ایک اور غزل برائے اصلاح جناب محترم الف عین اور محمد یعقوب آسی سر اور دیگر اساتذہ کی خدمت میں۔

محمد عسکری — جنوری 17، 2016 5:35 شام
ﺷﻮﺥ ﻣﺪﻣﺴﺖ ﺗﯿﺮﯼ ﺣﺴﻦِ ﺟﻔﺎﮐﺎﺭ ﺗﯿﺮﺍ .
ﮐﺴﮑﻮ ﺣﺎﺻﻞ ﮨﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﺟﺎﻥ ﺑﮭﻼ ﭘﯿﺎﺭ ﺗﯿﺮﺍ .
ﺟﺎﻧﮯ ﯾﮧ ﮐﯿﺴﯽ ﻟﮕﻦ ﺗﺠﮭﺴﮯ ﻟﮕﯽ ﺟﺎﻥِ ﺟﮩﺎﮞ .
ﻟﺬﺕِ ﺷﮭﺪ ﮨﻤﯿﮟ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ ﮨﺮ ﻭﺍﺭ ﺗﯿﺮﺍ .
ﮐﺘﻨﮯ ﺍﺷﮑﻮﮞ ﺳﮯ ﺳﮯ ﻭﺿﻮ ﮐﺮ ﭼﮑﮯ ﺗﺐ ﺟﺎﮐﮯ ﮐﮩﯿﮟ .
ﺧﻮﺍﺏ ﻣﯿﮟ ﮬﻤﮑﻮ ﻣﯿﺴّﺮ ﮨﻮﺍ ﺩﯾﺪﺍﺭ ﺗﯿﺮﺍ .
ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﺣﺴﺮﺕ ﮨﮯ ﮐﮧ ﮨﻢ ﺑﮭﯽ ﺑﻨﮯ ﻣﻘﺘﻮﻝ ﺗﯿﺮﮮ .
ﻣﻘﺘﻞِ ﺣﺴﻦ ﺍﮔﺮ ﮨﻮ ﭼﮑﺎ ﺗﯿﺎﺭ ﺗﯿﺮﺍ .
ﭼﯿﻦ ﺍﺳﻮﻗﺖ ﮨﻤﯿﮟ ﺁﺋﮯ ﮔﺎ ﺍﺋﮯ ﺟﺎﻥِ ﺑﮩﺎﺭ .
ﺧﻨﺠﺮِ ﺩﯾﺪ ﺟﻮ ﺍِﺱ ﻗﻠﺐ ﺳﮯ ﮨﻮ ﭘﺎﺭ ﺗﯿﺮﺍ .
ﺍﯾﮏ ﭘﻞ ﮐﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﭩﺘﯽ ﺭﺥِ ﺯﯾﺒﺎ ﺳﮯ ﻧﻈﺮ .
ﭼﺸﻢِ ﻋﺎﺭﻑ ﮐﻮ ﺳﮑﻮﮞ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ ﺳﻨﮕﺎﺭ ﺗﯿﺮﺍ .
--------- ﻣﺤﻤﺪ ﻋﺴﮑﺮﯼ ‏( ﻋﺎﺭﻑ ‏) -------
ادب دوست — جنوری 17، 2016 5:53 شام
بہت اچھی کوشش ہے بہت داد قبول کیجئے
اصلاح کیلئے اساتذہ کا انتظار کیجئے۔
محمد عسکری — جنوری 17، 2016 6:00 شام
شکریا جناب آپکا بہت بہت اس جاہل کا کلام پسند کیا۔
محمد عسکری — جنوری 17، 2016 6:02 شام
5-6 غزل کھ چکا ہوں ابھی تک۔ اور کئ نعت وغیرہ بھی ہیں۔ انشااللہ سارے کلام کی اصلاح اس فورم سے حاصل کرنے کی کوشش کروںگا۔
الف عین — جنوری 18، 2016 3:51 صبح
ہ ہے۔چاہئے کہ ’تیرا‘۔ محمد یعقوب آسی ’میرا‘ ہونا چاہئے کہ ’تیرا‘ٖ
بحر و اوزان میں تو کوئی مسئلہ نہیں ہے شاید۔ البتہ بیانیہ میں جھٹکے لگتے ہیں۔ صرف تحریری غلطی و یہ ہے کہ شاید ہر جگہ ’تری‘ اور ’ترا‘ کا محل ہے۔ لیکن ’تیرا‘تیری‘ لکھا گیا ہے۔ شاعری میں اس کا خیال رکھا جانا ضروری ہے۔
ﺷﻮﺥ ﻣﺪﻣﺴﺖ ﺗﯿﺮﯼ ﺣﺴﻦِ ﺟﻔﺎﮐﺎﺭ ﺗﯿﺮﺍ .
