باغ میں روتا ہے بلبل کرتا ہے فریاد دیکھ
اے بہار آجا کے گلشن کب سے ہے برباد دیکھ
کاش تیرے دل میں بھی ہوتا کہیں دردِ قفس
میں ہوں پنچھی قید کے قابل نہیں آزاد دیکھ
گر کوئی غمگین ہو تو اُسے تُو شاد کر
خُد ہمیشہ شاد رہ اور سب کو شاد دیکھ
اے بہار آجا کے گلشن کب سے ہے برباد دیکھ
کاش تیرے دل میں بھی ہوتا کہیں دردِ قفس
میں ہوں پنچھی قید کے قابل نہیں آزاد دیکھ
گر کوئی غمگین ہو تو اُسے تُو شاد کر
خُد ہمیشہ شاد رہ اور سب کو شاد دیکھ