اپنی کشتی کا میں ناخدا ہوگیا ( برائے اصلاح)

فاخر — دسمبر 31، 2021 5:39 شام
غزل
احمد فاخر
عشق رُوٹھا تو پھر غم سوا ہوگیا
اور میں وقفِ آہ و بُکا ہوگیا
مدتوں میری کشتی بھنور میں رہی
اپنی کشتی کا میں ناخدا ہوگیا
رنج وغم سے نہیں مُجھ کو شکوہ کوئی
زخم جو بھی ملا وُہ دَوا ہوگیا
یہ کرشمہ ترے عشق کا ہے کہ مَیں
جانِ جاں! شاعرِ خوش نوا ہوگیا
مُدتوں تھا جو دل سے ہمارے قریں
کیا ہوا کیوں وُہ ہم سے جُدا ہوگیا
آپ کیا یاد آئے ہمیں ناگہاں
زخمِ دل مندمل تھا، ہَرا ہوگیا
مطمئن ہوں کہ فا خرؔ غزل کے سبب
عشق کا قرض ہم سے ادا ہوگیا
الف عین — جنوری 3، 2022 4:43 صبح
درست ہے غزل، کوئی تکنیکی سقم نظر نہیں آ رہا
محمد خلیل الرحمٰن — جنوری 3، 2022 5:17 صبح
غزل
احمد فاخر
عشق رُوٹھا تو پھر غم سوا ہوگیا
اور میں وقفِ آہ و بُکا ہوگیا
مدتوں میری کشتی بھنور میں رہی
اپنی کشتی کا میں ناخدا ہوگیا
رنج وغم سے نہیں مُجھ کو شکوہ کوئی
زخم جو بھی ملا وُہ دَوا ہوگیا
یہ کرشمہ ترے عشق کا ہے کہ مَیں
جانِ جاں! شاعرِ خوش نوا ہوگیا
مُدتوں تھا جو دل سے ہمارے قریں
کیا ہوا کیوں وُہ ہم سے جُدا ہوگیا
آپ کیا یاد آئے ہمیں ناگہاں
زخمِ دل مندمل تھا، ہَرا ہوگیا
مطمئن ہوں کہ فا خرؔ غزل کے سبب
عشق کا قرض ہم سے ادا ہوگیا
خوب غزل ہے صاحب۔ داد قبول کیجئے!
فاخر — جنوری 3، 2022 8:52 صبح
خوب غزل ہے صاحب۔ داد قبول کیجئے!
جزاک اللہ !! یہ سب آپ لوگوں کی توجہ کا نتیجہ ہے
صابرہ امین — جنوری 3، 2022 12:19 شام
بہت خوب، ماشااللہ عمدہ اشعار
فاخر — جنوری 3، 2022 1:21 شام
بہت خوب، ماشااللہ عمدہ اشعار

جزاک اللہ، سلامت رہیں۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%8C-%DA%A9%D8%B4%D8%AA%DB%8C-%DA%A9%D8%A7-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D9%86%D8%A7%D8%AE%D8%AF%D8%A7-%DB%81%D9%88%DA%AF%DB%8C%D8%A7-%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD.117923/