اگر ہم با زباں ہوتے (برائے اصلاح)

Abbas Swabian — مئی 21، 2016 3:12 صبح
اگر ہم با زباں ہوتے
نہ جانے اب کہاں ہوتے
جہاں ماہر ٹہرتے ہیں
یقینا ہم وہاں ہوتے

چھو لیتے ہم سما کوبھی
اگر تیرے نشاں ہوتے
یہی ہے آرزو اپنی
ہمارے بھی بیاں ہوتے

(مقطع ابھی باقی ہے)
محمد ریحان قریشی — مئی 21، 2016 4:16 صبح
اول تو شعر لکهنے کے چند آداب ہوتے ہیں. مصرعوں کے درمیاں وقفہ یا کوئی علامت ضروری ہے.
اب آتے ہیں کلام پر تو وزن کی غلطی ایک مصرعے میں ہے.
چهو لیتے ہم سما کو بهی
اس کے علاوہ پہلا شعر درست ہے.
اگر تیرے نشاں ہوتے شاید ٹائپو ہے. تیرا ہوگا.
ماہر کدهر ٹهہرتے ہیں؟
بیاں یعنی وہ عدالت والا بیاں؟
عباد اللہ — مئی 21، 2016 4:25 صبح
بیاں یعنی وہ عدالت والا بیاں
نہیں سیاسی قائدین کی ہرزہ سرائی اور یاوہ گوئی سے بیزار ہو کر خود میں اس جوہرِ خوابیدہ کی بیداری کو محسوس کرنا اور ٹی وی اخبار میں چھپنے والے بیانات کے بارے اپنی خواہش کا اظہار کرنا مقصود ہے :D
محمد ریحان قریشی — مئی 21، 2016 4:30 صبح
نہیں سیاسی قائدین کی ہرزہ سرائی اور یاوہ گوئی سے بیزار ہو کر خود میں اس جوہرِ خوابیدہ کی بیداری کو محسوس کرنا اور ٹی وی اخبار میں چھپنے والے بیانات کے بارے اپنی خواہش کا اظہار کرنا مقصود ہے :D
یہ بھی صحیح ہے. یعنی غزل مسلسل ہے. بازباں یعنی لیڈر ہوتے. فائیو سٹار ہوٹیلز میں ٹھہرتے. انتخابی نشان ہوتا تو آسمان چھو لیتے. اور اخبارات اور ٹی وی پر ہمارے بیانات چھپتے.
عباد اللہ — مئی 21، 2016 4:34 صبح
شاعر کی رائے کا انتظار کرتے ہیں بھیا لیکن میرے خیال میں آپ ان کا مطمح نظر خوب سمجھ گئے ہیں
الف عین — مئی 21، 2016 7:12 صبح
ابھی تو یہ بھی طے ہونا باقی ہے کہ یہ دو مطلعے ہیں یا چار اشعار!!
ریحان سے متفق ہوں
شکیب — مئی 21، 2016 7:40 صبح
اگر ہم با زباں ہوتے
نہ جانے اب کہاں ہوتے
جہاں ماہر ٹہرتے ہیں
یقینا ہم وہاں ہوتے
چھو لیتے ہم سما کو بھی
اگر تیرے نشاں ہوتے
یہی ہے آرزو اپنی
ہمارے بھی بیاں ہوتے

