ایک تازہ غزل،'' ڈوبتا جا رہا ہے من دیکھو''

محمد اظہر نذیر — اپریل 25، 2012 4:21 شام
ڈوبتا جارہا ہے من، دیکھو
ہے شکستہ مرا بدن، دیکھو
کوئی گُل چیں یہاں سے گزرا ہے
اُجڑا اُجڑا سا ہے چمن دیکھو
ہاں، گُھٹن ہے، چَہَار سو لیکن
چل رہی ہے ابھی پَوَن دیکھو
آگ بھڑکے گی ایک دن لازم
میرے سینے میں ہے اگن، دیکھو
ان کی گفتار پر نہیں جانا
ان کا کردار، ان کا فن دیکھو
چیر ڈالے گی گھور تاریکی
روشنی کی کہیں کرن دیکھو
مجھ کو اظہر قریب لگتی ہے
اب قیامت، ذرا زمن دیکھو
الف عین — اپریل 26، 2012 4:50 شام
دیکھتا ہوں بھائی، تھوڑا انتظار۔۔۔۔
محمد اظہر نذیر — مئی 2، 2012 4:50 شام
کچھ تبدیلیاں
ڈوبتا جارہا ہے من، دیکھو
ہے شکستہ مرا بدن، دیکھو
کوئی گُل چیں یہاں سے گزرا ہے
اُجڑا اُجڑا سا ہے چمن دیکھو
ہاں، گُھٹن ہے، چَہَار سو لیکن
چل رہی ہے ابھی پَوَن دیکھو
آگ بھڑکے گی ایک دن لازم
میرے سینے میں ہے اگن، دیکھو
ان کی گفتار پر نہیں جانا
ان کا کردار، ان کا فن دیکھو
چیر ڈالے جو گھور تاریکی
روشنی کی کہیں کرن دیکھو
باغ اُجڑا، خبر کسے یارو
باغباں خود میں ہے مگن دیکھو
شکل پہ اُس کی مر نہیں اظہر
چال دیکھو، ذرا چلن دیکھو
الف عین — مئی 2، 2012 6:02 شام
ڈوبتا جارہا ہے من، دیکھو
ہے شکستہ مرا بدن، دیکھو
// شعر دو لخت لگ رہا ہے۔ من ڈوبنے کا بدن کی شکستگی سے تعلق؟
کوئی گُل چیں یہاں سے گزرا ہے
اُجڑا اُجڑا سا ہے چمن دیکھو
//درست
ہاں، گُھٹن ہے، چَہَار سو لیکن
چل رہی ہے ابھی پَوَن دیکھو
//ویسے درست ہے، لیکن فیکچوال غلطی ضرور ہے، پون چل رہی ہو گی تو گھٹن کیوں؟
آگ بھڑکے گی ایک دن لازم
میرے سینے میں ہے اگن، دیکھو
//درست۔ اگرچہ ’اگن‘ قافیے کا استعمال مجھے پسند نہیں۔ ایسے الفاظ بالی ووڈ کے گانوں کی یاد دلاتے ہیں۔
ان کی گفتار پر نہیں جانا
ان کا کردار، ان کا فن دیکھو
//درست
چیر ڈالے گی گھور تاریکی
روشنی کی کہیں کرن دیکھو
//درست
مجھ کو اظہر قریب لگتی ہے
اب قیامت، ذرا زمن دیکھو
//’زمن‘ سے مراد؟ شعر سمجھ میں نہیں آیا۔
محمد اظہر نذیر — مئی 3، 2012 8:28 شام
یہ تو ممکن نہیں کہ من دیکھو
آدمی کا مگر سخن دیکھو
کوئی گُل چیں یہاں سے گزرا ہے
اُجڑا اُجڑا سا ہے چمن دیکھو
آگ بھڑکے گی ایک دن لازم
میرے سینے میں ہے اگن، دیکھو
ان کی گفتار پر نہیں جانا
ان کا کردار، ان کا فن دیکھو
عشق کا کام ڈوب جانا ہے
حسن والوں کا حسن ظن دیکھو
موت سے کیا مجھے ڈراو گے
باندھ رکھا تو ہے کفن دیکھو
ہاں، گُھٹن ہے، چَہَار سو اظہر
چل پڑے گی ابھی پَوَن دیکھو
محمد اظہر نذیر — مئی 4، 2012 8:03 شام
استاد محترم جن اشعار پر جہاں آپ کو اعتراض تھا تبدیلیاں کر دی ہیں​
یہ تو ممکن نہیں کہ من دیکھو
آدمی کا مگر سخن دیکھو
کوئی گُل چیں یہاں سے گزرا ہے
اُجڑا اُجڑا سا ہے چمن دیکھو
آگ بھڑکے گی ایک دن لازم
میرے سینے میں ہے اگن، دیکھو
ان کی گفتار پر نہیں جانا
ان کا کردار، ان کا فن دیکھو
عشق کا کام ڈوب جانا ہے
حسن والوں کا حسن ظن دیکھو
موت سے کیا مجھے ڈراو گے
باندھ رکھا تو ہے کفن دیکھو
ہاں، گُھٹن ہے، چَہَار سو اظہر
چل پڑے گی ابھی پَوَن دیکھو

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%DB%8C%DA%A9-%D8%AA%D8%A7%D8%B2%DB%81-%D8%BA%D8%B2%D9%84%D8%8C-%DA%88%D9%88%D8%A8%D8%AA%D8%A7-%D8%AC%D8%A7-%D8%B1%DB%81%D8%A7-%DB%81%DB%92-%D9%85%D9%86-%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D9%88.51107/