اٹھ رہا ہے دھواں اب لہروں سے۔۔۔۔۔۔۔نور سعدیہ شیخ

نور وجدان — اگست 25، 2015 5:14 شام
اٹھ رہا ہے دھواں اب لہروں سے
خاک لے جائیں گی لہریں اب کیا؟
راکھ اُڑتی رہی کاغذ سے بھی
کیا بچا ۔۔؟جو لے اُڑیں گی لہریں!
پاؤں سے مسل کسی نے مجھ کو
خواب سا لمس دیا ، یہ تُم ہو!!
کیا کُریدو گے مجھے مدت تک!!!
تم سُنو اب کہ فنا ہے لذت
ہر نگر جل ہے چکا یادوں کا
مٹ چکے ہیں وہ نشاں بھی سارے
جن پہ تو مان سے چل چل کے ہی
زخم پل پل جو دیا کرتا تھے
وہ دھواں بھی تو نہیں باقی اب
مسکرالو! کہ بڑے اچھے ہو تم!!!
الف عین — اگست 26، 2015 7:06 صبح
کچھ مصرع فاعلاتن مفاعلن فعلن میں اور کچھ فاعلاتن فعلاتن فعلن میں تقطیع ہوتے ہیں، کچھ دونوں میں نہیں۔
الفاظ کی نشست کئی جگہ قابل غور ہے۔
عنوان ہی سمجھنے سے قاصر ہوں، لہروں سے دھواں؟
’تو‘ مان سے چل کر زخم ’دیا کرتے تھے‘؟؟
آوازِ دوست — اگست 26، 2015 8:22 صبح
اٹھ رہا ہے دھواں اب لہروں سے
خاک لے جائیں گی لہریں اب کیا؟
راکھ اُڑتی رہی کاغذ سے بھی
کیا بچا ۔۔؟جو لے اُڑیں گی لہریں!
پاؤں سے مسل کسی نے مجھ کو
خواب سا لمس دیا ، یہ تُم ہو!!
کیا کُریدو گے مجھے مدت تک!!!
تم سُنو اب کہ فنا ہے لذت
ہر نگر جل ہے چکا یادوں کا
مٹ چکے ہیں وہ نشاں بھی سارے
جن پہ تو مان سے چل چل کے ہی
زخم پل پل جو دیا کرتا تھے
وہ دھواں بھی تو نہیں باقی اب
مسکرالو! کہ بڑے اچھے ہو تم!!!
ہہہہم ! پُر خیال مضمون ہے ، باقی funny خرابیاں تو ہمارا آپ کا مشترکہ دُکھڑا ہے :)
لئیق احمد — اگست 26، 2015 8:40 صبح
خامشی جنگلوں کی کھینچتی ہے
لوگ اب جارہے ہیں شہروں سے
یار میرا پلٹ کے لوٹ آیا
اب نہیں کھیلتا ہوں لہروں سے
بشکریہ
اٹھ رہا ہے دھواں اب لہروں سے
ابن رضا — اگست 26، 2015 10:44 صبح
اٹھ رہا ہے دھواں اب لہروں سے
خاک لے جائیں گی لہریں اب کیا؟
راکھ اُڑتی رہی کاغذ سے بھی
کیا بچا ۔۔؟جو لے اُڑیں گی لہریں!
پاؤں سے مسل کسی نے مجھ کو
خواب سا لمس دیا ، یہ تُم ہو!!
کیا کُریدو گے مجھے مدت تک!!!
تم سُنو اب کہ فنا ہے لذت
ہر نگر جل ہے چکا یادوں کا
مٹ چکے ہیں وہ نشاں بھی سارے
جن پہ تو مان سے چل چل کے ہی
زخم پل پل جو دیا کرتا تھے
وہ دھواں بھی تو نہیں باقی اب
مسکرالو! کہ بڑے اچھے ہو تم!!!
اب میرا مشورہ یہ ہے کہ یہ تو وہ خیال ہے جو آپ پہ وارد ہوا تھا اس کو من و عن لکھ لیا اب اگلا مرحلہ اسکی تراش خراش اور نکھار کا اور نظم کا ہے
نور وجدان — اگست 26، 2015 3:13 شام
اب میرا مشورہ یہ ہے کہ یہ تو وہ خیال ہے جو آپ پہ وارد ہوا تھا اس کو من و عن لکھ لیا اب اگلا مرحلہ اسکی تراش خراش اور نکھار کا اور نظم کا ہے
تراش خراش اور کانٹ چھانٹ سے خیال مزید بگڑتا ہے یا نہیں ؟ یہ تو واقعی درزی والا کام ہوا نا۔۔۔ پہلے کاٹو اور تراشو اور پھر سیو ۔۔۔ سو میں تو براہ راست سیتی ہوں ۔۔ یہ تو ہوگا نا ۔۔۔
ابن رضا — اگست 26، 2015 5:34 شام
تراش خراش اور کانٹ چھانٹ سے خیال مزید بگڑتا ہے یا نہیں ؟ یہ تو واقعی درزی والا کام ہوا نا۔۔۔ پہلے کاٹو اور تراشو اور پھر سیو ۔۔۔ سو میں تو براہ راست سیتی ہوں ۔۔ یہ تو ہوگا نا ۔۔۔
جو چاہے آپ کا حسنِ کرشمہ ساز کرے
نور وجدان — اگست 27، 2015 10:53 صبح
جو چاہے آپ کا حسنِ کرشمہ ساز کرے
ہم تو باقاعدہ اصلاح کریں گے اپنی اب ۔۔۔ جہاں کچھ سیکھا ہے وہاں اور بھی سیکھوں گی
ابن رضا — اگست 27، 2015 11:36 صبح
ہم تو باقاعدہ اصلاح کریں گے اپنی اب ۔۔۔ جہاں کچھ سیکھا ہے وہاں اور بھی سیکھوں گی
سیکھنے کا عمل تو زندگی بھر جاری رہتا ہے اور رہنا بھی چاہیے۔
ملک عدنان احمد — اگست 27، 2015 12:39 شام
تراش خراش اور کانٹ چھانٹ سے خیال مزید بگڑتا ہے یا نہیں ؟ یہ تو واقعی درزی والا کام ہوا نا۔۔۔ پہلے کاٹو اور تراشو اور پھر سیو ۔۔۔ سو میں تو براہ راست سیتی ہوں ۔۔ یہ تو ہوگا نا ۔۔۔
تراش خراش لازمی ہے اور اسکی سمت کا تعین بھی ضروری ہے کہ اسے نظم بنانا ہے، غزل، رباعی یا کچھ اور۔ ورنہ خیالات کے اظہار کے لیے نثر کے دروازے کھلے ہیں۔
الفاظ کو سیا باندھا نہ جائے تو ایسا ہی ہے جیسے فراک، قمیص، یا ٹی شرٹ کی بجائے کھلا کپڑا ہی پہن لیا جائے۔۔ :LOL:

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%D9%B9%DA%BE-%D8%B1%DB%81%D8%A7-%DB%81%DB%92-%D8%AF%DA%BE%D9%88%D8%A7%DA%BA-%D8%A7%D8%A8-%D9%84%DB%81%D8%B1%D9%88%DA%BA-%D8%B3%DB%92%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%D9%86%D9%88%D8%B1-%D8%B3%D8%B9%D8%AF%DB%8C%DB%81-%D8%B4%DB%8C%D8%AE.84197/