(مقطع ابھی باقی ہے)
شکیب — مئی 21، 2016 7:51 صبح
چھو لیتے ہم سما کو بھی
چھو کا ”و“ بہت برا لگ رہا ہے گرتے ہوئے۔ بے وزن تو نہیں، جیسا کہ ریحان نے کہا ہے، لیکن ایسا وزن بھی کوئی کام کا نہیں۔ آپ خود پڑھ کر دیکھ لیں۔ چھُ لیتے ہم سما کو بھی
آپ اپنے اشعار کو پرکھا کریں کہ
کیا پڑھنے میں اچھا لگ رہا ہے؟(روانی، تعقید)
کیا خیال اچھا ہے؟ (اپنا خیال سبھی کو اچھا لگتا ہے، اپنی غزل کو دوسروں کی نظر سے دیکھا کریں)
بھرتی تو نہیں ہو رہی؟
مہمل تو نہیں کہ قاری سمجھ نہ پائے یا مفہوم ادھورا رہ جائے(میرے خیال میں آپ سب سے زیادہ اسی پر توجہ دیں)
Abbas Swabian — مئی 21، 2016 8:46 صبح
آپ سب استاد ہیں میرے اور میں ایک مبتدی پٹھان شاگرد۔ میں نے یہ کیوں لکھا۔ اور اس سے مراد کیا ہے وہ بتا رہا ہوں۔
اول تو شعر لکهنے کے چند آداب ہوتے ہیں. مصرعوں کے درمیاں وقفہ یا کوئی علامت ضروری ہے.
اب آتے ہیں کلام پر تو وزن کی غلطی ایک مصرعے میں ہے.
چهو لیتے ہم سما کو بهی
اس کے علاوہ پہلا شعر درست ہے.
اگر تیرے نشاں ہوتے شاید ٹائپو ہے. تیرا ہوگا.
ماہر کدهر ٹهہرتے ہیں؟
بیاں یعنی وہ عدالت والا بیاں؟

نہیں سیاسی قائدین کی ہرزہ سرائی اور یاوہ گوئی سے بیزار ہو کر خود میں اس جوہرِ خوابیدہ کی بیداری کو محسوس کرنا اور ٹی وی اخبار میں چھپنے والے بیانات کے بارے اپنی خواہش کا اظہار کرنا مقصود ہے :D

یہ بھی صحیح ہے. یعنی غزل مسلسل ہے. بازباں یعنی لیڈر ہوتے. فائیو سٹار ہوٹیلز میں ٹھہرتے. انتخابی نشان ہوتا تو آسمان چھو لیتے. اور اخبارات اور ٹی وی پر ہمارے بیانات چھپتے.

شاعر کی رائے کا انتظار کرتے ہیں بھیا لیکن میرے خیال میں آپ ان کا مطمح نظر خوب سمجھ گئے ہیں

ابھی تو یہ بھی طے ہونا باقی ہے کہ یہ دو مطلعے ہیں یا چار اشعار!!
ریحان سے متفق ہوں

اگر ہم با زباں ہوتے
نہ جانے اب کہاں ہوتے
جہاں ماہر ٹہرتے ہیں
یقینا ہم وہاں ہوتے
چھو لیتے ہم سما کو بھی
اگر تیرے نشاں ہوتے
یہی ہے آرزو اپنی
ہمارے بھی بیاں ہوتے

(مقطع ابھی باقی ہے)

