اک تجرباتی غزل تنقید، تبصرہ اور رہنمائی کیلئے،'' بادل، چندا، آنکھ مچولی''

محمد اظہر نذیر — اگست 19، 2014 5:10 صبح
بادل، چندا، آنکھ مچولی
کیا چکر ہے، رات یہ بولی
نکلے تھے گو سورج چمکا
بعد میں بدلی سر پر ہو لی
اُس کو میرے نام سے چھیڑا
تاروں کی تھی شیطاں ٹولی
اُس کی خوشبو جب تک آئے
میں نے بھی تو آنکھ نہ کھولی
منظر سارے گیت سُنائیں
اور کہار اُٹھائے ڈولی
اُس کو اظہر ملنا ہو گا
سونا تھا جو قسمت سو لی​
الف عین — اگست 19، 2014 7:45 صبح
اچھا تجربہ ہے۔ اگر تجربہ ہے تو!!
نکلے تھے گو سورج چمکا
کیا نکلے تھے؟ یہ واضح نہیں۔
اُس کی خوشبو جب تک آئے
میں نے بھی تو آنکھ نہ کھولی
پہلے مصرع میں ’آئی‘ ہونا چاہئے تاکہ ماضی کے صیغے کی بات درست بن سکے۔
باقی درست ہے
محمد اظہر نذیر — اگست 19، 2014 9:26 صبح
بادل، چندا، آنکھ مچولی
کیا چکر ہے، رات یہ بولی
نکلے تھے ہم سورج چمکا
بعد میں بدلی سر پر ہو لی
اُس کو میرے نام سے چھیڑا
تاروں کی تھی شیطاں ٹولی
اُس کی خوشبو جب تک آئی
میں نے بھی تو آنکھ نہ کھولی
منظر سارے گیت سُنائیں
اور کہار اُٹھائے ڈولی
اُس کو اظہر ملنا ہو گا
سونا تھا جو قسمت سو لی​

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%DA%A9-%D8%AA%D8%AC%D8%B1%D8%A8%D8%A7%D8%AA%DB%8C-%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D8%AA%D9%86%D9%82%DB%8C%D8%AF%D8%8C-%D8%AA%D8%A8%D8%B5%D8%B1%DB%81-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%B1%DB%81%D9%86%D9%85%D8%A7%D8%A6%DB%8C-%DA%A9%DB%8C%D9%84%D8%A6%DB%92%D8%8C-%D8%A8%D8%A7%D8%AF%D9%84%D8%8C-%DA%86%D9%86%D8%AF%D8%A7%D8%8C-%D8%A2%D9%86%DA%A9%DA%BE-%D9%85%DA%86%D9%88%D9%84%DB%8C.77073/