اگر دیکھو تو جلووں میں عیاں ہے - برائے اصلاح تنقید تبصرہ

سارہ بشارت گیلانی — جون 14، 2013 7:13 شام
ڈائری میں یہ غزل ملی ہے۔ پتہ نہیں یہ میں نے یہاں پہلے شیئر کی ہے یا نہیں۔ اگر کی ہے تو kindly ignore اگر نہیں کی تو please comment and thank you for your time
اگر دیکھو تو جلووں میں عیاں ہے​
کہ ان پردوں میں کون آخر نہاں ہے​
پرائے کیوں ہوئے موسم سبھی جب​
زمین اپنی ہے اپنا آسماں ہے​
نہ خوں میرا گواہی دے رہا ہے​
نہ تو قاتل کے دامن پر نشاں ہے​
بدلتا ہے ہوا کا رخ کدھر کو​
گل و گلزار کیوں محوِفغاں ہے​
مزمل شیخ بسمل — جون 14، 2013 7:34 شام
نہ خوں میرا گواہی دے رہا ہے​
نہ تو قاتل کے دامن پر نشاں ہے​

سبحان اللہ۔
آپ کو اب اپنا تخلص (Pen name) بیناؔ رکھ لینا چاہئے۔ :)
ملائکہ — جون 14، 2013 7:51 شام
اچھی غزل ہے:)
سارہ بشارت گیلانی — جون 14، 2013 8:02 شام
سبحان اللہ۔
آپ کو اب اپنا تخلص (Pen name) بیناؔ رکھ لینا چاہئے۔ :)

بہت شکریہ :)
میں تخلص کے بارے میں سوچ رہی تھی کچھ دنوں سے، آپ نے مشکل آسان کر دی :)
سارہ بشارت گیلانی — جون 14، 2013 8:03 شام

بہت شکریہ ملائکہجی :)
عمر سیف — جون 14، 2013 8:32 شام
پرائے کیوں ہوئے موسم سبھی جب
زمین اپنی ہے اپنا آسماں ہے
نہ خوں میرا گواہی دے رہا ہے
نہ تو قاتل کے دامن پر نشاں ہے
بہت خوب ۔۔
سارہ بشارت گیلانی — جون 14، 2013 8:36 شام
پرائے کیوں ہوئے موسم سبھی جب
زمین اپنی ہے اپنا آسماں ہے
نہ خوں میرا گواہی دے رہا ہے
نہ تو قاتل کے دامن پر نشاں ہے
بہت خوب ۔۔

بہت شکریہ :)
الف عین — جون 15، 2013 7:20 شام
اچھی غزل ہے۔ ب تو رات کے بارہ بج رہے ہیں۔ کل انشاء اللہ اسے پھر دیکھتا ہوں۔
الف عین — جون 16، 2013 5:47 شام
اگر دیکھو تو جلووں میں عیاں ہے​
کہ ان پردوں میں کون آخر نہاں ہے​
÷÷درست​
پرائے کیوں ہوئے موسم سبھی جب​
زمین اپنی ہے اپنا آسماں ہے​
÷÷پہلا مصرع رواں نہیں۔ ’سبھی جب‘ کی وجہ سے۔ اسے ’اگرچہ‘ یا اس قسم کے دوسرے الفاظ سے بدلنے کی سوچو۔​
نہ خوں میرا گواہی دے رہا ہے​
نہ تو قاتل کے دامن پر نشاں ہے​
۔۔دوسرا مصرع تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ ’نہ تو‘ رواں نہیں۔ ‘نہ قاتل کے ہی دامن پر نشاں ہے‘ کیسا رہے گا؟​
بدلتا ہے ہوا کا رخ کدھر کو​
گل و گلزار کیوں محوِفغاں ہے​
÷÷گل و گلزار کے ساتھ جمع کا صیغہ ہونا چاہئے۔ دونوں کو الگ الگ واحد کے طور پر برتو تو بات دوسری ہے، جیسے۔​
یہ گل، یہ باغ کیوں۔۔۔​
اور یہ آج کل مکمل غزلیں کیوں نہیں کہی جا رہی ہیں۔ تین چار اشعار کی غزلیں نہیں کہی جاتیں۔ کم از کم پانچ اشعار کہا کرو۔​
سارہ بشارت گیلانی — جون 16، 2013 7:21 شام
اگر دیکھو تو جلووں میں عیاں ہے​
کہ ان پردوں میں کون آخر نہاں ہے​
÷÷درست​
پرائے کیوں ہوئے موسم سبھی جب​
زمین اپنی ہے اپنا آسماں ہے​
÷÷پہلا مصرع رواں نہیں۔ ’سبھی جب‘ کی وجہ سے۔ اسے ’اگرچہ‘ یا اس قسم کے دوسرے الفاظ سے بدلنے کی سوچو۔​
نہ خوں میرا گواہی دے رہا ہے​
نہ تو قاتل کے دامن پر نشاں ہے​
۔۔دوسرا مصرع تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ ’نہ تو‘ رواں نہیں۔ ‘نہ قاتل کے ہی دامن پر نشاں ہے‘ کیسا رہے گا؟​
بدلتا ہے ہوا کا رخ کدھر کو​
گل و گلزار کیوں محوِفغاں ہے​
÷÷گل و گلزار کے ساتھ جمع کا صیغہ ہونا چاہئے۔ دونوں کو الگ الگ واحد کے طور پر برتو تو بات دوسری ہے، جیسے۔​
یہ گل، یہ باغ کیوں۔۔۔​
اور یہ آج کل مکمل غزلیں کیوں نہیں کہی جا رہی ہیں۔ تین چار اشعار کی غزلیں نہیں کہی جاتیں۔ کم از کم پانچ اشعار کہا کرو۔​

بہت شکریہ انکل :)
یہ والی ذرا پرانی ہے۔۔!
آج کل پانچ یا اس سے زیادہ اشعار والی غزلیں ہی لکھ رہی ہوں :)
محمد اسامہ سَرسَری — جون 17، 2013 12:56 صبح
بہت خوب!
محمد یعقوب آسی — جون 17، 2013 1:26 صبح
اگر دیکھو تو جلووں میں عیاں ہے​
کہ ان پردوں میں کون آخر نہاں ہے​
پرائے کیوں ہوئے موسم سبھی جب​
زمین اپنی ہے اپنا آسماں ہے​
نہ خوں میرا گواہی دے رہا ہے​
نہ تو قاتل کے دامن پر نشاں ہے​
بدلتا ہے ہوا کا رخ کدھر کو​
گل و گلزار کیوں محوِفغاں ہے​

الف عین صاحب کا تبصرہ اور مشورے بہت موزوں ہیں۔
تاہم مطلع میری تشفی نہیں کر رہا۔ دونوں مصرعوں کے درمیان جیسے کچھ کہنا رہ گیا ہو؟
مجموعی طور پر اچھی کوشش ہے، جاری رکھئے۔ اور ہاں! اپنے اشعار کو دیکھتی رہا کریں، کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ ایک عرصے بعد کوئی ایسا نکتہ سوجھ جاتا ہے جو آپ کے شعر کو چمکا دے۔
محمد یعقوب آسی — جون 18، 2013 7:54 صبح
آداب عرض ہے جناب الف عین

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%DA%AF%D8%B1-%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D9%88-%D8%AA%D9%88-%D8%AC%D9%84%D9%88%D9%88%DA%BA-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%B9%DB%8C%D8%A7%DA%BA-%DB%81%DB%92-%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD-%D8%AA%D9%86%D9%82%DB%8C%D8%AF-%D8%AA%D8%A8%D8%B5%D8%B1%DB%81.64890/