نوید ناظم — اپریل 2، 2018 10:02 شام
مفاعلن فعلاتن مفاعلن فعلن
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ رتجگوں میں بھلا کس لیے بسر ہوتی
شبِ ہجر کی سحر ہو نہ جاتی گر ہوتی
دل اُن پہ آ تو گیا بن گئی مگر جاں پر
انھیں بھی کاش کہ بسمل کی کچھ خبر ہوتی
حضور ہم سے نہ یوں زندگی کا پوچھیں آپ
ہمیں تو ٹھیک تھی جتنی بھی مختصر ہوتی
گرا دیا ہے رکاوٹ سمجھ کے لوگوں نے
نہیں تو آج یہ دیوار میرا گھر ہوتی
پھر اس میں کیا تھا اگر ہم بھی تھوڑا جی لیتے
کبھی تو ہم پہ بھی کچھ آپ کی نظر ہوتی
نوید ہی کو محبت نہ ہو سکی اب تک
مگر یہ طے ہے کہ ہوتی انھی سے گر ہوتی
نوید ناظم — اپریل 2، 2018 10:04 شام
محمد خلیل الرحمٰن — اپریل 3، 2018 2:30 صبح
ہماری صلاح
مطلع کے دوسرے مصرع میں شبِ کو بہت کھینچ کر ابے تُبے کی مانند باندھا ہے ، اسی طرح ہِجر کو ہِجِر باندھا ہے۔
اتنا بھی کھینچ کر نہ باندھیے کہ مصرع ہی بحر کے پیمانے سے چھلکا پڑتا ہے۔
محمد خلیل الرحمٰن — اپریل 3، 2018 2:37 صبح
آج ہی
حذیفہ انصاری بھائی نے سلیم صدیقی کی غزل شریکِ محفل کی ہے اس کا بھی مطالعہ فرمائیے۔
ہوں پارسا تیرے پہلو میں شب گزار کے بھی :: سلیم صدیقیاسی طرح انہوں نے راحت اندوری کی غزل بھی پیش فرمائی ہے
کبھی اکیلے میں مل کر جھنجوڑ دوں گا اسے ::راحت اندوری
نوید ناظم — اپریل 3، 2018 6:09 صبح
ہماری صلاح
مطلع کے دوسرے مصرع میں شبِ کو بہت کھینچ کر ابے تُبے کی مانند باندھا ہے ، اسی طرح ہِجر کو ہِجِر باندھا ہے۔
اتنا بھی کھینچ کر نہ باندھیے کہ مصرع ہی بحر کے پیمانے سے چھلکا پڑتا ہے۔
ممنون ہوں کہ آپ نے توجہ فرمائی، بہت شکریہ،
ہجر کا نادانستہ ہوا، میں تو اسے ہِجر ہی سمجھ رہا تو مگر یہ کچھ اور ہی نکلا۔۔۔

اب مطلع ملاحظہ فرمایے گا۔۔۔
یہ رتجگوں میں بھلا کس لیے بسر ہوتی
اگر کہیں جو شبِ ہجر کی سحر ہوتی
راشد ماہیؔ — اپریل 3، 2018 7:39 صبح
اے میرے یار تری باہوں میں بسر ہوتی
کہیں کبھی جو شبِ ہجراں کی سحر ہوتی
اس سے ذرا مفہوم و تغزل بہتر نہ ہو جائیں گے؟
الف عین — اپریل 3، 2018 4:58 شام
ترمیم شدہ مطلع کے ساتھ غزل درست ہے
نوید ناظم — اپریل 3، 2018 5:05 شام
ترمیم شدہ مطلع کے ساتھ غزل درست ہے
بہت شکریہ سر،
امید ہے آپ بخیر ہوں گے، کافی عرصے کے بعد آپ کی شفقت نصیب ہو رہی ہے نا

محمد خلیل الرحمٰن — اپریل 3، 2018 5:13 شام
ترمیم شدہ مطلع کے ساتھ غزل درست ہے
لیجیے ہم نے لڑی کا عنوان بھی تبدیل کردیا!!