یہ جو اپنے ہیں، پراٴے ہوتے
زخم کب کے ہی بھر آٴے ہوتے
ماشاء الله
اچھی غزل ہے ، خیالات کی گہرائی چھوٹی بحر کی مشکل ، اپنی جگہ -
محترم جناب الف عین کی راے پر خصوصی توجہ دی جائے تو چار چاند لگ جائیں گے -
اکرم احمد صاحب نے مطلع کی اچھی تشریح کی ہے - انہی مطالب تک نا چیز کی رسائی تھی - مگرمحترم جناب الف عین کی بات اپنی جگہ بلکل درست ہے - اسی پر عمل کیا جائے -
غیر تھے پھول تو کانٹے اپنے
پھول جوڑے میں سجاٴے ہوتے
یہ شعر اکرم احمد صاحب کی تشریح کہ باوجود واضح نہیں ہو سکا -
غیر ہی کام جو آٴے آخر
وہ ہی پلکوں پہ بٹھاٴے ہوتے
//یہ بھی مفہوم طلب ہے
محترم جناب الف عین، مجھ پر یہاں تک کھل سکا ، ہم (شاعر) زندگی کے مشکل ترین مرحلے سے گزر رہے تھے تب یہ ہمارے اپنے ہمارے کسی کام نہیں آئے - کاش ہم نے ان کے بجاے ان غیروں سے بنا کے رکھتے جو وقت پڑنے پر آج ہمارے کام آے ہیں -