غم کا احوال اک نئے ڈھب سے
آج کرتا ہے دل بیاں سب سے
اے ہنر کچھ دکھا اثر اب تو
داغِ دل چاک ہے مرا کب سے
اک جنوں اب ہے بس مرے ہمراہ
اب مرا راستہ جدا سب سے
آس کا بجھ چلا دیا دل میں
دشتِ وحشت کو ہے گلہ شب سے
سب کو بھائے ہے جانِ گلشن ہے
گل کو نسبت ہے یار کے لب سے
آج کرتا ہے دل بیاں سب سے
اے ہنر کچھ دکھا اثر اب تو
داغِ دل چاک ہے مرا کب سے
اک جنوں اب ہے بس مرے ہمراہ
اب مرا راستہ جدا سب سے
آس کا بجھ چلا دیا دل میں
دشتِ وحشت کو ہے گلہ شب سے
سب کو بھائے ہے جانِ گلشن ہے
گل کو نسبت ہے یار کے لب سے