اپنے خوابوں کو سلا دوں کیسے - برائے اصلاح تنقید تبصرہ

سارہ بشارت گیلانی — مئی 29، 2013 9:49 شام
اپنے خوابوں کو سلا دوں کیسے
رات آنکھوں میں بتا دوں کیسے
آگ تو دل میں لگا دوں اس کے
پر اسے عشق سکها دوں کیسے
ایک دیوار انا ہے سالم
سوچتی ہوں یہ گرا دوں کیسے
وہ مرا لمسِ شفا مانگے ہے
آگ سے آگ بجها دوں کیسے
راز الفت ہے یہ کهل جاتا ہے
اسے یہ راز بتا دوں کیسے
شوکت پرویز — مئی 30، 2013 8:29 صبح
زبردست سارہ صاحبہ !
محمد اظہر نذیر — مئی 30، 2013 8:58 صبح
آگ تو دل میں لگا دوں اس کے​
پر اسے عشق سکها دوں کیسے​
واہ
عبدالحسیب — مئی 30، 2013 9:44 صبح
بہت ہی خوبصورت۔۔ہر ایک شعر قیامت ہے۔ لاجواب
بھلکڑ — مئی 30، 2013 9:57 صبح
سُبحان اللہ ۔۔۔
کیا خوب لکھا ہے محترمہ ۔۔۔بہت ساری داد قبول فرمائیے۔۔۔۔۔۔
ایک دیوار انا ہے سالم
سوچتی ہوں یہ گرا دوں کیسے
خاص طور پر یہ شعر تو بہت ہی اچھا ہے۔۔۔
عینی خیال — مئی 30، 2013 10:27 صبح
واہ واہ سارہ
عمر سیف — مئی 30، 2013 10:51 صبح
آگ تو دل میں لگا دوں اس کے
پر اسے عشق سکها دوں کیسے
لاجواب ۔۔ واہ ۔
آبی ٹوکول — مئی 30، 2013 11:12 صبح
وہ مرا لمسِ شفا مانگے ہے
آگ سے آگ بجها دوں کیسے
واہ کیا کہنے ہیں۔۔۔۔۔بہت خوب
سارہ بشارت گیلانی — مئی 30، 2013 8:53 شام
بہت شکریہ آپ سب کا! :)
ابن سعید — مئی 30، 2013 9:02 شام
پوری غزل کمال است! :) :) :)
اسے یہ راز بتا دوں کیسے
ہمیں "اسے" میں کچھ مسئلہ لگ رہا ہے۔ ایسا لگ رہا ہے کہ اس کو "اس سے" پڑھنا پڑے گا۔ اب یہ تو اساتذہ جانیں کہ کسی وزن میں کروٹیں لینے کی کتنی گنجائش ہوتی ہے۔ :) :) :)
عادل نذیر — مئی 30، 2013 11:03 شام
بہت خوب
شوکت پرویز — مئی 31، 2013 6:23 صبح
پوری غزل کمال است! :) :) :)
ہمیں "اسے" میں کچھ مسئلہ لگ رہا ہے۔ ایسا لگ رہا ہے کہ اس کو "اس سے" پڑھنا پڑے گا۔ اب یہ تو اساتذہ جانیں کہ کسی وزن میں کروٹیں لینے کی کتنی گنجائش ہوتی ہے۔ :) :) :)
جی جناب !
اس کی گنجائش ہے :)
دیکھئے غالب کا ایک شعر:
گردشِ رنگِ طرب سے ڈر ہے
غمِ محرومیِ جاوید نہیں
دوسرے مصرع کا پہلا رکن (غ) ایک حرفی ہے۔۔۔
سارہ بشارت گیلانی صاحبہ
شوکت پرویز — مئی 31، 2013 6:27 صبح
اور یہ بھی:
غلطی ہائے مضامیں مت پُوچھ
لوگ نالے کو رسا باندھتے ہیں
مہدی نقوی حجاز — مئی 31، 2013 9:12 صبح
اگر اس غزل کو یوں کر لیا جائے تو ہماری رائے یہ ہے کہ روانی بہتر ہو جائے گی۔ ہرچند غزل بہت خوب ہے:
اپنے خوابوں کو سلاؤں کیسے​
رات آنکھوں میں بتاؤں کیسے​

دل میں آتش تو لگا دوں اس کے
پر اسے عشق سکهاؤں کیسے​

ایک دیوار انا ہے سالم​
سوچتی ہوں یہ گراؤں کیسے​

وہ مرا لمسِ شفا مانگے ہے​
آگ سے آگ بجهاؤں کیسے​

راز الفت ہے کہ کهل جاتا ہے​
اس کو یہ راز بتاؤں کیسے​
الف عین — مئی 31، 2013 12:21 شام
زبردست سارہ، مکمل غزل بالکل درست ہے، اوزان بھی اور خیالات بھی۔ مبارک ہو۔ باقی اشعار عزیزم مہدی کے مشورے کے مطابق زیادہ رواں ہو سکتے ہیں، اس میں شک نہیں۔ لیکن مطلع میرے خیال میں موجودہ صورت میں ہی بہتر ہے۔
آخری شعر کے ‘اسے‘ میں بھی کوئی مسئلہ نہیں جیسا شوکت نے مثالیں دے کر واضح کیا ہے۔ فاعلاتن فعلاتن فعلن بحر ہے اس کی، اور اس کے شروع میں فَ عِ لاتن کرنے کی اجازت ہوتی ہے میرے خیال میں۔
مزمل شیخ بسمل — جون 3، 2013 7:14 شام
ہر غزل شعلۂ بے باک بنی ہو جیسے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بہت سی داد۔ :)

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%92-%D8%AE%D9%88%D8%A7%D8%A8%D9%88%DA%BA-%DA%A9%D9%88-%D8%B3%D9%84%D8%A7-%D8%AF%D9%88%DA%BA-%DA%A9%DB%8C%D8%B3%DB%92-%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD-%D8%AA%D9%86%D9%82%DB%8C%D8%AF-%D8%AA%D8%A8%D8%B5%D8%B1%DB%81.64428/