ساقی۔ — مارچ 23، 2014 6:34 صبح
اک خدا کے سوا ،چھوڑ دے سب کو تو
دل میں جو بت ترے، توڑ دے سب کو تو
سب کے تو کام آ، سب کا تو کام کر
چن لے سیدھی تو رہ،موڑ دے سب کو تو
دل دکھانا کسی کا بری بات ہے
دل جو ٹوٹے ملیں، جوڑ دے سب کو تو
ہاں خدا ہی عبادت کے لائق ہے بس
اور جھوٹے ہیں سب ،چھوڑ دے سب کو تو
محمد اسامہ سَرسَری — مارچ 23، 2014 6:36 صبح
عنوان سے ایسا لگ رہا ہے جیسے اساتذہ سے کوئی غلطی ہوگئی ہے ، اب آپ انھیں متنبہ کرنا چاہ رہے ہیں۔

ساقی۔ — مارچ 23، 2014 6:44 صبح
ٹیگ۔
عبد الرحمن — مارچ 23، 2014 1:10 شام
عنوان سے ایسا لگ رہا ہے جیسے اساتذہ سے کوئی غلطی ہوگئی ہے ، اب آپ انھیں متنبہ کرنا چاہ رہے ہیں۔
اس کا مطلب ہمیں یہ شاہ کار کلام پڑھنے کی ضرورت نہیں ہے۔
جیہ — مارچ 23، 2014 1:13 شام
میں نے تو توجہ ہی نہیں دی۔ میں استاد نہیں ناں

ساقی۔ — مارچ 23، 2014 2:11 شام
اس کا مطلب ہمیں یہ شاہ کار کلام پڑھنے کی ضرورت نہیں ہے۔
میں نے تو توجہ ہی نہیں دی۔ میں استاد نہیں ناں
خیر ایسی بھی بات نہیں ، ہمارے لیے آپ بھی محترم و مکرم ہیں۔ آپ خواتین و حضرات ہمتِ ساقی کو بڑھاوا دے سکتے ہیں۔

