ایک آزاد نظم

Imran Niazi — دسمبر 21، 2009 6:10 شام
اسلام و علیکم !!!
اساتذہءِ محترم مجھے تو نہیں‌پتا کہ یہاں آزاد نظم کواصلاح کے لیئے پیش کرنا ٹھیک بھی ہے کہ غلط ہے،
بس لکھی تو آپ کی رائے لینا ضروری سمجھا اگر غلطی ہو گئی ہے تو پیشگی معذرت،،،

سنو ! کچھ بات کرنی ہے،
مجھے تم سے اکیلے میں،
سنو ! تم جان ہو میری
تمہیں‌کیسے بتاؤں میں ؟
سنو ! تم دور مت جانا
اکیلے مرّ ہی جاؤں گا
زمانے کی رہِ تاریک میں،
میں‌ڈرّ ہی جاؤں گا
تمہارا ساتھ ہے تو زندگی پہ ناز ہے مجھ کو
سنو ! قائم اسے رکھنا
مجھے تنہا نیں‌کرنا ،
اگر مجبور ہو جاؤ تو بس اتنا کرم کرنا
کہ جب بھی چھوڑنا چاہو
تو مجھکو زہر دے دینا
تمہا رے بن تو اچھا ہے،
بکھر کر، ٹوٹ کر، تنہا، اکیلے زندگی کی راہ پہ
دو گام چلنے سے ذرا پہلے،
تمارے قرب کی ٹھنڈی ہواؤں میں،
تری زلفوں کی چھاؤں میں، یہ سانسیں‌ختم ہو جائیں
مگر !
اچھا تو ہے جاناں !
ہمارے ساتھ ہی رہنا،
ہمارا مان بن کر تم،
ہماری جان بن کر تم،،،،،،،
فرحان دانش — دسمبر 21، 2009 6:13 شام
اچھی ہے جاناں !
خوشی — دسمبر 22، 2009 12:14 صبح
اچھی کاوش ھے نیازی جی
فاتح — دسمبر 22، 2009 12:18 شام
خوبصورت نظم ہے اور میرے خیال میں اصلاح کی ضرورت بھی نہیں ہے۔ ہاں ایک نسبتاً کم درجے کی غلطی یہ ضرور ہے کہ تمام نظم میں "تم" اور "تمھاری" کے ساتھ ایک آدھ مقامات پر "تیری" استعمال کیا ہے جو شتر گربہ کی صف میں شامل ہے۔
املا پر ضرور توجہ دیجیے۔
الف عین — دسمبر 22، 2009 4:52 شام
درست ہے عمران اور اچھی نظم ہے۔ فاتح کی بات درست ہے۔ بس ایک جگہ ’تری‘ کو ’تمہاری‘ کر دیں، درست ہو جائے گا۔
تمہاری زلفوں کی چھاؤں میں،
یہ سانسیں‌ختم ہو جائیں
مگر !
(پہلے مصرع کو میں نے دو میں توڑ دیا ہے تاکہ روانی قائم رہے۔
ثمرینہ جبین — دسمبر 22، 2009 6:09 شام
بہت خوب عمران نیازی صاحب۔
Imran Niazi — دسمبر 24، 2009 4:56 شام
بہت خوب عمران نیازی صاحب۔

بہت بہت شکریہ جی
Imran Niazi — دسمبر 24، 2009 4:59 شام

بہت شکریہ فرحان صاحب

اچھی کاوش ھے نیازی جی

نہت شکریہ خوشی جی
Imran Niazi — دسمبر 24، 2009 5:04 شام
خوبصورت نظم ہے اور میرے خیال میں اصلاح کی ضرورت بھی نہیں ہے۔ ہاں ایک نسبتاً کم درجے کی غلطی یہ ضرور ہے کہ تمام نظم میں "تم" اور "تمھاری" کے ساتھ ایک آدھ مقامات پر "تیری" استعمال کیا ہے جو شتر گربہ کی صف میں شامل ہے۔
املا پر ضرور توجہ دیجیے۔
بہت شکریہ سر !
بہت آ پکی قیمتی اصلاح و تعریف کے لیئے
درست ہے عمران اور اچھی نظم ہے۔ فاتح کی بات درست ہے۔ بس ایک جگہ ’تری‘ کو ’تمہاری‘ کر دیں، درست ہو جائے گا۔
تمہاری زلفوں کی چھاؤں میں،
یہ سانسیں‌ختم ہو جائیں
مگر !
(پہلے مصرع کو میں نے دو میں توڑ دیا ہے تاکہ روانی قائم رہے۔
مغزل — دسمبر 25، 2009 7:52 شام
بہت خوب عمران بھیا، ماشا اللہ ، اللہ کرے زورِ قلم اور زیادہ

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%DB%8C%DA%A9-%D8%A2%D8%B2%D8%A7%D8%AF-%D9%86%D8%B8%D9%85.27341/