ملک عدنان احمد — جنوری 14، 2014 12:55 شام
اک اضطراب مری جان لے رہا ہے مگر
عجیب بات ہے میں ایسے حال میں خوش ہوں
تو سوچتی ہے کہ غمناک ہوں فراق سے میں
مگر اے جاں! میں امیدِ وصال میں خوش ہوں
میں مطمئن ہوں چلو زندگی تو ہے مجھ میں
میں گردشِ مہ و ایام و سال میں خوش ہوں
ترے بغیر میں خوش ہوں مجھے نہیں لگتا
ترے بغیر میں، تیرے خیال میں، خوش ہوں
(ملک عدنان احمد)
محمد اسامہ سَرسَری — جنوری 14، 2014 1:02 شام
واہ بہت خوب ماشاءاللہ۔۔۔
بہت سی داد ۔۔۔۔
ملک عدنان احمد — جنوری 14، 2014 1:08 شام
واہ بہت خوب ماشاءاللہ۔۔۔
بہت سی داد ۔۔۔ ۔
داد کے لیے بہت بہت شکریہ بھیا جان
اورآپ تو داد دے دے کے مجھے خوش فہمی میں مبتلاکیے دے رہے ہیں اسامہ بھائی، غلطیاں نکالا کیجئے نا خوب ساری

ابن رضا — جنوری 14، 2014 3:13 شام
داد کے لیے بہت بہت شکریہ بھیا جان
اورآپ تو داد دے دے کے مجھے خوش فہمی میں مبتلاکیے دے رہے ہیں اسامہ بھائی، غلطیاں نکالا کیجئے نا خوب ساری
آج یہ ذرا مشکل کام ہے، کیوں
محمد اسامہ سَرسَری بھائی؟؟؟
محمد اسامہ سَرسَری — جنوری 14، 2014 3:31 شام
آج یہ ذرا مشکل کام ہے، کیوں
محمد اسامہ سَرسَری بھائی؟؟؟
کونسا کام؟
محمد اسامہ سَرسَری — جنوری 14، 2014 3:32 شام
عجیب بات ہے میں ایسے حال میں خوش ہوں
بائین کا اجتماع بھی عجیب لگ رہا ہے۔
محمد اسامہ سَرسَری — جنوری 14، 2014 3:33 شام
محمد اسامہ سَرسَری — جنوری 14، 2014 3:34 شام
”مہ“ اور ”ایام“ میں سے ایک زائد لگ رہا ہے۔
ابن رضا — جنوری 14، 2014 3:34 شام
داد کے لیے بہت بہت شکریہ بھیا جان
اورآپ تو داد دے دے کے مجھے خوش فہمی میں مبتلاکیے دے رہے ہیں اسامہ بھائی،
غلطیاں نکالا کیجئے نا خوب ساری
محمد اسامہ سَرسَری — جنوری 14، 2014 3:35 شام
ترے بغیر میں خوش ہوں مجھے نہیں لگتا
ترے بغیر میں، تیرے خیال میں، خوش ہوں
مجھے نہیں لگتا کہ یہاں”مجھے نہیں لگتا“ آنا چاہیے۔
”تیرے خیال میں“ دو معنی دے رہا ہے ، دونوں ہی اچھے لگ رہے ہیں۔

محمد اسامہ سَرسَری — جنوری 14، 2014 3:37 شام
مطلع اور مقطع بھی لکھ لیں۔
ملک عدنان احمد — جنوری 14، 2014 5:52 شام
مجھے نہیں لگتا کہ یہاں”مجھے نہیں لگتا“ آنا چاہیے۔
”تیرے خیال میں“ دو معنی دے رہا ہے ، دونوں ہی اچھے لگ رہے ہیں۔
جی یہی تو منشاء تھی اس شعر میں، ذو معنی اور دونوں ہی مناسب ہیں۔ حالانکہ یہ ہوا اتفاق سے اور مجھے بھی کافی عرصے بعد پتہ چلا