ایک سوال

محمد فائق — جنوری 30، 2018 9:33 صبح
کیا نہ کو دو حرفی باندھنا عیب ہے یا باندھ سکتے ہیں؟
اگر نہ کو دو حرفی باندھنا عیب نہ ہو تو دو حرفی نہ کس طرح لکھا جائے گا اس طرح (نا) یا پھر (نہ) اسی طرح؟
نہ سنا اس نے توجہ سے فسانا دل کا
زندگی گزری ، مگر درد نہ جانا دل کا
پیر نصیر
بقدرِ پیمانۂ تخیّل سرور ہر دل میں ہے خودی کا
اگر نہ ہو یہ فریبِ پیہم تو دَم نکل جائے آدمی کا
علامہ جمیل مظہری
خوش نہ آیا ہمیں جیے جانا
لمحے لمحے پہ بار تھے ہم تو
جون ایلیا
کیا ان اشعار میں نہ دو حرفی باندھا گیا ہے؟
الف عین سر
محمد وارث صاحب
محمد ریحان قریشی صاحب /USER]
محمد تابش صدیقی — جنوری 30، 2018 9:40 صبح
نہ کو دو حرفی باندھنے سے گریز کرنا چاہیے۔
ان اشعار میں ایک حرفی ہی باندھا گیا ہے۔
نا اور نہ دو الگ لفظ ہیں، ایک دوسرے کا متبادل نہیں۔
نہ کے دو حرفی استعمال کے لیے اردو شاعری میں نے مستعمل رہا ہے۔
محمد فائق — جنوری 30، 2018 9:47 صبح
@
نہ کو دو حرفی باندھنے سے گریز کرنا چاہیے۔
ان اشعار میں ایک حرفی ہی باندھا گیا ہے۔
نا اور نہ دو الگ لفظ ہیں، ایک دوسرے کا متبادل نہیں۔
نہ کے دو حرفی استعمال کے لیے اردو شاعری میں نے مستعمل رہا ہے۔
بھائی نہ دو حرفی باندھا گیا ہے یا ایک حرفی کیسے پتہ چلتا ہے؟
محمد تابش صدیقی — جنوری 30، 2018 9:48 صبح
@
بھائی نہ دو حرفی باندھا گیا ہے یا ایک حرفی کیسے پتہ چلتا ہے؟
شعر کی بحر کے مطابق تقطیع سے
محمد وارث — جنوری 30، 2018 10:11 صبح
کیا نہ کو دو حرفی باندھنا عیب ہے یا باندھ سکتے ہیں؟
اگر نہ کو دو حرفی باندھنا عیب نہ ہو تو دو حرفی نہ کس طرح لکھا جائے گا اس طرح (نا) یا پھر (نہ) اسی طرح؟
نہ سنا اس نے توجہ سے فسانا دل کا
زندگی گزری ، مگر درد نہ جانا دل کا
پیر نصیر
بقدرِ پیمانۂ تخیّل سرور ہر دل میں ہے خودی کا
اگر نہ ہو یہ فریبِ پیہم تو دَم نکل جائے آدمی کا
علامہ جمیل مظہری
خوش نہ آیا ہمیں جیے جانا
لمحے لمحے پہ بار تھے ہم تو
جون ایلیا
کیا ان اشعار میں نہ دو حرفی باندھا گیا ہے؟
الف عین سر
محمد وارث صاحب
محمد ریحان قریشی صاحب /USER]
عام طور پر یہی لگتا ہے کہ بعض جگہ 'نہ' کو دو حرفی یعنی فع باندھا گیا ہے جیسا کہ پیر نصیر کا پہلا ہی شعر، لیکن ایسا نہیں ہے۔ مذکورہ شعر کی بحر فاعلاتن فعلاتن فعلاتن فعلن ہے اور اس بحر میں فعلاتن فعلاتن فعلاتن فعلن وزن بھی جائز ہے، پس پہلے مصرعے کا وزن فعلاتن فعلاتن فعلاتن فعلن اور دوسرے کا فاعلاتن فعلاتن فعلاتن فعلن ہے سو نہ دو حرفی نہیں ہے بلکہ یک حرفی ہی ہے اور ایسی لاتعداد مثالیں اردو شاعری میں مل جاتی ہیں۔
باقی شعروں میں تو 'نہ' اپنی جگہ پر ہے یعنی بحر کے مطابق یک حرفی باندھا گیا ہے۔
عرفان سعید — جنوری 30، 2018 10:21 صبح
عام طور پر یہی لگتا ہے کہ بعض جگہ 'نہ' کو دو حرفی یعنی فع باندھا گیا ہے جیسا کہ پیر نصیر کا پہلا ہی شعر، لیکن ایسا نہیں ہے۔ مذکورہ شعر کی بحر فاعلاتن فعلاتن فعلاتن فعلن ہے اور اس بحر میں فعلاتن فعلاتن فعلاتن فعلن وزن بھی جائز ہے، پس پہلے مصرعے کا وزن فعلاتن فعلاتن فعلاتن فعلن اور دوسرے کا فاعلاتن فعلاتن فعلاتن فعلن ہے سو نہ دو حرفی نہیں ہے بلکہ یک حرفی ہی ہے اور ایسی لاتعداد مثالیں اردو شاعری میں مل جاتی ہیں۔
باقی شعروں میں تو 'نہ' اپنی جگہ پر ہے یعنی بحر کے مطابق یک حرفی باندھا گیا ہے۔
جناب محمد وارث بھائی کا میدان میں آنا تھا کہ محفل کی وراثت میں اضافہ ہو گیا۔
محمد فائق — جنوری 30، 2018 11:58 صبح
عام طور پر یہی لگتا ہے کہ بعض جگہ 'نہ' کو دو حرفی یعنی فع باندھا گیا ہے جیسا کہ پیر نصیر کا پہلا ہی شعر، لیکن ایسا نہیں ہے۔ مذکورہ شعر کی بحر فاعلاتن فعلاتن فعلاتن فعلن ہے اور اس بحر میں فعلاتن فعلاتن فعلاتن فعلن وزن بھی جائز ہے، پس پہلے مصرعے کا وزن فعلاتن فعلاتن فعلاتن فعلن اور دوسرے کا فاعلاتن فعلاتن فعلاتن فعلن ہے سو نہ دو حرفی نہیں ہے بلکہ یک حرفی ہی ہے اور ایسی لاتعداد مثالیں اردو شاعری میں مل جاتی ہیں۔
باقی شعروں میں تو 'نہ' اپنی جگہ پر ہے یعنی بحر کے مطابق یک حرفی باندھا گیا ہے۔
شکریہ سر وضاحت کے ساتھ سمجھانے کے لیے❤
توقیر عالم — فروری 3، 2018 11:21 صبح
ہائے اب تو لگتا شعر ہی ضائع کرنا ہو گا
تمام احباب کا شکریہ راہنمائی کے لیے
آصف اعوان — اپریل 22، 2020 11:15 صبح
لفظ نہ کو اساتذہ نے یک حرفی ہی باندھا ہے، مگر کہیں ایک آدھ جگہ پر دو حرفی بھی ملتا ہے۔ عصر حاضر کے بعض شعرا دو حرفی بھی باندھتے ہیں۔ جن میں عمار یاسر مگسی شامل ہیں

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%DB%8C%DA%A9-%D8%B3%D9%88%D8%A7%D9%84.99965/