محمد شکیل خورشید — نومبر 22، 2016 11:22 صبح
حیرتوں کا شمار کیا کرنا
عقل پر اعتبار کیا کرنا
مسکراہٹ سجائے لیتے ہیں
درد کو آشکار کیا کرنا
اک تعلق نبھے، غنیمت ہے
اور یہ پیار و یار کیا کرنا
جان حاضر ہے نقد میں لے لو
دوستوں سے ادھار کیا کرنا
اس کا ہی نام ، ذکر اس کا شکیلؔ
دوسرا کار و بار کیا کرنا
الف عین — نومبر 22، 2016 2:30 شام
خوب ہے غزل۔ اصلاح کی ضرورت شاید نہیں۔
فاخر رضا — نومبر 22، 2016 2:32 شام
سپر بھئی واہ واہ
نایاب — نومبر 22، 2016 2:46 شام
واہہہہہہہہہہہ
بہت خوب
بہت سی دعاؤں بھری داد
بہت دعائیں
محمد شکیل خورشید — نومبر 23، 2016 4:54 صبح
خوب ہے غزل۔ اصلاح کی ضرورت شاید نہیں۔
جزاک اللہ سر، اس سے بڑی اعزاز کی بات میرے لیئے نہیں ہو سکتی،
محمد شکیل خورشید — نومبر 23، 2016 9:41 صبح
واہہہہہہہہہہہ
بہت خوب
بہت سی دعاؤں بھری داد
بہت دعائیں
جزاک اللہ
اکمل زیدی — نومبر 23، 2016 10:47 صبح
اک تعلق نبھے، غنیمت ہے
اور یہ پیار و یار کیا کرنا
خوب ہے ۔ ۔
ڈاکٹرعامر شہزاد — نومبر 23، 2016 11:33 صبح
جان حاضر ہے نقد میں لے لو
دوستوں سے ادھار کیا کرنا
بہت زبردست اور لاجواب
محمداحمد — نومبر 23، 2016 11:46 صبح
بہت خوب شکیل صاحب!
خوش رہیے۔
لاریب مرزا — نومبر 23، 2016 2:39 شام
بہت خوب!!

کاشف اسرار احمد — نومبر 23، 2016 4:38 شام
ماشا اللہ خوب غزل ہے ! واہہہہہہہہہ