اپنے اساتذہ کرام کے نام ایک حقیر سا نذرانہ عقیدت ۔۔عابی مکھنوی

عابی مکھنوی — جون 26، 2014 6:54 صبح
تمھاری باتوں کی بھینی خوشبو ہماری سوچوں میں بس گئی ہے
تمھارے نقش قدم سے ہم نے ہزاروں اُجلے خیال پائے
تمھارا دستِ شفیق تھاما
تمھاری اُنگلی پکڑ کے خود کو سنبھال پائے
تمھاری آنکھوں کی روشنی سے
ہمارے دِل بھی ہوئے منور
تمھارے لفظوں کے سچے موتی ہمارے دامن میں بھر گئے ہیں
تمھارے دم سے یہ کھوٹے سکے چمک گئے ہیں
تمھارے دم سے یہ بگڑے نقشے سنور گئے ہیں
تمھارے دم سے یقیں کی دولت ہمیں ملی ہے
تمھارے دم سے ہمارے خوابوں میں جان آئی
تمھاری معصوم سی دعائیں ہماری راہ کا ہیں نور اب تک
تمھیں خدا نے کمال بخشا
تمھاری محنت عظیم تر ہے
تمھارا رُتبہ خُدا ہی جانے
تمھی سے سیکھا سوال کرنا
تمھارے بچے یہ پوچھتے ہیں
کہاں سے لائیں ہمیں بتاؤ وہ خواب لمحے گلاب یادیں
کہاں سے لائیں ہمیں بتاؤ وہ پھول باتیں عذاب یادیں
عابی مکھنوی
محمداحمد — جون 26، 2014 7:05 صبح
سبحان اللہ ۔۔۔۔۔!
کیا خوب کلام ہے۔ واقعی اساتذہ ہی کے دم قدم سے ہیں ہم جو کچھ بھی ہیں۔ سچ کہوں تو :
میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں تھا​
خالد محمود چوہدری — جون 26، 2014 7:22 صبح
بہت اچھے جناب
x boy — جون 26، 2014 7:37 صبح
بہت خوب
الف عین — جون 26، 2014 10:55 صبح
خوبصورت نظم
نایاب — جون 26، 2014 11:09 صبح
بلاشبہ ۔ سچے جذبے مہک رہے ہیں لفظ لفظ۔۔۔۔
بہت دعائیں
عمر سیف — جون 26، 2014 11:39 صبح
بہت خوب
سید فصیح احمد — جون 26، 2014 12:31 شام
بہترین است :) :)
جزاک اللہ !!
ابن رضا — جون 26، 2014 12:45 شام
نہایت خوش اسلوبی سے بیان کی گئی شیریں نظم۔ بہت سی داد حاضر ہے۔
شیرازخان — جون 26، 2014 7:21 شام
بہت اعلیٰ ۔۔۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%92-%D8%A7%D8%B3%D8%A7%D8%AA%D8%B0%DB%81-%DA%A9%D8%B1%D8%A7%D9%85-%DA%A9%DB%92-%D9%86%D8%A7%D9%85-%D8%A7%DB%8C%DA%A9-%D8%AD%D9%82%DB%8C%D8%B1-%D8%B3%D8%A7-%D9%86%D8%B0%D8%B1%D8%A7%D9%86%DB%81-%D8%B9%D9%82%DB%8C%D8%AF%D8%AA-%DB%94%DB%94%D8%B9%D8%A7%D8%A8%DB%8C-%D9%85%DA%A9%DA%BE%D9%86%D9%88%DB%8C.75600/