چھو لیتے ہم سما کو بھی
چھو کا ”و“ بہت برا لگ رہا ہے گرتے ہوئے۔ بے وزن تو نہیں، جیسا کہ ریحان نے کہا ہے، لیکن ایسا وزن بھی کوئی کام کا نہیں۔ آپ خود پڑھ کر دیکھ لیں۔ چھُ لیتے ہم سما کو بھی
آپ اپنے اشعار کو پرکھا کریں کہ
کیا پڑھنے میں اچھا لگ رہا ہے؟(روانی، تعقید)
کیا خیال اچھا ہے؟ (اپنا خیال سبھی کو اچھا لگتا ہے، اپنی غزل کو دوسروں کی نظر سے دیکھا کریں)
بھرتی تو نہیں ہو رہی؟
مہمل تو نہیں کہ قاری سمجھ نہ پائے یا مفہوم ادھورا رہ جائے(میرے خیال میں آپ سب سے زیادہ اسی پر توجہ دیں)
Abbas Swabian — مئی 21، 2016 8:56 صبح
(اگر ہم با زباں ہوتے
نہ جانے اب کہاں ہوتے)
اکثر لوگ اسی وجہ سے میرا حوصلہ پست کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ میں ایک پٹھان ہوں اور مذکر مونث کی خبر نہیں تو مجھے لکھنا نہیں چاہیئے۔ تو اس شعر میں جذبات کا اظہار کرتے ہوئے میں نے کہا کہ اردو میری مادری زبان نہیں ورنا آج یوں لوگ حقارت سے نہ دیکھتے۔
(جہاں ماہر ٹہرتے ہیں
یقینا ہم وہاں ہوتے)
اہل زبان ماہرین جس مقام کو پاتے ہیں میں بھی اس مقام کو پہنچتا۔
(چھو لیتے ہم سما کوبھی
اگر تیرے نشاں ہوتے)
اگر کوئی مخلص رہنمائی کرنے والا ملتا تو ہر کوشش کرتا اس کے شاگرد بننے کا۔
(یہی ہے آرزو اپنی
ہمارے بھی بیاں ہوتے)
یہی خواہش ہے کہ کاش مجھے اردو زبان اور شعروشاعری پہ دسترس حاصل ہوتی اور لوگ مجھ کو حقارت سے نہ دیکھتے اور سنتے مجھے۔
(واضخ رہے نہ میں خود کو شاعر سمجھتا ہوں ، نہ نام و نمود کی کوئی خواہش ہے۔ بس دراصل کچھ لوگوں نے جذبات کا مزاق اڑایا تو اسی وجہ سے یہ لکھا۔)
شکیب — مئی 21، 2016 9:03 صبح
(اگر ہم با زباں ہوتے
نہ جانے اب کہاں ہوتے)اکثر لوگ اسی وجہ سے میرا حوصلہ پست کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ میں ایک پٹھان ہوں اور مذکر مونث کی خبر نہیں تو مجھے لکھنا نہیں چاہیئے۔ تو اس شعر میں جذبات کا اظہار کرتے ہوئے میں نے کہا کہ اردو میری مادری زبان نہیں ورنا آج یوں لوگ حقارت سے نہ دیکھتے۔
جو حوصلہ پست کر رہا ہو اس کی جانب دھیان دینے کی ضرورت کیا ہے؟ ہاں جو درست معنوں میں اصلاح دے رہا ہو اس کی اصلاح پر توجہ بھی دینی چاہیے۔ محفل میں کچھ لوگ مزاق اڑانے کے انداز میں غلطی کی جانب توجہ دلاتے ہیں۔۔۔ اگنور دیم۔ اور وہ بھی کچھ دل کے برے نہیں۔ اپنے اپنے مزاج کی بات ہوتی ہے۔
رہی بات اس شعر کی تو آپ نے ”با زباں“ کا لفظ غلط چنا ہے۔ اس کے معنی ہم (تمام ) یہی لے رہے تھے کہ اگر آپ کے منہ میں زبان ہوتی یا یہ کہیں کہ بولنے کا ہمت کرتے تو کہاں سے کہاں پہنچ جاتے۔
آپ نے جو مطلب اس کا بیان کیا ہے اس کے مطابق یہ شعر یوں موزوں ہو سکتا ہے۔
اگر اہلِ زباں ہوتے
نہ جانے ہم کہاں ہوتے
محمد ریحان قریشی — مئی 21، 2016 9:18 صبح
(اگر ہم با زباں ہوتے
نہ جانے اب کہاں ہوتے)

اکثر لوگ اسی وجہ سے میرا حوصلہ پست کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ میں ایک پٹھان ہوں اور مذکر مونث کی خبر نہیں تو مجھے لکھنا نہیں چاہیئے۔ تو اس شعر میں جذبات کا اظہار کرتے ہوئے میں نے کہا کہ اردو میری مادری زبان نہیں ورنا آج یوں لوگ حقارت سے نہ دیکھتے۔
(جہاں ماہر ٹہرتے ہیں
یقینا ہم وہاں ہوتے)
اہل زبان ماہرین جس مقام کو پاتے ہیں میں بھی اس مقام کو پہنچتا۔
(چھو لیتے ہم سما کوبھی
اگر تیرے نشاں ہوتے)

اگر کوئی مخلص رہنمائی کرنے والا ملتا تو ہر کوشش کرتا اس کے شاگرد بننے کا۔
(یہی ہے آرزو اپنی
ہمارے بھی بیاں ہوتے)
یہی خواہش ہے کہ کاش مجھے اردو زبان اور شعروشاعری پہ دسترس حاصل ہوتی اور لوگ مجھ کو حقارت سے نہ دیکھتے اور سنتے مجھے۔

