اک گستاخی (بڑا بے ادب ہوں سزا چاہتا ہوں)

امان زرگر — مارچ 23، 2017 10:20 صبح
سر الف عین ایک لڑی میں کل رات آپ کی اس طرح کی غزل پڑھی تو اچھی لگی۔۔۔ دل نے ذہن کا ہاتھ تھاما اور لے چلا جگ رتے کے دیس میں۔۔۔ جہاں کچھ یہ الفاظ بن سکے۔۔۔۔۔ گستاخی ہوئی مجھ سے لیکن معافی کی درخواست کے ساتھ پیشِ خدمت کر رہا ہوں۔۔۔ دستِ شفقت کا طالب ہوں۔
میں سوز کا دریا ہوں، بڑی دیر سے چپ ہوں
اک دھن میں ہی بہتا ہوں، بڑی دیر سے چپ ہوں
میں تیری طلب میں، کبھی رقصاں کبھی سوزاں
دنیا میں تماشا ہوں، بڑی دیر سے چپ ہوں
دل کے مکاں میں تو ہے نہاں تیرا تبسم
میں عرش کا زینہ ہوں، بڑی دیر سے چپ ہوں
(اک فرطِ مسرت ہے نہاں خانۂ دل میں
کس آس پہ بہلا ہوں، بڑی دیر سے چپ ہوں)​
اک وجد سا طاری ہے، رہِ دل زدگاں میں
محرومِ شناسا ہوں، بڑی دیر سے چپ ہوں
‏(منزل سے شناسا ہوں، بڑی دیر سے چپ ہوں)
کس مونہہ سے کروں تیری ثنا کیسے ہو جرات
‏(‏کب تیرے محاسن کا بیاں لب سے ادا ہو)
میں خاک سراپا ہوں، بڑی دیر سے چپ ہوں
محمد خرم یاسین — مارچ 23، 2017 10:29 صبح
ما شا اللہ :)
آصف اثر — مارچ 23، 2017 10:39 صبح
میں عرش کا زینہ ہوں، بڑی دیر سے چپ ہوں
عرش کے زینے کا کیا مطلب؟
امان زرگر — مارچ 23، 2017 10:49 صبح
عرش کے زینے کا کیا مطلب؟
ہاں آپ کے سوال کے بعد اب احساس ہو رہا ہے کہ کہیں شاید توجہ مطلب سے زیادہ قافیہ پیمائی کی جانب چلی گئی۔۔
شاید اس طرح کچھ با معنی لگے
دل کے مکاں میں تو ہے نہاں تیرا تبسم
میں عرش سا عقدہ ہوں، بڑی دیر سے چپ ہوں
یا
اک فرطِ مسرت ہے نہاں خانۂ دل میں
میں عرش سا عقدہ ہوں، بڑی دیر سے چپ ہوں
آصف اثر — مارچ 23، 2017 4:43 شام
مقصد اس کا مطلب جاننا تھا۔ اب یہ بتائیے عرش سا عقدہ سے کیا مراد ہے؟
امان زرگر — مارچ 23، 2017 4:45 شام
احباب کی نشاندہی پر اشعار کچھ تصحیح کے بعد دوبارہ پیش خدمت ہیں سر الف عین محمد ریحان قریشی
میں سوز کا دریا ہوں، بڑی دیر سے چپ ہوں
اک دھن میں ہی بہتا ہوں، بڑی دیر سے چپ ہوں
میں تیری طلب میں، کبھی رقصاں کبھی سوزاں
دنیا میں تماشا ہوں، بڑی دیر سے چپ ہوں
اک فرطِ مسرت ہے نہاں خانۂ دل میں
کس آس پہ بہلا ہوں، بڑی دیر سے چپ ہوں
اک وجد سا طاری ہے، رہِ دل زدگاں میں
منزل سے شناسا ہوں، بڑی دیر سے چپ ہوں
کب تیرے محاسن کا بیاں لب سے ادا ہو
میں خاک سراپا ہوں، بڑی دیر سے چپ ہوں
امان زرگر — مارچ 23، 2017 4:48 شام
مقصد اس کا مطلب جاننا تھا۔ اب یہ بتائیے عرش سا عقدہ سے کیا مراد ہے؟
حضرت مان لیا کہ ابلاغ میں ناکام رہا تھا. وہ مصرع ہی بدل دیا
امان زرگر — مارچ 24، 2017 1:34 شام
۔
الف عین — مارچ 24، 2017 3:42 شام
گستاخی قطعی نہیں، میں نے بھی تو شاذ تمکنت کی زمین لی تھی!
