منذر رضا — اکتوبر 12، 2018 10:21 صبح
السلام علیکم!!
اساتذہ سے ایک سوال ہے۔۔۔۔
کیا مثنوی ہر بحر میں کہی جا سکتی ہے۔۔۔۔
یا مخصوص اوزان ہیں
الف عین
محمد وارث
محمد عدنان اکبری نقیبی
محمد تابش صدیقی
یاسر شاہ
سید عاطف علی — اکتوبر 12، 2018 10:42 صبح
مثنوی کے لیے کوئی خاص وزن یا بحر مخصوص نہیں ۔
میر حسن کی سحر البیان کی بحر ۔فعولن فعولن فعولن فعول ۔ہے
دیا شنکر نسیم کی گلزار نسیم کی بحر ۔مفعول مفاعلن فعولن ۔ہے۔
دونوں مثنویاں زبان و بیان کا شاہکار ہیں ۔
منذر رضا — اکتوبر 12، 2018 10:44 صبح
سید عاطف علی یعنی بحر مضارع میں لکھ سکتے ہیں؟؟؟
سید عاطف علی — اکتوبر 12، 2018 10:49 صبح
سید عاطف علی
یعنی بحر مضارع میں لکھ سکتے ہیں؟؟؟
ضرور ۔کیوں نہیں ۔
"مثنوی مولوی معنوی " بھی دیکھیں ۔ فاعلاتن فاعلاتن فاعلات پر ہے۔
منذر رضا — اکتوبر 12، 2018 2:03 شام
منذر رضا — اکتوبر 12، 2018 2:29 شام
ایک اور بھی سوال ہے
سید عاطف علی
محمد وارث
محمد تابش صدیقی
الف عین
@ یاسر شاہ
محمد عدنان اکبری نقیبی کیا فعل فعول فعل بحر ٹھیک ہے؟
سید عاطف علی — اکتوبر 12، 2018 3:37 شام
عروض والے تو کوئی شاید نام تجویز کر ہی ڈالیں گے ۔ تاہم جتنا وہ نام اجنبی ہوگا اس سے کہیں زیادہ اجنبی یہ بحر ہوگی ۔ لبتہ نرسری کے بچوں کی نظم کے لیے ٹھیک رہے شاید۔
یہ میری رائے ہے فقط۔
محمد تابش صدیقی — اکتوبر 12، 2018 4:12 شام
منذر رضا — اکتوبر 12، 2018 4:14 شام
عروض والے تو کوئی شاید نام تجویز کر ہی ڈالیں گے ۔ تاہم جتنا وہ نام اجنبی ہوگا اس سے کہیں زیادہ اجنبی یہ بحر ہوگی ۔ لبتہ نرسری کے بچوں کی نظم کے لیے ٹھیک رہے شاید۔

یہ میری رائے ہے فقط۔
☺☺
بندے نے بحر ہذا میں طبع آزمائی کی ہے۔۔۔۔
ملاحظہ کیجے۔۔۔۔
جلوے دکھا رہے ہیں
دل میں سما رہے ہیں
عشق کی مے پلا کر
اپنا بنا رہے ہیں
روئے حسیں دکھا کر
مجھ کو ستا رہے ہیں
رندوں سنو کہ وہ آج
نغمہ سنا رہے ہیں
سید عاطف علی — اکتوبر 12، 2018 4:18 شام
☺☺
بندے نے بحر ہذا میں طبع آزمائی کی ہے۔۔۔۔
ملاحظہ کیجے۔۔۔۔
جلوے دکھا رہے ہیں
دل میں سما رہے ہیں
عشق کی مے پلا کر
اپنا بنا رہے ہیں
روئے حسیں دکھا کر
مجھ کو ستا رہے ہیں
رندوں سنو کہ وہ آج
نغمہ سنا رہے ہیں
اس کی بحر تو " فعلن مفاعلاتن " ہے ۔
البتہ عشق والا مصرع بحر میں نہیں ہے۔ مے عشق کی پلا کر ۔ اس طرح ہوسکتا ہے۔
منذر رضا — اکتوبر 12، 2018 4:20 شام
اس کی بحر تو " فعلن مفاعلاتن " ہے ۔
البتہ عشق والا مصرع بحر میں نہیں ہے۔ مے عشق کی پلا کر ۔ اس طرح ہوسکتا ہے۔
بندہ تصحیح کے لیے شکرگزار ہے۔۔۔۔۔۔۔
محمد ریحان قریشی — اکتوبر 12، 2018 5:06 شام
قدیم شاعری میں مثنوی کے لیے غالباً سات اوزان مخصوص رہے ہیں۔ مثالوں سمیت یادداشت سے لکھ رہا ہوں اس لیے اغلاط کا احتمال موجود ہے:
