ایک اور شاعر ذرا اسکا بھی حساب لگائیے

دوست — ستمبر 29، 2005 6:24 شام
ایک اور شاعر ذرا اسکا بھی حساب لگ
آداب خادم کا نام شاکر ہے ایک شاعر کو اصلاح لیتے دیکھا تو دل کیا ہم اپنے آپ کو بھی آزمائیں کچھ پلے ہے بھی یہ نہی ایک غزل(میرے خیال میں ) حاضرَ خدمت ہے بتایے اردو شاعری کے معیار پر پورا اترتی ہے یا ہم ایسے ہی اتراتے پھر رہے ہیں۔
----------------------------------------------------------------
لکھنے والا جانے کس کس کرب سے گزرتا ہے
اور لوگ کہتے ہیں شاعر مکر کرتا ہے
تمہارے جانے کے بعد بھی دل ویراں نہیں ہوا
روز یاں اک نیا قافلہءِدرد ٹھہرتا ہے
جب آنچل انکے چہرے سے اٹھکھیلیاں کرتا ہے
یوں جیسے چاند بادلوں میں ڈوبتا ابھرتا ہے
محبت روٹھ جاتی ہے یا اپنے دکھ دیتے ہیں
یوں ہی تو نہیں کوئی ٹوٹتا بکھرتا ہے
وہ لکھنا چاہے مگر لفظ روٹھ جاتے ہیں
نہ پوچھو شاکرپہ جب یہ عذاب اترتا ہے
------------------------------------------------------------
اساتذہ کی رائے کا انتظار رہے گا اور مزید کیا میں بہتر ہو سکتا ہوں یا۔۔۔۔۔۔۔ :(
اللہ حافظ :x
الف عین — اکتوبر 2، 2005 8:13 صبح
انشاءاللہ جلد ہی آپ کو مطلع کروں گا۔
الف عین — اکتوبر 10، 2005 6:28 صبح
اصلاح حاضر ہے
اصلاح حاضر ہے شاکر صاحب
کسے پتہ کہ وہ کس کرب سے گزرتا ہے
مگر یہ کہتے ہیں شاعر تو مکر کرتا ہے
وہ اپنے لوگ ہی دکھ دیں کہ روٹھ جائے پیار
وگرنہ یوں ہی کوئی ٹوٹتا بکھرتا ہے؟؟
ترے بغیر بھی دل سونا کیوں رہے کہ یہاں
دکھوں کا قافلہ ہر پل نیا ٹھہرتا ہے
یہ ان کے چہرے سے اٹھکیلیاں کرے آنچل
کہ چاند بادلوں میں ڈوبتا ابھرتا ہے
جو لکھنا چاہے بھی شاکر تو روٹھ جائیں لفظ
نہ پوچھئے کہ یہ کیسا عذاب اترتا ہے
دوست — اکتوبر 10، 2005 11:14 شام
محترم
کیا خیال ہے شاعری ہمارے بس کا روگ ہے یا نہیں۔ اگر آپ ناراض نہ ہو تو یہاں آپ سے اصلاح لیتے رہا کریں۔
وسلام
دوست — نومبر 19، 2005 12:37 صبح
اعجاز اختر صاحب آپ شائد اب کل آٰن لائن ہوں پھر بھی ایک عدد غزل پیش خدمت ہے ذرا اس کی اصلاح فرما دیجئے۔
تیرے شہر میں جو دیوانے آئے ہیں
نہ سمجھ،حالِ دل سنانے آئے ہیں۔
تیرے بغیر بھی کٹ سکتی ہے زندگی
تجھے بس اتنا بتانے آئے ہیں
تلوار اٹھا اے یزیدَ وقت کہ حسینی
حق گوئی پہ سر کٹانے آئے ہیں
رقیب بھی تیرا ہمراز نہ بن سکا
زبانِ خلق پہ تیرے فسانے آئے ہیں
اک بات کہوں گر مانو،ان سے ہوجاؤ
جو دنیا میں درد بٹانے آئے ہیں
اعجاز اختر صاحب غزل حاضر خدمت ہے مجھے پورا یقین ہے اس کا ایک بھی شعر بحر میں نہیں ہوگا اور سچ پوچھیے تو لاکھ سر مارنے کے باوجود میں نہیں جان سکا یہ بحر کیا چیزہے اور شعر اس میں رکھنے کا کیا طریقہ ہے ۔ مہر بانی اس پر تھوڑی روشنی ڈال دیجئے گا۔
وسلام
الف عین — نومبر 21، 2005 1:59 شام
جی ہاں، اب پیر کی صبح (ہیوسٹن وقت کے مطابق) حاضر ہوں۔ جلد ہی اصلاح کرنے کی کوشش کروں گا۔
الف عین — نومبر 24، 2005 4:42 شام
شاکر، آپ کے کچھ اشعار کے معانی تو میری ناقص عقل میں سمجھ میں نہیں آ سکے۔ بہر حال کوشش کی ہے کہ آپ کے الفاظ کو الٹ پھیر کر بحر میں لے آؤں۔ تو عرض ہے:
تیرے شہر میں جو دیوانے آئے ہیں
مت سمجھو،کچھ حال سنانے آئے ہیں۔
تیرے بغیر بھی کٹ سکتے ہین یہ دن رات