اچھی غزل ہے۔
بس اس شعر کا ابلاغ نہیں ہو رہا۔
اک وجد سا طاری ہے، رہِ دل زدگاں میں
منزل سے شناسا ہوں، بڑی دیر سے چپ ہوں
امان زرگر — مارچ 24، 2017 4:40 شام
گستاخی قطعی نہیں، میں نے بھی تو شاذ تمکنت کی زمین لی تھی!
اچھی غزل ہے۔
بس اس شعر کا ابلاغ نہیں ہو رہا۔
اک وجد سا طاری ہے، رہِ دل زدگاں میں
منزل سے شناسا ہوں، بڑی دیر سے چپ ہوں
شکر گزار ہوں سر، اس شعر پر محنت کرتا ہوں.
امان زرگر — مارچ 24، 2017 5:11 شام
گستاخی قطعی نہیں، میں نے بھی تو شاذ تمکنت کی زمین لی تھی!
اچھی غزل ہے۔
بس اس شعر کا ابلاغ نہیں ہو رہا۔
اک وجد سا طاری ہے، رہِ دل زدگاں میں
منزل سے شناسا ہوں، بڑی دیر سے چپ ہوں
آلودگیِ گردِ سرِ راہ سے مل کر (بچ کر)
منزل سے شناسا ہوں بڑی دیر سے چپ ہوں
اور نئےا شعار بھی
ہو گرد سفر جاں بھی تو دوگام نہ طے ہوں
کس یاد کا صحرا ہوں، بڑی دیر سے چپ ہوں
پروردہِ انوار ہیں کچھ خواب کہ جن کی
تعبیر بھی پاتا ہوں بڑی دیر سے چپ ہوں
سر محمد ریحان قریشی
الف عین — مارچ 25، 2017 6:25 صبح
مزا نہیں آیا، ردیف فٹ نہیں بیٹھ رہی۔
گردِراہ یا گرد سرِ راہ؟
امان زرگر — مارچ 25، 2017 7:39 صبح
مزا نہیں آیا، ردیف فٹ نہیں بیٹھ رہی۔
گردِراہ یا گرد سرِ راہ؟
گردِ سرِ راہ کہا ہے سر
اور بہتری کی گنجائش کہاں کہاں ہے اس کے حوالے سے اگر کچھ رہنمائی ہو جائے تو بہتری لانا آسان ہو سکے گا سر
امان زرگر — مارچ 25، 2017 1:16 شام
غزل کی تکمیل کے لئے ان تین میں سے ایک شعر ہی بہتر ہو جاتا. . .!!!
امان زرگر — مارچ 25، 2017 1:50 شام
سر الف عین و دیگر اساتذہ کرام اور احباب
غزل کچھ اصلاح کے بعد ذرہ نوازی کی امید لئے دوبارہ پیشِ خدمت ہے۔۔۔
میں سوز کا دریا ہوں، بڑی دیر سے چپ ہوں
اک دھن میں ہی بہتا ہوں، بڑی دیر سے چپ ہوں
میں تیری طلب میں، کبھی رقصاں کبھی سوزاں
دنیا میں تماشا ہوں، بڑی دیر سے چپ ہوں
اک فرطِ مسرت ہے نہاں خانۂ دل میں
کس آس پہ بہلا ہوں، بڑی دیر سے چپ ہوں
کب تیرے محاسن کا بیاں لب سے ادا ہو
میں خاک سراپا ہوں، بڑی دیر سے چپ ہوں
آلودگیِ گردِ سرِ راہ سنبھل کر
منزل سے شناسا ہوں، بڑی دیر سے چپ ہوں
اب ابرِ بہاراں کو ہوا شوقِ روانی!
میں یاد کا صحرا ہوں، بڑی دیر سے چپ ہوں
‏(‏گر ابرِ بہاراں کو ہوا شوقِ روانی
میں نسبت صحرا ہوں، بڑی دیر سے چپ ہوں)
پروردہِ انوار ہیں کچھ خواب جنوں کے
تعبیر سی پاتا ہوں، بڑی دیر سے چپ ہوں
الف عین — مارچ 25، 2017 4:25 شام
اس شعر کو غزل بدر کر دو
آلودگیِ گردِ سرِ راہ سنبھل کر
منزل سے شناسا ہوں، بڑی دیر سے چپ ہوں
میرے خیال میں ابلاغ نہیں ہو رہا ہے،
اب ابرِ بہاراں کو ہوا شوقِ روانی!