(واضخ رہے نہ میں خود کو شاعر سمجھتا ہوں ، نہ نام و نمود کی کوئی خواہش ہے۔ بس دراصل کچھ لوگوں نے جذبات کا مزاق اڑایا تو اسی وجہ سے یہ لکھا۔)
جناب کسی بات سے بھی آپ کی دل آزاری مقصود نہیں تھی۔ اگر کوئی بات آپ کو بری لگی ہو تو معذرت خواہ ہوں۔
Abbas Swabian — مئی 21، 2016 9:21 صبح
جناب کسی بات سے بھی آپ کی دل آزاری مقصود نہیں تھی۔ اگر کوئی بات آپ کو بری لگی ہو تو معذرت خواہ ہوں۔
آپ کے کمنٹس مجھے پسند ہیں۔ آپ میرے لیے محترم ہیں۔
Abbas Swabian — مئی 21، 2016 9:23 صبح
جو حوصلہ پست کر رہا ہو اس کی جانب دھیان دینے کی ضرورت کیا ہے؟ ہاں جو درست معنوں میں اصلاح دے رہا ہو اس کی اصلاح پر توجہ بھی دینی چاہیے۔ محفل میں کچھ لوگ مزاق اڑانے کے انداز میں غلطی کی جانب توجہ دلاتے ہیں۔۔۔ اگنور دیم۔ اور وہ بھی کچھ دل کے برے نہیں۔ اپنے اپنے مزاج کی بات ہوتی ہے۔
رہی بات اس شعر کی تو آپ نے ”با زباں“ کا لفظ غلط چنا ہے۔ اس کے معنی ہم (تمام ) یہی لے رہے تھے کہ اگر آپ کے منہ میں زبان ہوتی یا یہ کہیں کہ بولنے کا ہمت کرتے تو کہاں سے کہاں پہنچ جاتے۔
آپ نے جو مطلب اس کا بیان کیا ہے اس کے مطابق یہ شعر یوں موزوں ہو سکتا ہے۔
اگر اہلِ زباں ہوتے
نہ جانے ہم کہاں ہوتے
اس پہ میں نے بہت کوشش کی مگر مجھ سے نہ بن پایا اور مجبورا اہل زبان کی جگہ بازباں لکھا۔
شکیب — مئی 21، 2016 9:28 صبح
اس پہ میں نے بہت کوشش کی مگر مجھ سے نہ بن پایا اور مجبورا اہل زبان کی جگہ بازباں لکھا۔
اساتذہ کا کلام پڑھا کریں۔(ذاتی رائے میں اقبال ، غالب)خیالات خود بخود ستھرے ہو جائئیں گے۔
عباد اللہ — مئی 21، 2016 9:30 صبح
بھیا یہ صرف آپ ہی پر موقوف نہیں
حفیظ جالندھری کو دیکھو
حفیظ اہلِ زباں کب مانتے تھے
بڑی مشکل سے منوایا گیا ہوں
Abbas Swabian — مئی 21، 2016 9:32 صبح
اچھا جی۔ بہت بہت شکریہ۔
اساتذہ کا کلام پڑھا کریں۔(ذاتی رائے میں اقبال ، غالب)خیالات خود بخود ستھرے ہو جائئیں گے۔

بھیا یہ صرف آپ ہی پر موقوف نہیں
حفیظ جالندھری کو دیکھو
حفیظ اہلِ زباں کب مانتے تھے
بڑی مشکل سے منوایا گیا ہوں
عباد اللہ — مئی 21، 2016 9:33 صبح
۔
عباد اللہ — مئی 21، 2016 9:34 صبح
برادر معذرت خواہ ہوں
اگر میرے مراسلے سے آپ کی دل آزاری ہوئی ہو
Abbas Swabian — مئی 21، 2016 9:36 صبح
برادر معذرت خواہ ہوں
اگر میرے مراسلے سے آپ کی دل آزاری ہوئی ہو
کوئی بات نہیں۔ اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%DA%AF%D8%B1-%DB%81%D9%85-%D8%A8%D8%A7-%D8%B2%D8%A8%D8%A7%DA%BA-%DB%81%D9%88%D8%AA%DB%92-%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD.90001/