اپنا اسے سمجھو ، مگر اپنا ہی نہ سمجھو

محمد اسامہ سَرسَری — اکتوبر 14، 2013 10:11 شام
ہوتا ہے ہر اک ظلم گھٹا ٹوپ اندھیرا
چھٹ جائے گا جب ہوگا قیامت کا سویرا
معشوقِ حقیقی نے دیا عشقِ حقیقی
خود خالقِ دل کا ہے اب اس دل میں بسیرا
اپنا اسے سمجھو ، مگر اپنا ہی نہ سمجھو
یہ ملک ہمارا ہے ، نہ تیرا ہے نہ میرا
قرآن و احادیث و صحابہ پہ یقیں رکھ
بیکا نہیں کرسکتا کوئی بال بھی تیرا
گر نفس ہے امارہ اسے مار اے بیمار!
جو مار سے بے بس ہو وہ کاہے کا سپیرا
جنت نے تو مسحور رکھا مجھ کو سحر تک
بیٹھے ہوئے اک شب جو خیالات نے گھیرا
ہم امتیٔ شافعِ محشر ہیں اسامہ!
یوں دستِ کرم ہم پہ ہے رحمان نے پھیرا
سید عاطف علی — اکتوبر 14، 2013 10:22 شام
بہت اچھے اسامہ بھائی صاحب۔۔۔ امتی کی ی کی نرمی کے فورا" بعد ہیں کی ہ ذرا روانی میں آڑے کر ثقالت لا رہی ہے۔۔۔ اسے اس طرح ترتیب دیا یا سکتا ہے ۔ ۔۔۔ ہم امتی ء شافعِ محشر ہیں اسامہ!۔ ۔۔ یہ مشورہ مفت ہے ۔اور مفت مشورے ہر طرح کے ہو سکتے ہیں سو برداشت کیجیئے گا ۔:)
محمد اسامہ سَرسَری — اکتوبر 14، 2013 10:23 شام
بہت اچھے اسامہ بھائی صاحب۔۔۔ امتی کی ی کی نرمی کے فورا" بعد ہیں کی ہ ذرا روانی میں آڑے کر ثقالت لا رہی ہے۔۔۔ اسے اس طرح ترتیب دیا یا سکتا ہے ۔ ۔۔۔ ہم امتی ء شافعِ محشر ہیں اسامہ!۔ ۔۔ یہ مشورہ مفت ہے ۔اور مفت مشورے ہر طرح کے ہو سکتے ہیں سو برداشت کیجیئے گا ۔:)
جزاکم اللہ خیرا بھائی توجہ ، حوصلہ افزائی اور تصحیح فرمانے کا۔
ابھی تدوین کیے دیتا ہوں۔
سید عاطف علی — اکتوبر 14، 2013 10:27 شام
جزاکم اللہ خیرا بھائی توجہ ، حوصلہ افزائی اور تصحیح فرمانے کا۔
ابھی تدوین کیے دیتا ہوں۔
سپیرے کی مناسبت سے سانپ ہی زیادہ ٹھیک ہو (شاید)۔بر وزن بھی ہے۔
محمد اسامہ سَرسَری — اکتوبر 14، 2013 10:30 شام
سپیرے کی مناسبت سے سانپ ہی زیادہ ٹھیک ہو (شاید)۔بر وزن بھی ہے۔
نفس کو مارنے اور بیمار کی لفظی مناسبت سے لایا ہوں۔
سید عاطف علی — اکتوبر 14، 2013 10:41 شام
نفس کو مارنے اور بیمار کی لفظی مناسبت سے لایا ہوں۔
اس لطافت کو تو میں پا ہی نہ سکا تھا ۔۔۔
واہ بھئی واہ۔ اس طرح تو نفس ِامّار لے آتے ۔وہ نفس کہ امّار ہے بیمار ہے بیمار۔۔۔۔واضح رہے کہ نفس امّارہ در اصل عربی ترکیب ہے جو کہ عربی قاعدے کے تحت نفس کے مؤنث ہونے کی وجہ سے ہے ۔ سو ہمیں اردو میں نفس امار کہنا بجا ہوگا ۔;)( ازراہ تفنن آپ کی طرح قوسین کی وضاحت :laughing:)
محمد اسامہ سَرسَری — اکتوبر 14، 2013 11:02 شام
اس لطافت کو تو میں پا ہی نہ سکا تھا ۔۔۔
واہ بھئی واہ۔ اس طرح تو نفس ِامّار لے آتے ۔وہ نفس کہ امّار ہے بیمار ہے بیمار۔۔۔ ۔واضح رہے کہ نفس امّارہ در اصل عربی ترکیب ہے جو کہ عربی قاعدے کے تحت نفس کے مؤنث ہونے کی وجہ سے ہے ۔ سو ہمیں اردو میں نفس امار کہنا بجا ہوگا ۔;)( ازراہ تفنن آپ کی طرح قوسین کی وضاحت :laughing:)
امارہ لانے سے بھی وزن اور لطافت دونوں متاثر نہ ہوں گے۔
اب دیکھیں:
گر نفس ہے امارہ اسے مار اے بیمار!