میں یاد کا صحرا ہوں، بڑی دیر سے چپ ہوں
یہی بہتر ہے
امان زرگر — مارچ 25، 2017 4:51 شام
اس شعر کو غزل بدر کر دو
آلودگیِ گردِ سرِ راہ سنبھل کر
منزل سے شناسا ہوں، بڑی دیر سے چپ ہوں
میرے خیال میں ابلاغ نہیں ہو رہا ہے،
اب ابرِ بہاراں کو ہوا شوقِ روانی!
میں یاد کا صحرا ہوں، بڑی دیر سے چپ ہوں
یہی بہتر ہے
شکر گزار ہوں سر اور یہ اشعار کیا درست ہیں؟
وہ زخم کہ پنہاں تھا جو خانۂ دل میں
اشکوں سے ہویدہ ہوں بڑی دیر سے چپ ہوں
دھندلا سا نظر میں جو تری نقش نما سا
کچھ دیر کو ٹھہرا ہوں، بڑی دیر سے چپ ہوں
امان زرگر — مارچ 25، 2017 5:35 شام
سر غزل میں اشعار کی تعداد کے حوالے سے بھی کیا کوئی قاعدہ ہے؟
الف عین — مارچ 26، 2017 6:00 صبح
اشعار کی تعداد کا کوئی حتمی قاعدہ تو نہیں۔ کم از کم پانچ اور اکثر طاق اعداد رکھے جاتے ہیں۔
یہ نئے اشعار تو میری ناقص عقل میںہی نہیں آ سکے۔ ’بڑی دیر سے چپ ہوں‘ کی معنویت ان میں واضح نہیں ہوتی؟
یہ تو وزن میں بھی نہیں
وہ زخم کہ پنہاں تھا جو خانۂ دل میں
پنہان‘ نون معلنہ کے ساتھ وزن میں آتا ہے۔ جو محاورے کے خلاف ہے
امان زرگر — مارچ 26، 2017 7:10 صبح
اشعار کی تعداد کا کوئی حتمی قاعدہ تو نہیں۔ کم از کم پانچ اور اکثر طاق اعداد رکھے جاتے ہیں۔
یہ نئے اشعار تو میری ناقص عقل میںہی نہیں آ سکے۔ ’بڑی دیر سے چپ ہوں‘ کی معنویت ان میں واضح نہیں ہوتی؟
یہ تو وزن میں بھی نہیں
وہ زخم کہ پنہاں تھا جو خانۂ دل میں
پنہان‘ نون معلنہ کے ساتھ وزن میں آتا ہے۔ جو محاورے کے خلاف ہے
تو پھر چھ اشعار اس غزل میں آپ کیطرف سے درست کی سند حاصل کر چکے انہی پہ اکتفا کرتا ہوں
میں سوز کا دریا ہوں، بڑی دیر سے چپ ہوں
اک دھن میں ہی بہتا ہوں، بڑی دیر سے چپ ہوں
میں تیری طلب میں، کبھی رقصاں کبھی سوزاں
دنیا میں تماشا ہوں، بڑی دیر سے چپ ہوں
اک فرطِ مسرت ہے نہاں خانۂ دل میں
کس آس پہ بہلا ہوں، بڑی دیر سے چپ ہوں
اب ابرِ بہاراں کو ہوا شوقِ روانی!
میں یاد کا صحرا ہوں، بڑی دیر سے چپ ہوں
پروردہِ انوار ہیں کچھ خواب جنوں کے
تعبیر سی پاتا ہوں، بڑی دیر سے چپ ہوں
کب تیرے محاسن کا بیاں لب سے ادا ہو
میں خاک سراپا ہوں، بڑی دیر سے چپ ہوں
صفحات: 1 2

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%DA%A9-%DA%AF%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D8%AE%DB%8C-%D8%A8%DA%91%D8%A7-%D8%A8%DB%92-%D8%A7%D8%AF%D8%A8-%DB%81%D9%88%DA%BA-%D8%B3%D8%B2%D8%A7-%DA%86%D8%A7%DB%81%D8%AA%D8%A7-%DB%81%D9%88%DA%BA.95429/