تجھ کو بس اتنا بتلانے آئے ہیں
پھر ہم پرتلوار یزیدَ وقت اٹھا
ہم پھر حق پر سرکٹوانے آئے ہیں
کیوں تیرا ہمراز بنے تیرا ہی رقیب
خلق کے مونہہ پر تیرے فسانے آئے ہیں
اتنا کہوں گر مانو،ان سے ہوجاؤ
جو دنیا میں درد بٹانے آئے ہیں
یاد نہیں کہ میں نے عروض کے بارے میں عقیل ملک کے اردو لائف ڈاٹ کام کے مضموں کے بارے میں لکھا ہے یا نہیں۔ اس مضموں کو میں 'سمت'میں دینے کی اجازت مانگ رہا ہوں۔
دوست — نومبر 27، 2005 8:57 شام
آداب
میں بامعنی شعر لکھنے کی کوشش کرتا ہوں ۔ مگر کیا کروں ابھی کچا ہوں کہیں گڑبڑ ہو جاتی ہے۔ سچ پوچھیں تو ابھی تک صرف قافیے ردیف ملانا آیا ہے۔
dilshadnazmi — فروری 15، 2006 9:21 شام
اصلاح حاضر ہے
اعجاز اختر نے کہا:
اصلاح حاضر ہے شاکر صاحب
کسے پتہ کہ وہ کس کرب سے گزرتا ہے
مگر یہ کہتے ہیں شاعر تو مکر کرتا ہے
وہ اپنے لوگ ہی دکھ دیں کہ روٹھ جائے پیار
وگرنہ یوں ہی کوئی ٹوٹتا بکھرتا ہے؟؟
ترے بغیر بھی دل سونا کیوں رہے کہ یہاں
دکھوں کا قافلہ ہر پل نیا ٹھہرتا ہے
یہ ان کے چہرے سے اٹھکیلیاں کرے آنچل
کہ چاند بادلوں میں ڈوبتا ابھرتا ہے
جو لکھنا چاہے بھی شاکر تو روٹھ جائیں لفظ
نہ پوچھئے کہ یہ کیسا عذاب اترتا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نہ پوچھئے ÷ کہ یہ کیسا ÷ عذا ب ترتا ہے۔ ( الف) اُ ۔ کا کیا ہوگا؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟۔ کیا الف عروضی تکنیک سے گرائی جا سکتی ہے؟؟
وزن سے خارج تو نہیں ہو رہا ہے مسرع ۔آپ دیکھیں
نہ پوچھئے کہ یہ کیسا عذاب اُترتا ہے۔؟؟؟؟؟
مفاعلن ÷ فعلاتن ÷ مفاعلن ÷ فعلن
الف عین — فروری 16، 2006 5:21 صبح
تقطیع میں یہ ’بُترتا‘ آئے گا۔ یقیناً الف یہاں گرایا جا سکتا ہے۔
دوست — فروری 19، 2006 5:08 صبح
دلشاد نظمی صاحب اور اعجاز اختر صاحب آپ میں‌سے کوئی صاحب مجھے ان فعلاتن مفعولن وغیرہ لاگو کرنے کا طریقہ بتائے گا۔
تقطیع تو کچھ کچھ سمجھتا ہوں‌میں۔ مگر کبھی کرنے کی کوشش نہیں‌فرمائی۔ مگر یہ فعلاتن وغیرہ میری سمجھ سے باہر ہیں۔ اسی لیے میں‌اب غزل لکھتے ہوئے ڈرتا ہوں۔ کہ بدنما ہوگی۔
مہربانی فرما کر مجھے اپنی شاگردی میں لے لیجیے میں‌کبھی شاعری شروع نہ کرتا مگر پتہ نہیں‌تھا کہ ایسے راہ خار زار بھی آتے ہیں‌ اس میں۔
الف عین — مارچ 2، 2006 5:39 شام
شاکر۔ پہلے بھی یہ مضمون دیکھا تھا مگر بھول گیا۔ ابھی ابھی پھر یہ ملا ہے تو اطلاع دے رہا ہوں کہ تقطیع کے بارے میں ایک مضمون یہاں موجود ہے:
http://www.urdulife.com/adbi_ufaq/nasar.cgi?alm2_1_7_2
آج ہی بھٹکتے ہوئے اردو سینٹر میں تمھاری نظم ’ابھی‘ دیکھی۔ نظم اچھی ہے لیکن وہی کہ متتوع بحروں میں اور بغیر بحر کے ہے۔
مجھے استاد بننے کا شوق تو نہیں لیکن اردو سے متعلق ہر خدمت کے لئے حاضر ہوں۔
مغزل — نومبر 23، 2009 10:45 صبح
شکریہ بابا جانی ۔
ابن سعید — نومبر 28، 2009 9:12 شام
میں یہی کہوں کہ اپنے شاکر بھائی تو ۔۔۔۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%DB%8C%DA%A9-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%B4%D8%A7%D8%B9%D8%B1-%D8%B0%D8%B1%D8%A7-%D8%A7%D8%B3%DA%A9%D8%A7-%D8%A8%DA%BE%DB%8C-%D8%AD%D8%B3%D8%A7%D8%A8-%D9%84%DA%AF%D8%A7%D8%A6%DB%8C%DB%92.352/