فارسی کی شیرینی سے کام و دہن بہ غایت شیریں ہو گئے ہیں، لہٰذا زبان کا ذائقہ تبدیل کرنے کے لیے مندرجۂ ذیل تُرکی بیت کا منظوم اردو ترجمہ کرنے کی کوشش کر رہا ہوں۔
خوف ہے جنّت میں بھی عاشق تڑپتے ہی رہیں
خوف ہے جنّت میں بھی عاشق رہیں گے مُضطرِب
خوف ہے جنّت میں بھی عاشق رہیں آشُفتہ/شوریدہ دل/حال
خُلد میں بھی عاشقوں کا دل رہے گا مُضطرِب
خُلد میں بھی عاشقوں کا دل تڑپتا ہی رہے
مصرعِ دوم کی ممکنہ صورتیں:
سیکھ لے گر شیوۂ خوبانِ تبریزی کو حُور (شہر کا نام مُبدّل)
سیکھ لے گر شیوۂ خوبانِ استانبول حُور
لُطفاً رائے دیجیے کہ ان مصرعوں میں معنائی و صوتی لحاظ سے سب سے بہتر کون سے ہیں۔ یا اگر کہیں اصلاح کی ضرورت ہے تو اُس سے بھی از روئے مہربانی آگاہ کر دیجیے۔
اردو منظوم ترجمے کو تُرکی بیت کا ہم وزن رکھا گیا ہے۔
بحرِ فکر میں غوّاصی کے بعد مصرعِ اول کے لیے یہ چند گوہرِ مُراد حاصل ہوئے ہیں:
خوف ہے جنّت میں بھی عاشق تڑپتے ہی رہیں
خوف ہے جنّت میں بھی عاشق رہیں گے مُضطرِب
خوف ہے جنّت میں بھی عاشق رہیں آشُفتہ/شوریدہ دل/حال
خُلد میں بھی عاشقوں کا دل رہے گا مُضطرِب
خُلد میں بھی عاشقوں کا دل تڑپتا ہی رہے
مصرعِ دوم کی ممکنہ صورتیں:
سیکھ لے گر شیوۂ خوبانِ تبریزی کو حُور (شہر کا نام مُبدّل)
سیکھ لے گر شیوۂ خوبانِ استانبول حُور
لُطفاً رائے دیجیے کہ ان مصرعوں میں معنائی و صوتی لحاظ سے سب سے بہتر کون سے ہیں۔ یا اگر کہیں اصلاح کی ضرورت ہے تو اُس سے بھی از روئے مہربانی آگاہ کر دیجیے۔
اردو منظوم ترجمے کو تُرکی بیت کا ہم وزن رکھا گیا ہے۔