اپنوں کا نگر ہے ۔۔۔۔۔۔۔ برائے اصلاح

loneliness4ever — مئی 15، 2015 3:39 شام
السلام علیکم
فقیر ایک مرتبہ پھر حاظر ہے خدمت میں
امید ہے عنایتوں کا سلسلہ جاری رہے گا
اپنوں کا نگر ہے اور کوئی نہ ہمارا ہے
انسانوں کی بستی کا اک یہ ہی فسانہ ہے
جیون کی حقیقت کی کیا بات کریں تم سے
شب بھر کا یہ قصہ ہے اور خواب سہانا ہے
تقدیر سے لڑ کر بھی ہوتا ہے گزارہ کیا
اک یہ ہی حقیقت ہے انسان کھلونا ہے
اتنا ہے یقیں ہم کو اس نے ہمیں چاہا تھا
گزرے ہوئے ماضی نے اس کو بھی رلایا ہے
ٹوٹے ہوئے دل پر تم لوگوں کو ہنساتے ہو
تم بھول گئے شاید یہ گھر بھی تمھارا ہے
گھٹ گھٹ کے جئیں کیوں ہم گزرے ہوئے لمحوں پر
سانسوں کی مسافت جب دن بھر کا فسانہ ہے
اب کیسا تڑپنا ہو سب جھوٹا فسانہ تھا
جھوٹی تھی وہ الفت اور قصہ بھی پرانا ہے
س ن مخمور​
الف عین — مئی 16، 2015 2:20 صبح
کوئی اہم عروضی غلطی تو نہیں، لیکن بھرتی کے لفاظ سے دامن بچانے سے روانی میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ مفعول مفاعیلن جہاں پہلی بار ختم ہوےا ہے، وہاں بات مکمل ہو جانی چاہئے، ’اور‘ بھی اچھا نہیں لگتا۔ جیسے مطلع ہی لو۔
اپنوں کا نگر ہے اور کوئی نہ ہمارا ہے
میں ’اور‘ کی نشست پہ غور کریں۔
’کوئی نہ ہے‘ محاورہ نہیں، کوئی نہیں کافی ہے۔
اپنوں کا نگر ہے یہ، اور کوئی نہیں اپنا
زیادہ رواں ہے نا!!
مطلع اس کو بدل دیں ’تھا‘ کی جگہ ’ہے‘ استعمال کر کے
اتنا ہے یقیں ہم کو اس نے ہمیں چاہا تھا
جیون کی حقیقت کی کیا بات کریں تم سے
شب بھر کا یہ قصہ ہے اور خواب سہانا ہے
÷÷ ہندی لفظ ’جیون‘ نکال دیں،
تقدیر سے لڑ کر بھی ہوتا ہے گزارہ کیا
اک یہ ہی حقیقت ہے انسان کھلونا ہے
÷÷بے ربط لگتا ہے۔
ٹوٹے ہوئے دل پر تم لوگوں کو ہنساتے ہو
تم بھول گئے شاید یہ گھر بھی تمھارا ہے
÷÷’یہ گھر تمہارا ہی ہے‘ تو درست ہو سکتا تھا، ’گھر ہی تمہارا‘ بھی محاورے کے خلاف ہے، کچھ اور سوچو۔
گھٹ گھٹ کے جئیں کیوں ہم گزرے ہوئے لمحوں پر
سانسوں کی مسافت جب دن بھر کا فسانہ ہے
÷÷لمحوں پر جینا؟؟؟
اب کیسا تڑپنا ہو سب جھوٹا فسانہ تھا
جھوٹی تھی وہ الفت اور قصہ بھی پرانا ہے
۔۔جھوٹی تھی محبت بھی
سے روانی بہتر ہو جاتی ہے
Mystic Enigma — مئی 16، 2015 4:29 صبح
بہت۔ا اچھا سمجھاتے ہیں ہم شاعری نہیں جانتے شوق بہت ہے شاعری کریں. کیا کریں
ابن رضا — مئی 16، 2015 10:45 صبح
بہت۔ا اچھا سمجھاتے ہیں ہم شاعری نہیں جانتے شوق بہت ہے شاعری کریں. کیا کریں
بس اللہ کا نام لے کر شروع کریں سمجھ بھی آتے آتے آتی جائے گی۔ بنیادی معلومات کا مطالعہ کریں پھر ایک خیال کو ترتیب دے کر لفظوں کے سانچے میں منتقل کریں اور یہاں پوسٹ کریں
Mystic Enigma — مئی 16، 2015 11:57 صبح
چلیں ہم پہلی اڑان بھر کے دیکھتے ہیں.
فاروق احمد بھٹی — مئی 16، 2015 12:10 شام
بہت۔ا اچھا سمجھاتے ہیں ہم شاعری نہیں جانتے شوق بہت ہے شاعری کریں. کیا کریں
پہلی فرصت میں اس کتاب کا مطالعہ کریں۔
فاعلات
Mystic Enigma — مئی 16، 2015 1:01 شام
پہلی فرصت میں اس کتاب کا مطالعہ کریں۔
فاعلات
بہت شکریہ ..۔۔ ہم پہلے اس کو پڑھتے ہیں ..
ایک شعر ..آئینہ کا آئینہ تھا میں نہ تھا۔۔۔۔
آئینہ کا مطلب اس شعر میں بھی اور اس تشبیح کی وجہ
Mystic Enigma — مئی 16، 2015 1:08 شام
آئینہ؟
فاروق احمد بھٹی — مئی 16، 2015 1:08 شام
بہت شکریہ ..۔۔ ہم پہلے اس کو پڑھتے ہیں ..
ایک شعر ..آئینہ کا آئینہ تھا میں نہ تھا۔۔۔۔
آئینہ کا مطلب اس شعر میں بھی اور اس تشبیح کی وجہ
