے ہیں ۔ اوزان اور بحر کے بعد دیکھا جائے گا کہ کیا تجاویز مناسب ہیں۔۔اچھی کوشش ہےالبتّہ۔
"کے بعد" لکھنے سے تقطیع کیا ہو گی؟
سید عاطف علی — اکتوبر 31، 2013 6:21 صبح
جی! بحر رجزہی
"کے بعد" لکھنے سے تقطیع کیا ہو گی؟
برادر ثاقب ۔آپ کی باتوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ آپ کو کچھ کفیوژن لفظ ۔بعد ۔ کے وزن کی وجہ سے ہو رہی ہے ۔ غالبا ً آپ "بعد" کو جگر کے ہموزن برت رہے ہیں۔
لفظ "بعد" کو لفظ "درد" کا ہموزن تصور کیجئے۔اورپھر ایک مرتبہ نظر ثانی کیجئے ۔۔۔۔۔باقی تقطیع کا طریقہ اور بحربھی وہی ہےجو برادر
ابن رضا نے بیان کی ہے۔والسلام
آخری مصرع کو اور
نوالہ والے مصرع کو ضرور دیکھئے گا۔
محمد ثاقب — اکتوبر 31، 2013 6:23 صبح
برادر ثاقب ۔آپ کی باتوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ آپ کو کچھ کفیوژن لفظ ۔بعد ۔ کے وزن کی وجہ سے ہو رہی ہے ۔ غالبا ً آپ "بعد" کو جگر کے ہموزن برت رہے ہیں۔
لفظ "بعد" کو لفظ "درد" کا ہموزن تصور کیجئے۔اورپھر ایک مرتبہ نظر ثانی کیجئے ۔۔۔ ۔۔باقی تقطیع کا طریقہ اور بحربھی وہی ہےجو برادر
ابن رضا نے بیان کی ہے۔والسلام
آخری مصرع کو اور
نوالہ والے مصرع کو ضرور دیکھئے گا۔
جی! ایسا ہی تھا۔ اب سمجھ آ گئی ہے۔ شکریہ
محمد ثاقب — اکتوبر 31، 2013 6:25 صبح
جی! ایسا ہی تھا۔ اب سمجھ آ گئی ہے۔ شکریہ
"نوالہ چھن گیا" ٹھیک رہے گا؟
سید عاطف علی — اکتوبر 31، 2013 6:26 صبح
جی! ایسا ہی تھا۔ اب سمجھ آ گئی ہے۔ شکریہ
میری آخری والی سظر پھر بھی توجّہ کی محتاج ہے۔دیکھ لیجئے گا۔آداب
محمد ثاقب — اکتوبر 31، 2013 6:27 صبح
میری آخری والی سظر پھر بھی توجّہ کی محتاج ہے۔دیکھ لیجئے گا۔آداب
یُس کا بھی کچھ کرتا ہوں! آداب
ابن رضا — اکتوبر 31، 2013 6:41 صبح
مزید یہ کہ اگر آپ نے پیام نیام بطور قافیہ مطلع میں استعمال کیا ہے تو آگے بھی ہر شعر کے دوسرے مصرے میں اس کی تکرار لازم ہے جیسے صیام ، قیام، ایام اور یہ بہت تنگ قافیہ ہے بہتر ہوگا کہ کوئی اور قافیہ لے کر آئیں
مزمل شیخ بسمل — نومبر 2، 2013 6:36 شام
اچھی کوشش۔