حسن تو جفا جار ہے مان لیا، لیکن شوخ اور مد مست کیا ہے؟ اس کا کچھ ذکر ہی نہیں
ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﺣﺴﺮﺕ ﮨﮯ ﮐﮧ ﮨﻢ ﺑﮭﯽ ﺑﻨﮯ ﻣﻘﺘﻮﻝ ﺗﯿﺮﮮ .
ﻣﻘﺘﻞِ ﺣﺴﻦ ﺍﮔﺮ ﮨﻮ ﭼﮑﺎ ﺗﯿﺎﺭ ﺗﯿﺮﺍ .
’ہم بھی بنیں‘ ہونا چاہئے۔ البتہ مقتل ’میرا‘ ہونا چاہئے یا ’تیرا‘۔ محمد یعقوب آسی،@محمد وارث
سنگار، ’سِن گار‘ تقطیع ہوتا ہے۔ درست ’سنگھار‘ ہے اور اس میں نون معلنہ نہیں، غنہ ہے​
محمد عسکری — جنوری 18، 2016 6:18 صبح
جناب کچھ ٹائپنگ مسٹیک ہے جیسےبنیں کہ جگہ بنے ہے۔ اور شوخ مدمست کو کیا شوخِیء مست لکھ سکتے ہیں؟؟؟؟
محمد عسکری — جنوری 18، 2016 6:20 صبح
اور مینے لغت میں دیکھا تو سنگار اور سنگھار دونوں لفظ ملتے ہیں جنکے معنی ایک سے ہیں۔۔مطلب ذیبتن یا آرائش۔
محمد عسکری — جنوری 18، 2016 7:04 صبح
یا مستیء شوخ استعمال کریں؟؟؟
محمد عسکری — جنوری 18، 2016 7:06 صبح
شوخ مدمست کی جگہ اگر مستیء شوخ تیری حسنِ جفاکار تیرا استعمال کریں تو کیسا رہےگا؟؟؟
محمد عسکری — جنوری 18، 2016 9:36 صبح
تحریری غلطی بتانے کے لئے بہت شکریا جناب آپکا۔۔۔۔۔
الف عین — جنوری 19، 2016 7:13 صبح
شوخیاں مست تری
کیا جا سکتا ہے
محمد عسکری — جنوری 19، 2016 10:40 صبح
شکریا جناب۔۔۔۔۔۔
محمد عسکری — جنوری 19، 2016 10:40 صبح
شکریا جناب۔۔۔۔۔۔
شکیب — جنوری 19، 2016 11:21 صبح
لبتہ مقتل ’میرا‘ ہونا چاہئے یا ’تیرا‘
تیرا درست ہی ہے۔ مقتل تو وہ ”میرے“ لیے ہے اور اس کا ہے۔
حسن کے لفظ سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔
خیالِ من۔
محمد عسکری — جنوری 19، 2016 5:02 شام
شکریا :)جناب شکیب صاحب۔۔۔۔
محمد یعقوب آسی — فروری 9، 2016 1:58 شام
ہ ہے۔چاہئے کہ ’تیرا‘۔ محمد یعقوب آسی ’میرا‘ ہونا چاہئے کہ ’تیرا‘ٖ
بحر و اوزان میں تو کوئی مسئلہ نہیں ہے شاید۔ البتہ بیانیہ میں جھٹکے لگتے ہیں۔ صرف تحریری غلطی و یہ ہے کہ شاید ہر جگہ ’تری‘ اور ’ترا‘ کا محل ہے۔ لیکن ’تیرا‘تیری‘ لکھا گیا ہے۔ شاعری میں اس کا خیال رکھا جانا ضروری ہے۔
ﺷﻮﺥ ﻣﺪﻣﺴﺖ ﺗﯿﺮﯼ ﺣﺴﻦِ ﺟﻔﺎﮐﺎﺭ ﺗﯿﺮﺍ .
