اک سوال

کامران ساحل — جولائی 1، 2012 8:09 شام
ایہام کا مطلب مثال کے ساتھ واضح کردیں. شکریہ
محمد بلال اعظم — جولائی 1، 2012 8:13 شام
یہ دیکھیں
ایہام
کامران ساحل — جولائی 1، 2012 8:16 شام
مثال نہیں ہے
مزمل شیخ بسمل — جولائی 1، 2012 8:29 شام
جناب یہ شاعری میں بلاغت کی اصطلاح ہے جس سے مراد شعر میں کوئی ایسی عبارت یا لفظ جسکے ایک سے زیادہ مطلب ہوں اور شاعر دور والے مطلب سے استعمال کرے۔ ایک مثال کے طور پہ:
شب جو مسجد میں جا پھنسے مومن
رات کاٹی خدا خدا کرکے
اس خدا خدا کرنے کا عام مفہوم ’’عبادت یا خدا کا ذکر کرنا‘‘ ہے۔ مگر بعید مطلب ’’بہت مشکل سے‘‘
شاعر نے دوسرا مطلب ہی مراد لیا ہے۔
نایاب — جولائی 1، 2012 8:32 شام
ایہام کا مطلب مثال کے ساتھ واضح کردیں. شکریہ
محترم کامران بھائی
اس پر غور کریں
http://www.rizvia.net/index.php?opt...07-30&catid=158:2011-09-25-10-49-55&Itemid=46
یہی مضمون ِ خط ہے احسن اللہ
کہ حسن خوبرویاں عارضی ہے
http://www.rizvia.net/index.php?opt...07-30&catid=158:2011-09-25-10-49-55&Itemid=46
یہاں عارضی میں ایہام ہے ۔ عارضی کے قریب ترین معانی تو ناپائیدار ہیں مگر شاعر نے اس سے رخسار مراد لیے ہیں۔
http://www.rizvia.net/index.php?opt...07-30&catid=158:2011-09-25-10-49-55&Itemid=46
نشہ ہو جس کو محبت کا سبز رنگوں کا
عجب نہیں جو وہ مشہور سب میں بھنگی ہو
یہاں لفظ بھنگی میں ایہام پایا جاتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اک عرصہ اس " ایہام ' کو " ابہام " جان کر اس کو سمجھتا پھرا تھا ۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%DA%A9-%D8%B3%D9%88%D8%A7%D9%84.52409/