شاموں کی دل لگی نے تو برباد کردیا
مجھ کو معالجِ دلِ برباد چاہیئے
تشریح: اُس کا اصل نام تو شمیم تھا، مگر گاؤں والے اسے شاموں، شاموں کہا کرتے تھے۔ اور تھا تو وہ گاؤں کی ڈسپنسری میں کمپاؤنڈر، مگرڈاکٹر کی عدم دستیابی کے سبب سب لوگ اسی سے اپنا علاج کرواتے تھے۔ جب شاعر گاؤں کی مٹیارن کو دل دے بیٹھا اور اسے ”دل کا عارضہ“ لاحق ہوگیا تو اس کے گھر والوں نے علاج کے لئے ”ڈاکٹر شاموں“ سے رجوع کیا۔ شاموں نے تو کبھی کسی ہارٹ اسپیشلسٹ کے ساتھ کام نہیں تھا، لہٰذا اس کے علاج نے شاعر کی ”مرضِ دل لگی“ کو برباد کرکے رکھ دیا۔ مصرعہ ثانی میں شاعراس صورتحال پر طنزاً کہتا ہے کہ مجھے بھی شامو جیسا ہی معالج چاہئے تھا جو دل کو ”برباد“ کر سکے۔
برادرم
الف عین ! اُمید ہے آپ کو اب شعر اور شاعر کا مفہوم سمجھ میں آگیا ہوگا