میری سوچوں پہ جس نے حکمرانی کی
وہ بچھڑتے وقت اک نشانی دے گیا
میں اُس کو سوچوں تو آنکھیں بھر آئیں
میں آنسو روکوں، وہ روانی دے گیا
میں اُس کو یاد بھی نہ کر سکوں
میرے خوابوں کو ڈھلتی جوانی دے گیا
عجیب شرطِ وفا نبھائی اُس نے
سوکھے ہوئے پھولوں کو پانی دے گیا
اجڑے ہوئے در کو دیکھا تو یقیں آیا
وہ مجھ کو انتظار کی پریشانی دے گیا
بچھڑنا تھا تو بچھڑ جاتا
وہ کیوں قحطِ عشق کی فراوانی دے گیا
میں نے اُس سے لال گلاب مانگا تھا
وہ مجھے جلتی ہوئی رات کی رانی دے گیا
میں نئے پن کا متلاشی تھا بلال
مگر وہ ہر چیز پرانی دے گیا