حسن تو جفا جار ہے مان لیا، لیکن شوخ اور مد مست کیا ہے؟ اس کا کچھ ذکر ہی نہیں
ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﺣﺴﺮﺕ ﮨﮯ ﮐﮧ ﮨﻢ ﺑﮭﯽ ﺑﻨﮯ ﻣﻘﺘﻮﻝ ﺗﯿﺮﮮ .
ﻣﻘﺘﻞِ ﺣﺴﻦ ﺍﮔﺮ ﮨﻮ ﭼﮑﺎ ﺗﯿﺎﺭ ﺗﯿﺮﺍ .
’ہم بھی بنیں‘ ہونا چاہئے۔ البتہ مقتل ’میرا‘ ہونا چاہئے یا ’تیرا‘۔ محمد یعقوب آسی،@محمد وارث
سنگار، ’سِن گار‘ تقطیع ہوتا ہے۔ درست ’سنگھار‘ ہے اور اس میں نون معلنہ نہیں، غنہ ہے​
یہ ٹائپ کی غلطیاں نہیں ہیں محترم! ہمارے بہت سارے آزاد خیال "اہلِ قلم" زبان ہی کو درخورِ اعتنا نہیں سمجھتے۔ ہجوں کا کیا ہے!
رہی بات شعر کی، تو صاحب! جمالیات اب قصہء پارینہ ہو چکی۔ معانی سمجھ میں آتے ہیں؟ بس ٹھیک ہے! یہی کچھ ہے۔ کلامِ منظوم کو شعر تسلیم کر لیا گیا۔
سو، میں نے تو کچھ بھی عرض کرنا چھوڑ دیا۔
سعیدالرحمن سعید — فروری 9، 2016 2:48 شام
قبلہ آسی صاحب آپ تو استاد الاساتذہ ہیں۔ گو اب تو کوچہء سخن کی صحیح راہ دکھانے والوں کا مذاق بنتا ہے۔ اور ادب کے بے ادب میدانِ ہنگامہء بے لگام کے شہواروں کی پذیرائی ہوتی ہے۔لیکن پھر بھی ہم جیسے مبتدی آپکی رہنمائی اور شفقت کے طلبگار رہتے ہیں۔
محمد یعقوب آسی — فروری 9، 2016 5:09 شام
قبلہ آسی صاحب آپ تو استاد الاساتذہ ہیں۔ گو اب تو کوچہء سخن کی صحیح راہ دکھانے والوں کا مذاق بنتا ہے۔ اور ادب کے بے ادب میدانِ ہنگامہء بے لگام کے شہواروں کی پذیرائی ہوتی ہے۔لیکن پھر بھی ہم جیسے مبتدی آپکی رہنمائی اور شفقت کے طلبگار رہتے ہیں۔
کیا استادی اور کیا استادوں کی استادی، جنابِ سعید! بہر کیف! توجہ کے لئے ممنون ہوں۔
کسی قابل جانئے تو میرے بلاگ کا ایک چکر لگا لیجئے گا، شاید کچھ کام کی باتیں مل ہی جائیں۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%DB%8C%DA%A9-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD-%D8%AC%D9%86%D8%A7%D8%A8-%D9%85%D8%AD%D8%AA%D8%B1%D9%85-%D8%A7%D9%84%D9%81-%D8%B9%DB%8C%D9%86-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D9%85%D8%AD%D9%85%D8%AF-%DB%8C%D8%B9%D9%82%D9%88%D8%A8-%D8%A2%D8%B3%DB%8C-%D8%B3%D8%B1-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%AF%DB%8C%DA%AF%D8%B1-%D8%A7%D8%B3%D8%A7%D8%AA%D8%B0%DB%81-%DA%A9%DB%8C-%D8%AE%D8%AF%D9%85%D8%AA-%D9%85%DB%8C%DA%BA%DB%94.87270/