محمد شکیل خورشید — دسمبر 6، 2016 6:05 صبح
سسکی دبی ہوئی ہے مری ہر کراہ میں
شامل ہیں درد کے سبھی آہنگ آہ میں
کیا جانے تختِ مصر پہ کب مسندیں جمیں
اب تک تو زندگی کٹی یوسف کی چاہ میں
اک تیری ہی جفا کا کریں کیوں گلہ فقط
کھائے ہیں ہم نے دھوکے سبھی کی پناہ میں
منزل تو سامنے تھی مگر پھر بھی ضبط کے
کیا جانے پیش کتنے مراحل تھے راہ میں
ڈھل تو گیا ہوں درد کے پیرائے میں شکیلؔ
لیکن نہ آہ لب پہ ، نہ نم ہے نگاہ میں
الف عین — دسمبر 6، 2016 9:19 صبح
درست ہے غزل، مطلع میں آپنگ کے بعد آہ صوتی طور پر اچھا تاثر نہیں دے رہا۔اور یہ شعر
منزل تو سامنے تھی مگر پھر بھی ضبط کے
کیا جانے پیش کتنے مراحل تھے راہ میں
۔۔اگر ضبط کے مراحل کا ذکر ہے تو ’ضبط‘ کا فقری بہت دور جا پڑا۔ الفاظ بدل کر دیکھیں۔
ڈاکٹرعامر شہزاد — دسمبر 6، 2016 9:27 صبح
کیا جانے تختِ مصر پہ کب مسندیں جمیں
اب تک تو زندگی کٹی یوسف کی چاہ میں
بہت ہی پیاری غزل ۔۔ زبردست ۔۔
محمد شکیل خورشید — دسمبر 6، 2016 10:04 صبح
درست ہے غزل، مطلع میں آپنگ کے بعد آہ صوتی طور پر اچھا تاثر نہیں دے رہا۔اور یہ شعر
منزل تو سامنے تھی مگر پھر بھی ضبط کے
کیا جانے پیش کتنے مراحل تھے راہ میں
۔۔اگر ضبط کے مراحل کا ذکر ہے تو ’ضبط‘ کا فقری بہت دور جا پڑا۔ الفاظ بدل کر دیکھیں۔
ہمیشہ کی طرح نہائت برمحل رہنمائی فرمانے کا شکریہ
آپ کی ہدایت کی روشنی میں یوں اصلاح کی جسارت کی ہے
سسکی دبی ہوئی ہے مری ہر کراہ میں
آہنگ سارےدرد کےشامل ہیں آہ میں منزل تو سامنے تھی مگر پھر بھی ضبط کے
در پیش مرحلے تھے ابھی کتنے راہ میںرہنمائی کا منتظر
شکیل خورشید
الف عین — دسمبر 7، 2016 6:33 صبح
اب بہتر ہو گئے ہیں یہ اشعار
محمد شکیل خورشید — دسمبر 7، 2016 11:24 صبح
اب بہتر ہو گئے ہیں یہ اشعار
شکریہ جناب، عزت افزائی فرمانے کا