اگلی غزل برائے اصلاح، رہنمائی اور مشورہ

محمد شکیل خورشید — نومبر 19، 2016 9:03 صبح

کتنا پختہ تھا یقیں ہم کو گماں سے پہلے
کیسا بے داغ تھا دل تیرے نشاں سے پہلے
اشک کچھ دیر تو بہہ لینے دو آخر ہم نے
خشک سالی بھی سہی سیلِ رواں سے پہلے
اتنے آساں تو نہ تھے رستے شہر کے تیرے
راہ میں موڑ بھی تھے تیرے مکاں سے پہلے
ایسے خوش بخت کہاں تھے کہ بہکنے پاتے
مل گئے ہم کو نصوح ،پیرِ مغاں سے پہلے
کس کو معلوم کہ وہ کاتبِ تقدیر شکیلؔ
لکھ چکا کتنا ادھم حرفِ اماں سے پہلے
الف عین — نومبر 20، 2016 4:22 صبح
اگلی غزل کا پوسٹ مارٹم!!

کتنا پختہ تھا یقیں ہم کو گماں سے پہلے
کیسا بے داغ تھا دل تیرے نشاں سے پہلے
÷÷وزن کے حساب سے درست، لیکن کچھ دو لخت ہے۔
اشک کچھ دیر تو بہہ لینے دو آخر ہم نے
خشک سالی بھی سہی سیلِ رواں سے پہلے
÷÷ بہت خوب، اچھا شعر ہے۔
اتنے آساں تو نہ تھے رستے شہر کے تیرے
راہ میں موڑ بھی تھے تیرے مکاں سے پہلے
÷÷’شہر‘ کا تلفظ ’ہ‘ پر فتح سے ہو رہا ہے، جو غلط ہے۔ بآسانی درست کیا جا سکتا ہے الفاظ بدل کر۔
جیسے
راستے شہر کے تیرے نہ تھے اتنے آسان
ایسے خوش بخت کہاں تھے کہ بہکنے پاتے
مل گئے ہم کو نصوح ،پیرِ مغاں سے پہلے
÷÷ نصوح کی ’ح‘ وزن میں نہیں آ رہی۔
کس کو معلوم کہ وہ کاتبِ تقدیر شکیل
لکھ چکا کتنا ادھم حرفِ اماں سے پہلے
÷÷ادھم اماں کا تضاد نہیں۔ یہ شور یا شرارت کے معنوں میں آتا ہے۔ ویسے ایسا برا بھی نہیں لگتا۔
محمد شکیل خورشید — نومبر 20، 2016 6:34 صبح
اگلی غزل کا پوسٹ مارٹم!!

کتنا پختہ تھا یقیں ہم کو گماں سے پہلے
کیسا بے داغ تھا دل تیرے نشاں سے پہلے
÷÷وزن کے حساب سے درست، لیکن کچھ دو لخت ہے۔
اشک کچھ دیر تو بہہ لینے دو آخر ہم نے
خشک سالی بھی سہی سیلِ رواں سے پہلے
÷÷ بہت خوب، اچھا شعر ہے۔
اتنے آساں تو نہ تھے رستے شہر کے تیرے
راہ میں موڑ بھی تھے تیرے مکاں سے پہلے
÷÷’شہر‘ کا تلفظ ’ہ‘ پر فتح سے ہو رہا ہے، جو غلط ہے۔ بآسانی درست کیا جا سکتا ہے الفاظ بدل کر۔
جیسے
راستے شہر کے تیرے نہ تھے اتنے آسان
ایسے خوش بخت کہاں تھے کہ بہکنے پاتے
مل گئے ہم کو نصوح ،پیرِ مغاں سے پہلے
÷÷ نصوح کی ’ح‘ وزن میں نہیں آ رہی۔
کس کو معلوم کہ وہ کاتبِ تقدیر شکیل
لکھ چکا کتنا ادھم حرفِ اماں سے پہلے
÷÷ادھم اماں کا تضاد نہیں۔ یہ شور یا شرارت کے معنوں میں آتا ہے۔ ویسے ایسا برا بھی نہیں لگتا۔
رہنمائی کا شکریہ،
دو لخت ہونے سے مراد کیا دونوں مصرعوں میں ربط نہ ہونا ہے؟ (اپنی سمجھ کےلئے پوچھ رہا ہوں)
مجھے شہر کے تلفظ پر ہمیشہ کنفیوزن تھی، وضاحت کا شکریہ
آپ کی نشاندہی کے مظابق تصحیح کی کوشش کروں گا جزاک اللہ
سید عاطف علی — نومبر 20، 2016 7:04 صبح
اچھی غزل ہے محمد شکیل خورشید صاحب ۔ بس اعجاز بھئی کے ارشادات پر ذرا غور کر لیجیے۔
الف عین — نومبر 20، 2016 4:38 شام
رہنمائی کا شکریہ،
دو لخت ہونے سے مراد کیا دونوں مصرعوں میں ربط نہ ہونا ہے؟ (اپنی سمجھ کےلئے پوچھ رہا ہوں)
درست سمجھے۔
محمد شکیل خورشید — نومبر 21، 2016 10:01 صبح
شکریہ جناب
محمد شکیل خورشید — نومبر 21، 2016 10:02 صبح
اچھی غزل ہے محمد شکیل خورشید صاحب ۔ بس اعجاز بھئی کے ارشادات پر ذرا غور کر لیجیے۔
عزت افزائی کا شکریہ
محمدابوعبداللہ — نومبر 21، 2016 1:37 شام
غزل کی کونسی سی قسم اگلی کہلاتی ہے؟
مزید یہ کہ یہ اردو والی اگلی ہی ہے ناں، افرنگی والی تو نہیں۔
پھر اس میں یہ بھی کہ الف بالضمہ والی اگلی تو نہیں ہے۔ ;)
محمد شکیل خورشید — نومبر 22، 2016 5:55 صبح
غزل کی کونسی سی قسم اگلی کہلاتی ہے؟
مزید یہ کہ یہ اردو والی اگلی ہی ہے ناں، افرنگی والی تو نہیں۔
پھر اس میں یہ بھی کہ الف بالضمہ والی اگلی تو نہیں ہے۔ ;)
آپ نے پہلی غزل کو درخورِاعتنا نہیں جانا ۔۔۔ اس لئے۔۔۔۔:)

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%DA%AF%D9%84%DB%8C-%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD%D8%8C-%D8%B1%DB%81%D9%86%D9%85%D8%A7%D8%A6%DB%8C-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D9%85%D8%B4%D9%88%D8%B1%DB%81.93110/