جو مار سے بے بس ہو وہ کاہے کا سپیرا
سید عاطف علی — اکتوبر 14، 2013 11:28 شام
امارہ لانے سے بھی وزن اور لطافت دونوں متاثر نہ ہوں گے۔
اب دیکھیں:
گر نفس ہے امارہ اسے مار اے بیمار!
جو مار سے بے بس ہو وہ کاہے کا سپیرا
امارہ لانے سے بھی وزن اور لطافت دونوں متاثر نہ ہوں گے۔
اب دیکھیں:
گر نفس ہے امارہ اسے مار اے بیمار!
جو مار سے بے بس ہو وہ کاہے کا سپیرا
بہترین۔۔۔امار سے نفس کو ذرا اور مار پڑتی ۔:)
محمد اسامہ سَرسَری — اکتوبر 15، 2013 12:07 صبح
بہترین۔۔۔ امار سے نفس کو ذرا اور مار پڑتی ۔:)
مگر یہ مار ذرا اور قسم کی ہے۔:) (از راہ مذاق)
الف عین — اکتوبر 15، 2013 3:57 صبح
بہت خوب۔
قرآن و احادیث و صحابہ پہ یقیں رکھ
بیکا نہیں کرسکتا کوئی بال بھی تیرا
÷÷اس شعر میں مجھے یہ غلطی محسوس ہوئی ہے کہ محاورہ درست نہیں باندھا گیا ہے۔ بال یہاں فاعل کی حیثیت سے آ رہا ہے، جب کہ محاورہ مکمل بال بیکا ہے۔
گر نفس ہے امارہ اسے مار اے بیمار!
جو مار سے بے بس ہو وہ کاہے کا سپیرا
÷÷ ’مار اے بیمار‘ بھی صوتی طور پر اچھا نہیں لگا۔ ’اے‘ کی ے گرنے کی وجہ سے
سید عاطف علی — اکتوبر 15، 2013 6:41 صبح
بہت خوب۔
قرآن و احادیث و صحابہ پہ یقیں رکھ
بیکا نہیں کرسکتا کوئی بال بھی تیرا
÷÷اس شعر میں مجھے یہ غلطی محسوس ہوئی ہے کہ محاورہ درست نہیں باندھا گیا ہے۔ بال یہاں فاعل کی حیثیت سے آ رہا ہے، جب کہ محاورہ مکمل بال بیکا ہے۔
گر نفس ہے امارہ اسے مار اے بیمار!
جو مار سے بے بس ہو وہ کاہے کا سپیرا
÷÷ ’مار اے بیمار‘ بھی صوتی طور پر اچھا نہیں لگا۔ ’اے‘ کی ے گرنے کی وجہ سے
میرے خیال میں بال کو مفعول اور کوئی کو فاعل کے طور پر لیا جاسکتا ہے جو محاورے کے مطابق ہے۔ یعنی۔ کوئی تیرا بال بھی بیکا نہیں کر سکتا ۔
محمد اسامہ سَرسَری — اکتوبر 15، 2013 7:28 صبح
بہت خوب۔
قرآن و احادیث و صحابہ پہ یقیں رکھ
بیکا نہیں کرسکتا کوئی بال بھی تیرا
÷÷اس شعر میں مجھے یہ غلطی محسوس ہوئی ہے کہ محاورہ درست نہیں باندھا گیا ہے۔ بال یہاں فاعل کی حیثیت سے آ رہا ہے، جب کہ محاورہ مکمل بال بیکا ہے۔
گر نفس ہے امارہ اسے مار اے بیمار!
جو مار سے بے بس ہو وہ کاہے کا سپیرا
÷÷ ’مار اے بیمار‘ بھی صوتی طور پر اچھا نہیں لگا۔ ’اے‘ کی ے گرنے کی وجہ سے
بہت شکریہ استاد جی توجہ اور حوصلہ افزائی فرمانے کا۔۔۔ جزاکم اللہ خیرا۔
اگرچہ پہلے شعر میں بال کو مفعول کے طور پر لایا ہوں۔۔۔ مگر بہرحال فاعل ہونے کے احتمال کو ختم کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔
”اے بیمار“ کی صحت کی بھی فکر ہے۔۔۔کوشش کرتا ہوں۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%D9%BE%D9%86%D8%A7-%D8%A7%D8%B3%DB%92-%D8%B3%D9%85%D8%AC%DA%BE%D9%88-%D8%8C-%D9%85%DA%AF%D8%B1-%D8%A7%D9%BE%D9%86%D8%A7-%DB%81%DB%8C-%D9%86%DB%81-%D8%B3%D9%85%D8%AC%DA%BE%D9%88.68509/