شعری مطالب و محاسن کو جانچنے و پرکھنے کی لیاقت ہم میں موجود نہیں کہ ہم خود ابھی مبتدی ہیں اس لیے معذرت
Mystic Enigma — مئی 16، 2015 1:09 شام
شعری مطالب و محاسن کو جانچنے و پرکھنے کی لیاقت ہم میں موجود نہیں کہ ہم خود ابھی مبتدی ہیں اس لیے معذرت
جناب اپنا خیال ہی بتا دیں
Mystic Enigma — مئی 16، 2015 1:10 شام
سب معذرت کریں گے تو بتائے گا کون
شوکت پرویز — مئی 16، 2015 1:19 شام
بہت شکریہ ..۔۔ ہم پہلے اس کو پڑھتے ہیں ..
ایک شعر ..آئینہ کا آئینہ تھا میں نہ تھا۔۔۔۔
آئینہ کا مطلب اس شعر میں بھی اور اس تشبیح کی وجہ
آئینہ میں انسان خود کو دیکھتا ہے، لیکن شاعر آئینہ میں خود کو نہیں دیکھ پایا، اسے وہاں صرف "آئینہ" ہی دِکھ سکا۔
اس لئے اس نے کہا:
آئینہ کا آئینہ تھا میں نہ تھا
۔۔۔۔
ویسے یہ دھاگہ کسی اور نے اپنے کلام کی اصلاح کے لئے شروع کِیا ہے، ہمیں اس بات کا احترام رکھنا چاہئے۔
آپ اپنے اس سوال سے ایک نیا دھاگہ شروع کریں تو مناسب ہوگا۔
:)
فاروق احمد بھٹی — مئی 16، 2015 1:20 شام
جناب اپنا خیال ہی بتا دیں
آئینہ کا آئینہ تھا میں نہ تھا
اس بارے میں میرا ناقص خیال کچھ یوں ہے جس کے غلط ہونے کے امکان بہت زیادہ ہیں۔
آئینہ میں کسی بھی چیز کا عکس نظر آتا ہے جو کہ اس کے پیش ہو۔
یا تو شاعر یہ کہنا چاہ رہا ہےکہ میں جب آئینے کے سامنے کھڑا ہوا تو مجھے میرا عکس اس میں نظر نہیں آیا۔ یعنی کہ آئینے کے سامنے بھی مجھے اپنے آپ نظر نہ آیا۔ جو کہ ا س کی پریشانی کو ظاہر کرتا ہے۔
اور دوسرا یہ ہو سکتا ہے کہ جو عکس آئنے میں نظر آ رہا ہوتا ہے وہ محذ ایک عکس ہوتا ہے۔ اور شاعرکہنا چاہ رہا ہے کہ جو شخص آئینے میں نظر آ رہا ہے۔ باہر اس کا عکس ہے میں نہیں ہوں ۔ یعنی یہ بھی شاعر کی پریشانی کو ظاہر کرتا ہے
ابن رضا — مئی 16، 2015 1:27 شام
آئینہ کا آئینہ تھا میں نہ تھا
اس بارے میں میرا ناقص خیال کچھ یوں ہے جس کے غلط ہونے کے امکان بہت زیادہ ہیں۔
آئینہ میں کسی بھی چیز کا عکس نظر آتا ہے جو کہ اس کے پیش ہو۔
یا تو شاعر یہ کہنا چاہ رہا ہےکہ میں جب آئینے کے سامنے کھڑا ہوا تو مجھے میرا عکس اس میں نظر نہیں آیا۔ یعنی کہ آئینے کے سامنے بھی مجھے اپنے آپ نظر نہ آیا۔ جو کہ ا س کی پریشانی کو ظاہر کرتا ہے۔
اور دوسرا یہ ہو سکتا ہے کہ جو عکس آئنے میں نظر آ رہا ہوتا ہے وہ محذ ایک عکس ہوتا ہے۔ اور شاعرکہنا چاہ رہا ہے کہ جو شخص آئینے میں نظر آ رہا ہے۔ باہر اس کا عکس ہے میں نہیں ہوں ۔ یعنی یہ بھی شاعر کی پریشانی کو ظاہر کرتا ہے
اس میں پریشان ہونے والی کیا بات ہے شاعر سے ہی پوچھ لیتے ہیں کہ مدعا کیا ہے
لیکن شاعر کی لڑی میں
محمداحمد — مئی 16، 2015 3:43 شام
اس میں پریشان ہونے والی کیا بات ہے شاعر سے ہی پوچھ لیتے ہیں کہ مدعا کیا ہے
لیکن شاعر کی لڑی میں

اپنے شعر کی تشریح کرنا دنیا کا سب سے مشکل کام ہوتا ہے کہ اگر شاعر نثر ہی میں سب کچھ کہنے کا اہل ہو تو بھلا شعر ہی کیوں کہے۔ :) تاہم آسانی کے لئے عرض کروں کہ اگر مصرعے کے بجائے پورا شعر پڑھا جائے تو مفہوم بعید از قیاس نہیں ہے۔
محمداحمد — مئی 16، 2015 3:45 شام
جیون کی حقیقت کی کیا بات کریں تم سے
شب بھر کا یہ قصہ ہے اور خواب سہانا ہے

بہت خوب بھائی صاحب!
خوش رہیے۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%D9%BE%D9%86%D9%88%DA%BA-%DA%A9%D8%A7-%D9%86%DA%AF%D8%B1-%DB%81%DB%92-%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94-%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD.81982/