ابن رضا — مارچ 23، 2014 2:19 شام
خیر ایسی بھی بات نہیں ، ہمارے لیے آپ بھی محترم و مکرم ہیں۔ آپ خواتین و حضرات ہمتِ ساقی کو بڑھاوا دے سکتے ہیں۔
ساقی کا کاروبارِ ہمت تو ساغرومینا کے دَم پر ہے حضرت؟
ابن رضا — مارچ 23، 2014 2:26 شام
اصلاح تو اساتذہ کرام ہی فرمائیں گے۔ البتہ تلمیزانہ رائے یہ ہے کہ
اوزان کی مشق کی حد تک بہت اچھی کوشش ہے ساقی صاحب۔ تاہم مافی الضمیر کا عمدہ بیان فی الوقت ظہور پزیر نہیں ہوسکا ہے۔ مصرے غیر مربوط بھی ہیں اور نامکمل بھی جیسے "دل میں جو بت ترے، توڑ دے سب کو تو" اس میں کہیں "ہے" کے لفظ کی بھی ضرورت محسوس ہو رہی ہے۔ اور اسی طرح خدا کا عبادت کے لائق بیان اور دوسروں کا جھوٹا ہونا باہمی ربط نہیں رکھتا۔
ساقی۔ — مارچ 23، 2014 2:38 شام
اصلاح تو اساتذہ کرام ہی فرمائیں گے۔ البتہ تلمیزانہ رائے یہ ہے کہ
اوزان کی مشق کی حد تک بہت اچھی کوشش ہے ساقی صاحب۔ تاہم مافی الضمیر کا عمدہ بیان فی الوقت ظہور پزیر نہیں ہوسکا ہے۔ مصرے غیر مربوط بھی ہیں اور نامکمل بھی جیسے "دل میں جو بت ترے، توڑ دے سب کو تو" اس میں کہیں "ہے" کے لفظ کی بھی ضرورت محسوس ہو رہی ہے۔ اور اسی طرح خدا کا عبادت کے لائق بیان اور دوسروں کا جھوٹا ہونا باہمی ربط نہیں رکھتا۔
آپکا بہت شکریہ اصلاح کرنے کے لیے ۔
"
دل میں جو بت ترے، توڑ دے سب کو تو" جو بت مطلب دل میں جتنے بھی بت ہیں سب کو توڑ دے۔انسان رب کو چھوڑ کر بہت سوں سے امیدیں اور توقعات وابستہ کر لیتا ہے تو یہ بھی بتوں کی ایک صورت بن جاتی ہے ۔
انسان خدا کے سوا جن سے حاجت روائی چاہتا ہے وہ سب جھوٹے ہی تو ہیں خواہ وہ خود ایسا دعویٰ کرتے ہوں یا ان سے منسوب کیا جاتا ہو۔ ۔ حاجت روا اور مشکل کشا تو ذات باری تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں ۔
ابن رضا — مارچ 23، 2014 2:44 شام
آپکا بہت شکریہ اصلاح کرنے کے لیے ۔
"دل میں جو بت ترے، توڑ دے سب کو تو" جو بت مطلب دل میں جتنے بھی بت ہیں سب کو توڑ دے۔انسان رب کو چھوڑ کر بہت سوں سے امیدیں اور توقعات وابستہ کر لیتا ہے تو یہ بھی بتوں کی ایک صورت بن جاتی ہے ۔
انسان خدا کے سوا جن سے حاجت روائی چاہتا ہے وہ سب جھوٹے ہی تو ہیں خواہ وہ خود ایسا دعویٰ کرتے ہوں یا ان سے منسوب کیا جاتا ہو۔ ۔ حاجت روا اور مشکل کشا تو ذات باری تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں ۔
بت ہیں مصرعے میں بھی ہونا چاہیے؟صرف بت سے بات مکمل نہیں ہوتی
حاجت روائی چاہنا اور عبادت کرنا یہ دونوں مختلف پہلو ہیں۔
ساقی۔ — مارچ 23، 2014 2:52 شام
بت ہیں مصرے میں بھی ہونا چاہیے؟صرف بت سے بات مکمل نہیں ہوتی
حاجت روائی چاہنا اور عبادت کرنا یہ دونوں مختلف پہلو ہیں۔
آج کل تو اس ہاتھ دے اُس ہاتھ لے والا معاملہ ہے بھیا ۔ اگر کچھ ملنے کی(حاجت روائی) امید نہ ہو تو کون عبادت کرتا ہے؟کہنے کو تو میں بھی کہہ سکتا ہوں کہ کچھ نہ بھی ملے تو بھی عبادت کرتا رہوں گا۔ (کہنے میں کون سا اخراجات آئیں گے)مگر ایسا کرتا نہیں کوئی کہ بغیر کچھ لیے کچھ کرے۔خواہ وہ عبات ہی کیوں نہ ہو۔
ابن رضا — مارچ 23، 2014 3:11 شام
آج کل تو اس ہاتھ دے اُس ہاتھ لے والا معاملہ ہے بھیا ۔ اگر کچھ ملنے کی(حاجت روائی) امید نہ ہو تو کون عبادت کرتا ہے؟کہنے کو تو میں بھی کہہ سکتا ہوں کہ کچھ نہ بھی ملے تو بھی عبادت کرتا رہوں گا۔ (کہنے میں کون سا اخراجات آئیں گے)مگر ایسا کرتا نہیں کوئی کہ بغیر کچھ لیے کچھ کرے۔خواہ وہ عبات ہی کیوں نہ ہو۔
تو جیسا کوئی کرتا ہے اسی کو اصول مان لیا جائے؟
ساقی۔ — مارچ 23، 2014 3:34 شام
تو جیسا کوئی کرتا ہے اسی کو اصول مان لیا جائے؟
غلط اور صحیح میں چناو ہمیں ہی کرنا ہوتا ہے ۔ میں نے تو جس پیرائے میں نظم لکھنے کی کوشش کی تھی اس کا حاجت روائی اور عبادت کا تعلق بیان کرنے کی اپنی سی کوشش کی ہے۔
نایاب — مارچ 24، 2014 4:01 صبح
واہہہہہہہہہہہہہ
بہت خوب
گر " تو " کہ جگہ " میں " سے یہ خطاب ہو تو " ٹوٹ جائیں سب بت ۔۔۔۔۔۔ مل جائے سیدھی راہ "
بہت دعائیں
انوار گوندل؎ — مارچ 24، 2014 4:25 صبح
میں نے اک نئی لڑی بنانی ہے پتا نہیں چل رہا ۔۔۔۔ مدد ہو سکے تو؟
نایاب — مارچ 24، 2014 4:37 صبح
محمد اسامہ سَرسَری — مارچ 24، 2014 5:16 صبح
ماشاءاللہ بہت کوشش ہے۔
ابن رضا صاحب نے بہت اچھی اصلاح فرمائی ہے۔۔۔
میری طرف سے کچھ تصحیح:
اک خدا کے سوا ،چھوڑ دے سب کو تو
دل میں ہیں جو صنم ، توڑ دے سب کو توچاہ اپنا بھلا اور اوروں کا بھی
راہِ حق کی طرف موڑ دے سب کو تودل دکھانا کسی کا بری بات ہے
توڑے جتنے ہیں دل ، جوڑ دے سب کو توہاں خدا ہی عبادت کے لائق ہے بس
سب ہیں عاجز صنم ، چھوڑ دے سب کو تو
ساقی۔ — مارچ 24، 2014 5:32 صبح
نہایت ممنون احسان ہوں اسامہ بھائی ۔ابن رضا بھائی اور تمام احباب کی راہنمائی پر
الف عین — مارچ 25، 2014 2:57 صبح
اوزان کے حساب سے تو درست ہے، لیکن زمین ہی پسند نہیں آئی۔ ردیف بدلی بھی جا سکتی ہے۔ مثلاً ’دیجے سبھی‘ یا توڑنا چاہئے جوڑنا چاہئے۔ جس سے روانی بہتر ہو جائے۔ باقی اسامہ کی اصلاح اچھی ہے۔ ہا آخری شعر میں روانی تو بہتر تمہارے اصل مصرعے میں ہی
اور جھوٹے ہیں سب
ہاں، جھوٹے کی جگہ عاجز لایا جا سکتا ہے، مگر اسامہ کے صنم پسند نہیں آئے