1۔ فعولن فعولن فعولن فعل(متقارب مثمن محذوف)
شاہنامۂ فردوسی (فردوسی طوسی)، ابرِ گہر بار(غالب)
2۔ مفعول مفاعلن فعولن (ہزج مسدس اخرب مقبوض محذوف)
لیلیٰ و مجنون (نظامی گنجوی)
3۔ فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مسدس محذوف)
مثنوی مولوی معنوی(مولانا روم)، منطق الطیر( عطارنیشاپوری)
4۔ مفتعلن مفتعلن فاعلن(سریع مطوی مکسوف)
مخزن الاسرار(نظامی گنجوی)
5۔ مفاعیلن مفاعیلن فعولن(ہزج مسدس محذوف)
یوسف و زلیخا(مولانا جامی)
6۔ فاعلاتن مفاعلن فعِلن(خفیف مسدس مخبون)
ہفت پیکر(نظامی گنجوی)، بادِ مخالف(غالب)
7۔ فاعلاتن فعِلاتن فعِلن(رمل مسدس مخبون محذوف)
مثال نہیں ملی۔
مریم افتخار — اکتوبر 12، 2018 5:09 شام
☺☺
بندے نے بحر ہذا میں طبع آزمائی کی ہے۔۔۔۔
ملاحظہ کیجے۔۔۔۔
جلوے دکھا رہے ہیں
دل میں سما رہے ہیں
عشق کی مے پلا کر
اپنا بنا رہے ہیں
روئے حسیں دکھا کر
مجھ کو ستا رہے ہیں
رندوں سنو کہ وہ آج
نغمہ سنا رہے ہیں
'رندوں' کیوں لکھا گیا ہے؟ شاید رندو ہونا چاہئیے.
الف عین — اکتوبر 13، 2018 7:22 صبح
جو اشعار دیے گئے ہیں ان سے تو معلوم نہیں ہوتا کہ یہ مثنوی کے ہیں
منذر رضا — اکتوبر 13، 2018 8:15 صبح
حضور
الف عین صاحب
بجا فرمایا۔۔۔۔
مثنوی علیحدہ ہے۔۔۔۔۔۔
یہ تو غزل کہنے کی کوشش ہے۔۔۔۔
الف عین — اکتوبر 14، 2018 7:03 صبح
جلوے دکھا رہے ہیں
دل میں سما رہے ہیں
اوزان درست لیکن محض تک بندی محسوس ہوتی ہے
عشق کی مے پلا کر
اپنا بنا رہے ہیں
پہلا مصرع بحر سے خارج 'مے عشق کی پلا کر' کیا جا سکتا ہے
روئے حسیں دکھا کر
مجھ کو ستا رہے ہیں
درست
رندوں سنو کہ وہ آج
نغمہ سنا رہے ہیں
مے خانے میں نغمے سنائے جاتے ہیں؟
منذر رضا — اکتوبر 21، 2018 3:51 شام
جلوے دکھا رہے ہیں
دل میں سما رہے ہیں
اوزان درست لیکن محض تک بندی محسوس ہوتی ہے
عشق کی مے پلا کر
اپنا بنا رہے ہیں
پہلا مصرع بحر سے خارج 'مے عشق کی پلا کر' کیا جا سکتا ہے
روئے حسیں دکھا کر
مجھ کو ستا رہے ہیں
درست
رندوں سنو کہ وہ آج
نغمہ سنا رہے ہیں
مے خانے میں نغمے سنائے جاتے ہیں؟
حضور والا
بجا فرمایا
تاہم جگر کا شعر ہے
آ ہی گیا ایک مستِ شباب
شیشہ بدست و نغمہ بلب
اس لیے وہ شعر کہا۔۔۔۔۔
اب جو آپ فرمائیں۔۔۔۔۔
سید عاطف علی — اکتوبر 21، 2018 6:15 شام
آ ہی گیا ایک مستِ شباب
شیشہ بدست و نغمہ بلب
یہ شعر اس طرح ہے۔
آ ہی گیا اک مست شباب
شیشہ بدست و نغمہ بلب
الف عین — اکتوبر 22، 2018 10:06 صبح
ساقی کے گاتے ہوئے شراب لانے کی بات کہی گئی ہے جگر کے شعر میں، محض نغمے کی بات نہیں
منذر رضا — اکتوبر 22، 2018 10:43 صبح
ساقی کے گاتے ہوئے شراب لانے کی بات کہی گئی ہے جگر کے شعر میں، محض نغمے کی بات نہیں
الف عین صاحب
رہنمائی کے لیے بندہ شکر گزار ہے۔۔۔
آیندہ خیال رکھوں گا۔۔۔۔۔۔۔